ایران؛ احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے الزام میں افغان شہری کو پھانسی

احتجاج میں شامل گرفتار مظاہرین کو جنگ کے دوران پھانسی دیے جانے والے افراد کی تعداد کم از کم 30 ہوگئی

اصفہان میں حکومت مخالف مظاہرے میں 4 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے

ایران نے حکومت مخالف احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے الزام میں ایک افغان شہری کو پھانسی دے دی۔

ایرانی عدلیہ سے وابستہ میزان آن لائن کے مطابق ملزم قائم حسینی کو چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث ہونے کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی اور جمعرات کو اسے اصفہان کی مرکزی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

ایرانی میڈیا اور عدلیہ نے قائم حسینی کی قومیت سے آگاہ نہیں کیا تاہم اس کیس کو منظر عام پر لانے والی انسانی حقوق کی تنظیموں نے دعویٰ کیا کہ قائم حسینی افغان شہری تھا اور اس کی عمر تقریباً 20 یا 21 سال تھی۔ 

ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ حسینی پر ہتھیار نکالنے، خوف و ہراس پھیلانے، بڑے پیمانے پر بدامنی پیدا کرنے اور قومی سلامتی و امنِ عامہ کو شدید نقصان پہنچانے کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔

تاہم ایران ہیومن رائٹس نے ان الزامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ قائم حسینی پر بنیادی طور پر ایک پولیس اہلکار کو لات مارنے کا الزام تھا اور حکام نے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہو کہ اس کے اقدام کے نتیجے میں کسی پولیس اہلکار کی موت ہوئی۔

اصفہان کے احتجاج مقدمے میں پانچویں شخص کو پھانسی 

خیال رہے کہ قائم حسینی اسی مقدمے میں پھانسی پانے والا پانچواں شخص ہے۔ یہ مقدمہ جنوری 2026 میں اصفہان کے الٰہیقانی اسکوائر کے قریب ہونے والے احتجاج کے دوران چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت سے متعلق ہے۔

اس کیس میں اس سے پہلے ایرانی حکام نے جولائی میں دو افراد، جن میں ایک افغان شہری گل محمد محمدی بھی شامل تھا کو پھانسی دی تھی، جبکہ 28 جولائی کو مزید دو افراد کو اصفہان میں سرِعام پھانسی دی گئی۔

ایران کی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں مجموعی طور پر کم از کم 12 افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی جس کے باعث دیگر ملزمان کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ 

مقدمات کی شفافیت پر سوالات

حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے ان مقدمات میں منصفانہ عدالتی کارروائی کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بعض گروپوں کے مطابق ملزمان کو آزاد وکلا تک مناسب رسائی نہیں دی گئی جبکہ بعض اعترافی بیانات مبینہ طور پر دباؤ یا تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی ایران میں احتجاج سے متعلق سزائے موت کے مقدمات پر تشویش ظاہر کی ہے اور ایسے مقدمات میں تشدد، من مانی حراست اور منصفانہ ٹرائل کی ضمانتوں کی خلاف ورزیوں کے الزامات کا حوالہ دیا ہے۔

امریکا اسرائیل جنگ کے دوران پھانسیوں میں اضافہ

رواں برس مارچ سے جنگ کے دوران پھانسیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کے بعد کم از کم 30 مظاہرین کو پھانسی دی جاچکی ہے۔ ان میں 28 افراد جنوری 2026 کے احتجاج اور دو افراد 2022 میں شروع ہونے والی ’’عورت، زندگی، آزادی تحریک‘‘ سے متعلق مقدمات میں سزا پانے والے تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ سیکڑوں دیگر مظاہرین کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے یا ان کے خلاف ایسے مقدمات چل رہے ہیں جن میں سزائے موت دی جاسکتی ہے۔ صرف اصفہان میں 70 سے زائد افراد کو سزائے موت کے خطرے کا سامنا بتایا گیا ہے۔

ادھر رواں ماہ فرانس، برطانیہ اور کینیڈا سمیت 30 سے زائد ممالک نے ایران میں سزائے موت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ مظاہرین کو پھانسی دے کر اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

 

Load Next Story