بھارت میں خاتون پرنسپل کا لرزہ خیز قتل؛ لائف اسٹائل میں تبدیلی نے طلبا کو پکڑوا دیا

دوسویں جماعت کے دو طلبا نے اپنے اسکول کی پرنسپل کو قتل کرنے کیلیے 15 روز تک منصوبہ بندی کی

دوسویں جماعت کے دو طلبا نے اپنے اسکول کی پرنسپل کو قتل کرنے کیلیے 15 روز تک منصوبہ بندی کی

بھارتی ریاست تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ میں اسکول کی 48 سالہ پرنسپل کے لرزہ خیز قتل کا معمہ پولیس نے حل کرلیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے قتل کی منصوبہ بندی اور واردات میں مبینہ طور پر ملوث دسویں جماعت کے دو طالب علموں کو گرفتار کیا ہے۔

اسکول پرنسپل کالو روپا ریڈی 12 اگست کی صبح اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں جبکہ ان کے جسم پر چاقو کے 27 زخم تھے جب کہ ان کے شوہر حیدرآباد گئے ہوئے تھے۔

پرنسپل کے شوہر نے فون پر اہلیہ سے رابطہ نہ ہونے پر پڑوسیوں کو اطلاع دی تھی جس پر پڑوسیوں نے پولیس کو بلایا تھا۔ پولیس ٹیم کو گھر سے لاش ملی۔

ایک لفظ نے تفتیش کا رخ بدل دیا

قتل کے بعد پولیس نے پانچ ٹیمیں تشکیل دیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک شواہد، فنگر پرنٹس، تکنیکی معلومات اور مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا جائزہ لینا شروع کیا۔ تفتیش کے دوران پولیس نے 80 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ بھی کی۔

تحقیقات میں اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب پولیس کو معلوم ہوا کہ قتل سے قبل روپا ریڈی نے اپنی خالہ سے فون پر گفتگو کے دوران آخری لفظ ’’بابو‘‘ کہا تھا جس کے بعد ان کا فون بند ہوگیا۔

سینئر پولیس افسر شرت چندر پوار نے بتایا کہ تفتیش کاروں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ روپا ریڈی نے بابو کہہ کر کسے پکارا تھا۔ جس پر تحقیقات کا رخ  اسکول کے طلبا کی طرف ہوگیا۔

پولیس نے انفرادی طور پر طلبا سے پوچھ گچھ کی تو دسویں جماعت کے پانچ ایسے طلبا سامنے آئے جو قتل کے بعد اسکول سے غیر حاضر تھے۔

ان میں سے بھی دو طلبا حالیہ دنوں میں غیر معمولی طور پر رقم خرچ کررہے تھے اور دوستوں کے لیے پارٹیاں بھی کر رہے تھے۔

پولیس نے شک کی بنیاد پر دونوں طالب علموں کو حراست میں لے لیا۔ دورانِ تفتیش دونوں نے مبینہ طور پر قتل کی منصوبہ بندی اور واردات میں ملوث ہونے کا اعتراف کرلیا۔

پرنسپل سے ناراضی بھی وجہ بنی

پولیس کے تفتیش کاروں نے بتایا کہ دونوں طلبا کو اسکول پرنسپل روپا ریڈی نے ڈانٹا تھا اور ان کے ہاسٹل کے بیگز سے نقد رقم اور موبائل فون ملنے پر والدین سے شکایت بھی کی تھی۔

بعد ازاں دونوں طلبا کو ہاسٹل میں رہنے کے بجائے روزانہ اسکول آنے والے طلبا میں منتقل کردیا گیا تھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اس کارروائی سے طلبا میں پرنسپل کے خلاف ناراضی پیدا ہوئی جس نے بعد میں قتل کے منصوبے میں کردار ادا کیا۔

پانچ دن تک قتل کی منصوبہ بندی

تفتیش کاروں نے بتایا کہ دونوں طلبا نے مبینہ طور پر تقریباً پانچ دن تک قتل اور ڈکیتی کی منصوبہ بندی کی۔ خاتون پرنسپل کے گھر کی نگرانی کی، چاقو خریدا اور شناخت چھپانے کے لیے دستانے بھی حاصل کیے۔

واردات کے روز ایک طالب علم مبینہ طور پر بندر ٹوپی اور دستانے پہن کر گھر میں داخل ہوا۔ اسے بیڈ روم سے تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار بھارتی روپے ملے اور وہ رقم لے کر فرار ہونے لگا۔

تاہم فرار ہوتے وقت اس کی ٹوپی سرک گئی اور روپا ریڈی نے اسے پہچان لیا۔ پولیس کے مطابق شناخت ظاہر ہوجانے کے خوف سے طالب علم نے خاتون پر چاقو سے 27 مرتبہ وار کیے، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئیں۔

خون آلود رقم اور آئی فون برآمد

قتل کے بعد ملزمان نے رقم لے کر شواہد مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے خون آلود کپڑے اور بندر ٹوپی چھپانے کی کوشش کی اور بعد میں گوا سے تفریحی سفر بھی کیا۔

پولیس نے ملزمان کے قبضے سے مجموعی طور پر 1 لاکھ 54 ہزار بھارتی روپے، ایک آئی فون اور مقتولہ کا موبائل فون برآمد کیا ہے۔

برآمد ہونے والی رقم میں بعض ایسے نوٹ بھی شامل تھے جن پر خون کے نشانات پائے گئے۔ پولیس نے دستانے سمیت دیگر اشیا بھی قبضے میں لی ہیں اور شواہد کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں۔

شارٹ کٹ میں پیسا کمانے کا خبط

تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ دونوں طالب علموں نے قتل سے قبل ایک ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم پر جلدی پیسہ کمانے کے طریقوں کے بارے میں ویڈیوز تلاش کی تھیں۔

پولیس کے بقول ملزمان نے پہلے رقم حاصل کرنے کے لیے ڈکیتی کا منصوبہ بنایا تھا تاہم گھر میں موجود خاتون کی جانب سے انہیں پہچان لیے جانے کے بعد صورتحال قتل تک جا پہنچی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کیس میں مزید شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں اور ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے۔

Load Next Story