سرکاری کالجوں میں اے ڈی پروگرام کے سال میں دو بار امتحانات لینے کا معاملہ لٹک گیا
جامعہ کراچی کے تحت شہر کے سرکاری کالجوں میں جاری اے ڈی (ایسوسی ایٹ ڈگری ) پروگرام میں Bi- annual سسٹم سال میں دو بار امتحانات کا نظام ایک بار پھر لٹک گیا ہے۔
ریجنل ڈائریکٹر کالجز نے جامعہ کراچی سے سابق ڈائریکٹر کی طرز پر bi annual سسٹم کے تحت امتحانات نہ لینے کی سفارش کردی ہے جبکہ جامعہ کراچی نے بھی امتحانات لینے کے بجائے معاملے کو اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد ریے کہ مذکورہ نظام کے تحت یہ امتحانات جولائی میں ہونے تھے لیکن جامعہ کراچی کے شعبہ امتحانات نے اس سلسلے میں کسی قسم کی تیاری ہی نہیں کی کالجوں کے طلبہ سے امتحانی فارم لیے گئے اور نا ہی مراکز بناکر امتحانات کی تاریخ کا اعلان کیا گیا جس سے کالجوں میں امتحانات کے حوالے سے ایک غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔
" ایکسپریس " نے اس سلسلے میں جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طفیل احمد سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ "وہ ذاتی طور پر اس بات کے قائل ہیں کہ ایچ ای سی کے قوانین کے تحت امتحانی سسٹم کے تحت سال میں دو بار امتحانات ہونے چاہییں لیکن کالج کے اساتذہ یہ نہیں چاہتے‘‘۔
انہوں نے بتایا کہ میری موصولہ معلومات کے مطابق پنجاب کی جامعات نے بھی ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام میں "سیمسٹر یا بائے اینول" سسٹم رائج نہیں کیا لہذا ہم بھی یکم ستمبر کو ہونے والے اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں اس معاملے کو لے جارہے ہیں وہاں جو فیصلہ ہوگا اُس پر عمل کریں گے۔
دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ریجنل ڈائریکٹر کالج کراچی گلاب رائے نے اس سال بھی بائے اینول سسٹم کے تحت سال میں دو بار امتحانات نہ لینے کی سفارش کی۔
بتایا جارہا ہے کہ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کو لکھے گئے خط میں انھوں نے کہا ہے کہ اے ڈی پروگرام کے کورسز پر ابھی مزید ورکنگ ہونا باقی ہے لہذا کالجوں اور طلبہ کے بہتر مفاد میں اس نظام کو اس سال بھی روک دیا جائے کیونکہ یہ امتحانات جولائی میں ہونے تھے جو تاحال نہیں ہوسکے ہیں۔
واضح رہے کہ رواں سال جامعہ کراچی کے تحت ڈگری کالجوں میں کل4839 طلبہ نے انرولمنٹ کرائی ہے جس میں اے ڈی کامرس کے 2705 طلبہ، اے ڈی آرٹس کے 1838 جبکہ سائنس کے 296 طلبہ شامل ہیں۔
یاد رہے کہ ایچ ای سی نے ملک بھر کے کالجوں میں جاری 2 سالہ ڈگری پروگرام کو ختم کردیا تھا اور ڈگری پروگرام کو 4 سال کرنے کے بعد اسی نصاب کے ساتھ 2 سالہ ایسوسی ایٹ متعارف کرائی تھی جس کے بعد ڈگری کالجوں میں گریجویشن کرنے کی شرح انتہائی حد تک گرچکی ہے۔
کچھ برس پہلے تک بی اے ، بی ایس سی اور بی کام کی سالانہ انرولمنٹ 1 لاکھ سے زائد ہوتی تھی جو اب چند ہزار میں آچکی ہے۔