ایمان مزاری کیس:’سب کو بےنقاب ہونے دیں، سسٹم ٹھیک چل رہا ہے یا نہیں، ہمیں اسطرف نہ لیکر جائیں‘

ہم یہیں ہیں، بے فکر رہیں ہم غائب نہیں ہو رہے، ہمیں وہ بات کرنے کے لیے مجبور نہ کریں جو ہم کہنا نہیں چاہتے

سپریم کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کی اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ سسٹم کو پورا ایکسپوز ہونے دیں۔سسٹم سے کیس غائب ہوسکتا ہے، ہم نہیں، ہم یہاں موجود ہیں۔

سپریم کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔دورانِ سماعت جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چھٹیاں کب تک ہیں؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ 6 ستمبر سے باضابطہ کام کا آغاز کرے گی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ سزا معطلی کی اپیلیں قابلِ سماعت نہیں ہیں۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ ناقابلِ سماعت ہونے کا قانون میں کہاں لکھا ہے؟

وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے دو ہفتے میں سزا معطلی کی اپیلوں پر فیصلے کا حکم دیا تھا، تاہم سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا اپنا سسٹم ہے، اسی کے مطابق مقدمات مقرر ہوتے ہیں۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سسٹم پر ہم سے کوئی رائے نہ ہی لیں تو بہتر ہے.فیصل صدیقی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اچانک 8 ستمبر کے لیے کیس مقرر ہوگیا ہے، جب بھی سپریم کورٹ فیصلہ کرنے لگتی ہے، ہائیکورٹ میں کیس مقرر ہوجاتا ہے۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ فیصل صدیقی صاحب، سسٹم کو پورا ایکسپوز ہونے دیں۔فیصل صدیقی نے کہا کہ ابھی کاز لسٹ نہیں آئی، ایسا نہ ہو کہ سسٹم سے کیس غائب ہوجائے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ سسٹم سے کیس غائب ہوسکتا ہے، ہم نہیں، پریشان نہ ہوں، ہم یہاں موجود ہیں، بشرطِ زندگی آئندہ بھی ہوں گے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ سزا معطلی پر فیصلہ کرنے کا ہی کہا گیا ہے، عدالت درخواست خارج بھی کر سکتی ہے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کردی۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ آئندہ سماعت پر یا تو ہم فیصلہ کر رہے ہوں گے یا درخواست گزار کیس واپس لے رہے ہوں گے۔

Load Next Story