بے رحم سیاست
سیاست عبادت کے درجے میں آتی ہے مگر جب سیاست فکر، نظریے اور خلق خدا کی فلاح و بہبود کے مقدس دائرے سے نکل کر صرف اقتدار کی ہوس، ذاتی انا اور سیاسی عناد پورا کرنے کا ذریعہ بن جائے تو یہ اس دنیا ملک و ملت کے ساتھ عوام کے لیے مثل جہنم اور عذاب بن جاتا ہے اور اس کا ایندھن سب سے پہلے ملک کی معصوم اور بے لوث جوان نسل بنتی ہے۔ پاکستان کی کوئی بڑی سیاسی جماعت اس سے مبرا نہیں سب اس حمام میں ننگے ہیں مگر تحریک انصاف کے سیاست میں وارد ہونے سے جس طرح نسل نو کے جذبات سے کھیلنا شروع کیا گیا اور سیاسی خودکش بمبار تیار کیے گئے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
ہم اپنے متعدد کالموں میں لکھ چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کی قیادت کی شبانہ روز محنت اور منظم حکمتِ عملی کے نتیجے میں پڑھا لکھا اور بظاہر مہذب نظر آنے والا ایک مخصوص طبقہ ذہن سازی کے نتیجے میں بدزبانی، بدتمیزی اور بدلحاظی کی تمام حدیں عبور کر چکا ہے۔
ہر سیاسی جماعت نے اپنے اپنے انداز میں نوجوانوں کو اخلاقی و معاشرتی اقدار سے دور کرنے کی کوشش کی مگر پی ٹی آئی نے ایک ایسی نسل تیار کی جو عمران خان کے سیاسی مخالفین کو اپناحریف نہیں بلکہ قابلِ نفرت اور دائم دشمن سمجھتی ہے۔ یہ برین واشنگ اور فکری گمراہی ایک دن میں پیدا نہیں ہوئی یہ 15 سال کی ذہن سازی کا نتیجہ ہے۔ اس کو پروان اس فریب کارانہ ماحول میں چڑھایا گیا جہاں معصوم بچوں تک کو اپنی سیاسی خواہشات کی تسکین کا ایندھن بنانا شروع کیا گیا۔ ہم نے ایک کالم میں یہ تلخ حقیقت بھی تحریر کی تھی کہ برین واشنگ میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔
ایوان اقتدار سے نکلنے کے بعد عمران خان نے جب سوشل میڈیا پر وائرل بچوں سے ملنا شروع کیا، تو کئی والدین بھی اس دوڑ میں ساری حدود کراس گئے،اپنے معصوم بچوں کو ایسے خوشامدی ڈائیلاگ اور مکالمے یاد کرا کر کیمرے کے سامنے لاتے رہے جو شرعی اور اخلاقی طور پر قابل گرفت ہوتی تھی مگر اس طرح وہ عمران خان کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے تھے جو سب سے زیادہ انوکھی اور خوشامدی بات کرتا وہ اپنے مشن میں اتنا ہی کامیاب ٹھہرتا۔یہاں تک کہ ایک سابق کھلاڑی اور سیاستدان کو مرشد کا لقب دے دیا گیا۔ اس طرح موقع پرست اور خوشامدی والدین نے اپنے بچوں کو اپنے مرشد عمران خان سے ملاقات کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا اور بعد میں وہی کلپ وائرل ہوجاتے جو دوسروں کے لیے ترغیب کا باعث بنتے تھے۔
معصوم بچے تو غیر سیاسی ہوتے ہیں مگر بہت گرے ہوئے انداز میں سیاست میں استعمال ہونا شروع ہوگئے۔ 28مئی 2023 کو شائع ہونے والے اپنے کالم "عمران دار فدائین -حصہ دوم" میں لکھا تھا کہ ایوانِ اقتدار سے نکلنے کے پہلے دن سے عمران خان مسلسل اپنے کارکنوں، مداحوں اور فینز کی برین واشنگ کر رہے ہیں۔ ان کے دماغ میں یہ بات بٹھائی گئی کہ "میں ریاستِ مدینہ بنانے کے قریب تھا لیکن سازش کرکے مجھے اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ یہ لوگ مجھے گرفتار کر کے مارنا چاہتے ہیں"۔ وہ وقفے وقفے سے اپنی تقاریر میں کہتے آئے کہ "شاید یہ میری آخری تقریر ہو اور اس کے بعد میں مارا جاؤں، مگر آپ لوگوں نے جہاد جاری رکھنا ہے"۔ اپنے ورکرز اور فینز کے سامنے مسلسل یہ راگ الاپتے رہے۔ جب ان کی گرفتاری عمل میں آئی تو فوراً سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات وائرل کیے گئے جن میں عجیب وغریب طریقوں سے عمران خان پر تشدد اور ان کو نقصان پہنچانے کے شک کا اظہار کیا جانے لگا، تاکہ کارکنوں میں اشتعال اور بغاوت کے جذبات کو بھڑکایا جا سکے۔
