ایران کا معاشی گھیراؤ امریکا کی اقتصادی دہشت گردی ہے، عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی—ایران کا کہنا ہے کہ عمان کے ساتھ معاہدہ ہرمز کھولنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کا معاشی گھیراؤ دراصل امریکا کی اقتصادی دہشت گردی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی دراصل ’اقتصادی دہشتگردی‘ ہے جو نہ صرف ایران بلکہ عالمی معیشت اور ممالک کی خودمختاری کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں امریکی قومی قرضہ تقریباً 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا ذکر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اپنی داخلی معاشی مشکلات سے توجہ ہٹانے کے لیے ایران کے خلاف جارحانہ معاشی اقدامات کو ہوا دے رہا ہے۔
The so-called “Economic D-Day” is a diversion from America's own crisis: unprecedented debt & surging interest costs.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) August 20, 2026
Doubling down on failed policies will only bring further defeat—and enmity of Iranians. US economic terrorism threatens global economy and sovereignty worldwide pic.twitter.com/Qj5SzVBjvX
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کے خلاف ’معاشی اعلانِ جنگ‘ کوئی نئی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک ایسی پالیسی کا تسلسل ہے جو ماضی میں بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ ناکام پالیسیوں کو مزید سخت بنانا مزید ناکامیوں ہی کو جنم دے گا۔
واضح رہے کہ عباس عراقچی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف غیر معمولی معاشی ج نگ کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک تہران کے ساتھ مالی، تجارتی یا لاجسٹک تعاون جاری رکھیں گے انہیں بھی سخت اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس نئی حکمت عملی کو مبصرین ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید تنہا کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب تہران کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیاں بین الاقوامی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور عالمی سپلائی چینز پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