پاکستان کی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ائیر لائنز کو آسمان سے زمین پر گرا دیا
پاکستان کی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ایئرلائنز کے لیے فضائی آپریشن جاری رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔ دو ارب ڈالر سے زائد کے مالی نقصان کے بعد بھارت کی پانچ بڑی ایئرلائنز، جن میں ایئر انڈیا، انڈیگو، ایئر انڈیا ایکسپریس، اکاسا ایئر اور اسپائس جیٹ شامل ہیں، کے لیے برطانیہ، یورپ، امریکا اور دیگر ممالک کے لیے فضائی آپریشن جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔
پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے باعث ہفتہ وار تقریباً 800 پروازیں متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ روزانہ پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے والی تقریباً 115 پروازیں یا تو بند ہوگئی ہیں یا انہیں متبادل اور طویل فضائی روٹس استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔
طویل متبادل روٹس کے باعث بھارتی ایئرلائنز کے آپریشنل اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ ری فیولنگ، لینڈنگ، ٹیک آف اور پارکنگ چارجز کی مد میں اضافی ادائیگیاں کرنا پڑ رہی ہیں، جبکہ طویل سفر کے باعث فضائی عملے کی اضافی ڈیوٹی کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کو پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی اور ورلڈ فلائٹ انفارمیشن سے ملنے والے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان نے 24 اپریل 2025 کو پہلگام واقعے کے بعد بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کردی تھی۔ یہ پابندی آئندہ ماہ 24 ستمبر 2026 تک برقرار ہے، جبکہ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کی جانب سے بھارتی ایئرلائنز کے لیے پابندی میں ہر ماہ توسیع کی جاتی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق پابندی کے باعث تقریباً 800 ہفتہ وار پروازیں متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ شمالی بھارت کے ایئرپورٹس سے مغربی ممالک کے لیے تقریباً 400 ہفتہ وار پروازیں معمول کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتی تھیں۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ایئرپورٹ دہلی کا اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہے، جہاں سے ہفتہ وار تقریباً 640 پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ ان پروازوں میں امریکا، برطانیہ، فرینکفرٹ، استنبول اور الماتی جانے والی پروازیں شامل ہیں۔
بھارتی ایئرلائنز میں سب سے زیادہ نقصان ایئر انڈیا کو ہوا، جس کے بعد انڈیگو، ایئر انڈیا ایکسپریس، اکاسا ایئر اور اسپائس جیٹ متاثر ہوئی ہیں۔
پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کے بعد بھارتی ایئرلائنز نے ایران اور خلیج کی فضائی حدود کے ذریعے متبادل روٹس استعمال کرنا شروع کیے۔ اس کے نتیجے میں برطانیہ اور یورپ کے لیے پروازوں کے دورانیے میں ایک سے ڈیڑھ گھنٹے جبکہ امریکا اور کینیڈا کے لیے تقریباً تین گھنٹے تک اضافہ ہوگیا ہے۔
طویل پروازوں کے دوران بعض بھارتی ایئرلائنز کو ویانا میں ری فیولنگ کے لیے رکنا پڑتا ہے، جس کے باعث لینڈنگ، ٹیک آف اور پارکنگ چارجز کی مد میں اضافی ڈالرز اور یوروز ادا کرنا پڑتے ہیں۔ طویل سفر کے باعث فضائی میزبانوں کو بھی اضافی ڈیوٹی دینی پڑتی ہے، جس کے الگ اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
بھارت کی سب سے بڑی ریٹنگ ایجنسی آئی سی آر اے نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بھارتی ایئرلائنز کو رواں سال مزید 600 ملین ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے، جس کے بعد ان ایئرلائنز کے لیے اپنے فضائی آپریشنز کو برقرار رکھنا مزید مشکل ہوجائے گا۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث متبادل فضائی روٹس بھی متاثر ہوتے رہتے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی بھارتی ایئرلائنز کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی ایئرلائنز کو بھارتی فضائی حدود کی بندش سے نسبتاً کم نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کی صرف 6 پروازیں ایسی تھیں جو ملائیشیا یا تھائی لینڈ جاتے ہوئے بھارتی فضائی حدود استعمال کرتی تھیں، تاہم اب یہ پروازیں متبادل روٹس کے ذریعے آپریٹ کی جا رہی ہیں۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق بھارتی ایئرلائنز کے ساتھ ساتھ بھارتی ملٹری اور کارگو طیاروں کے لیے بھی پاکستان کی فضائی حدود پر پابندی آئندہ ماہ ستمبر تک برقرار ہے، جس کا باقاعدہ نوٹم بھی جاری کردیا گیا ہے۔