اس خونی اور بے رحم سیاسی ماحول کا انتہائی دردناک اور عبرت ناک نقشہ 5 دسمبر 2024 کو اپنے کالم "گمشدہ شہدا اور نامعلوم زخمی" میں کھینچا تھا" تحریک انصاف نے اپنے بیانیے اور رویوں کے ذریعے معاشرتی اقدار و اخلاقیات کو جس بے دردی سے تار تار کیا ہے، اس کی مثال ملکی تاریخ میں نہیں ملتی۔ بزرگوں کا احترام، اختلافِ رائے کا پاس، زبان کی شائستگی، حیا اور باہمی رواداری جیسی اعلیٰ اسلامی و قومی اقدار کو سیاسی بغض اور ہٹ دھرمی کی قبا میں لپیٹ کر دفن کر دیا گیا۔ بدتمیزی، گالی گلوچ اور نازیبا القابات کو سیاسی بیانیے کا بنیادی حصہ بنایا گیا اور مخالفین کی ذاتی زندگیوں پر حملے کرنے سے لے کر ریاستی اداروں کو سرِعام تذلیل کا نشانہ بنانے کو بہادری کا معیار قرار دیا گیا۔ سیاست کو خدمت کی بجائے ایک غلیظ سیاسی جنگ کا روپ دے کر نوجوانوں کے دلوں میں ریاست اور اس کے دفاعی ضامنوں کے خلاف شدید نفرت کا بیج بویا گیا۔
اس گھناؤنے کھیل کا دائرہ صرف ملکی حدود تک محدود نہیں رہا بلکہ بیرونِ ملک بیٹھے سوشل میڈیا بریگیڈ کو ایک منظم اور موثر ہتھیار کے طور پر تاحال استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ تارکینِ وطن جو خود تو مغربی دنیا کی پرسکون، محفوظ اور آئینی فضاؤں میں بیٹھ کر پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں، یہاں کے معصوم بچوں اور غریب کارکنوں کے دل و دماغ میں اپنی ہی ریاست، ملکی سلامتی کے ضامن اداروں اور قانون نافذ کرنے والے جوانوں کے خلاف اس حد تک زہر بھر دیا گیا کہ وہ اپنے ہی ملک کو آگ لگانے اور اپنوں کا خون بہانے پر تیار ہو گئے۔
اس برین واشنگ کے نتیجے میں ہوسِ اقتدار اور اخلاقی انحطاط کا سب سے عبرت ناک اور سیاہ ترین باب 9 مئی کے واقعات کی صورت میں سامنے آیا، جہاں سیاسی جنونیت نے ریاست کی حرمت، قومی وقار اور تمام تر سرخ لکیروں کو کھلم کھلا پامال کیا۔ دفاعی تنصیبات پر منظم حملے، شہدا اور غازیوں کی یادگاروں کی بے حرمتی اور ریاستی املاک کو خاکستر کرنا کوئی سیاسی احتجاج نہیں بلکہ ریاست کے وجود اور اس کے وقار پر براہِ راست، منظم و مستحکم حملہ تھا۔ سزا و جزا کے نظام میں مصلحتوں کی وجہ سے ان عناصر کے حوصلے اس حد تک بڑھ گئے کہ حساس ترین مقامات پر چڑھائی کو فتح سے تعبیر کیا جانے لگا۔
چند رو قبل راولپنڈی کے مال روڈ پر سیکیورٹی فورسز کی پٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ کا بزدلانہ اور خونخوار واقعہ اسی مسلسل اشتعال انگیزی، فکری گمراہی اور زہریلی برین واشنگ کا تسلسل ہے۔ جب ایک شخص اپنے ساتھ پارٹی پرچم، سیاسی مواد اور زہریلی ویڈیوز لے کر ریاست کے سیکیورٹی اہلکاروں پر گولیاں چلاتا ہے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ تشدد،بغاوت اور قانون شکنی کا یہ وائرس کس حد تک نوجوانوں کے اعصاب پر سوار ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ محض ایک انفرادی فعل نہیں بلکہ اس بیانیے کا لازمی نتیجہ ہے جو طویل عرصے سے ذہنوں میں زہر گھول رہا ہے لیکن اس پوری خونی اور بے رحم سیاست کا سب سے دردناک، گھناؤنا اور عبرت ناک پہلو وہ ہے جب اس سیاسی قربانی کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔
جس نوجوان نے اپنے رہنما کے ہر ایک حکم کو حرفِ آخر سمجھا، جس نے اس کی ایک پکار پر اپنا مستقبل، اپنی آزادی اور اپنی جان تک داؤ پر لگا دی، جب وہی نوجوان قانون کے شکنجے میں آتا ہے یا موقع پر مارا جاتا ہے تو اس کے یہی سیاسی آقا لمحوں میں اپنے ہاتھ دھو لیتے ہیں۔ ایک پریس کانفرنس کے ذریعے سالہا سال کی قربانی اور تعلق سے صاف انکار کر دیا جاتا ہے اور اسے یا تو "ایجنٹ"، "شرپسند" یا "غیر متعلقہ فرد" یا ذہنی مریض قرار دے کر لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے۔
یہ ہے پاکستانی سیاست کا مکروہ اصلی اور بھیانک چہرہ جہاں کارکن اور نوجوان صرف ایک استعمال ہونے والی شے ہیں۔ جب تک کام آئیں، ایندھن کی طرح استعمال کرو، اور جب مصیبت پڑے تو انھی کو تمام تر تباہی کا ذمے دار ٹھہرا کر آگے نکل جاؤ۔ پاکستان کی نوجوان نسل کو اب اس تلخ حقیقت کو گہرائی سے سمجھنا ہوگا کہ ریاست اور اس کے ادارے ہی ان کی اصل پناہ گاہ اور آیندہ نسلوں کی ضامن ہیں۔ انھیں کسی کی شخصیت پرستی، جھوٹے خوابوں اور اقتدار کی ہوس کا ایندھن بننے سے اب مکمل اور صاف انکار کر دینا چاہیے۔