فیکٹ چیک: کیا اسلام آباد ایئرپورٹ پر پولیس نے مسافروں پر تشدد کیا؟ وائرل ویڈیو کا سچ جانیے
سوشل میڈیا پر اسلام آباد ایئرپورٹ سے منسوب پولیس تشدد کی ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پولیس مسافروں پر تشدد کر رہی ہے۔
وائرل ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کو ایک کمرے میں موجود شخص پر مبینہ طور پر تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا کہ یہ واقعہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیش آیا جہاں پولیس نے مسافروں کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی اور تشدد کیا۔
24 سیکنڈ کی یہ ویڈیو 11 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی جسے ایک لاکھ 54 ہزار سے زائد مرتبہ دیکھا گیا جبکہ ہزاروں صارفین نے اسے لائک بھی کیا۔ بعدازاں یہی فوٹیج دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی پھیل گئی۔
The model police of #Islamabad is always available to receive or bid farewell to guests at the Capital's international airport.
Who will explain this act of barbarism @ICT_Police @dcislamabad @ccislamabad ⁉️ Is this a professionalism ⁉️@CMShehbaz pic.twitter.com/qaTcTBTJja
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ویڈیو کا اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اکتوبر 2025 میں اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پیش آنے والے واقعے کی ہے۔
اس واقعے میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے صحافیوں پر تشدد کیا گیا تھا جس کی خبر اور فوٹیج اس وقت میڈیا پر بھی سامنے آئی تھی۔
نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال نے بھی تصدیق کی کہ زیر گردش فوٹیج 2025 میں نیشنل پریس کلب میں پیش آنے والے واقعے کی ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر ویڈیو کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر مسافروں کے ساتھ پولیس تشدد کے حالیہ واقعے کے طور پر پیش کرنا گمراہ کن اور غلط ہے۔