کراچی سے صنعتیں ذاتی وجوہات کی بنا پر پنجاب منتقل ہو رہی ہیں، وزیرصنعت سندھ

صنعت کار زاہد سعید نے تجویزدی کہ پنجاب کی حکومت کا صنعتی ماڈل سندھ میں اپلائی کیا جائے تو صنعت کی ہیئت تبدیل ہوجائے گی

فوٹو: فیس بک

سندھ کے صوبائی وزیر تجارت و صنعت جام اکرام اللّٰہ دھاریجو نے کہا ہے کہ کراچی سے صنعتوں کی نقل مکانی کی اصل وجہ ٹیکس نہیں ہے بلکہ  اس کی وجہ ذاتی حالات ہیں جبکہ صنعت کار نے تجویز دی کہ حکومت پنجاب کا صنعتی ماڈل سندھ میں اپلائی کیا جائے تو صنعت کی ہیئت تبدیل ہوجائے گی۔

کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کاٹی کے صنعت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صنعت جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ صنعت کار وفاق سے استفسار کریں کہ کراچی کے صنعتی زونز کو وفاق نے کتنی گرانٹ فراہم کی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بڑے گروپس کراچی میں سرمایہ کاری کے لیے آرہے ہیں اور حکومت سندھ وفاق سے کئی گنا بہتر صنعت کے لیے کام کررہی ہے۔

لینڈ ایکٹ میں بڑی تبدیلی کا عندیہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ لینڈ ایکٹ کو تبدیل کرنا چاہ رہی ہے، صنعت کے لیے زمین مفت دام پر دینی چاہیے تاکہ معیشت میں بہتری آئے، لینڈ ایکٹ میں تبدیلی سے متعلق جلد خوش خبری دی جائے گی، حکومت چاہتی ہے کہ سندھ کی گیس اور کوئلے کی صنعتوں کو سستے داموں دیا جائے۔

جام اکرام دھاریجو نے کہا کہ گزشتہ سال وزیراعلیٰ نے صنعتوں کے لیے 10 ارب روپے جاری کیے تھے اور موجودہ فنڈز کے استعمال کے بعد مزید فنڈز بھی دیے جائیں گے، خواہش ہے کراچی کی تمام صنعتی ایسوسی ایشنز ازخود شہر میں نئے صنعتی زونز بنائیں اور ان نئے زونز کا اختیار بھی انہی کے پاس ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ دھابیجی میں بھی نیا صنعتی زون بنایا جا رہا ہے، حکومت ون ونڈو آپریشنز پر بھی کام کر رہی ہے۔

کاٹی کے صدر اکرام راجپوت نے کہا کہ مسائل اب ہزاروں کے بجائے لاکھوں روپے میں حل ہونے تک پہنچ چکے ہیں اور مطالبہ کیا کہ صوبائی ٹیکسوں کو سنگل ونڈو پر منتقل کرنے کے لیے کمیٹی بنائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورنگی انڈسٹریل ایریا کا انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے اور اسے ماڈل زون بنانے کے لیے وفاق سے رقم جاری کی جائے، انہوں نے ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز کو کاٹی کے حوالے کر کے فنڈز دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

چیئرمین کائٹ لمیٹڈ زاہد سعید نے کہا کہ کراچی سے رواں سال 50 فیصد ایکسپورٹس ہوئی ہیں اور سندھ کی وزارت تجارت 50 فیصد معیشت کی ذمہ دار ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ حکومت پنجاب کا صنعتی ماڈل سندھ میں اپلائی کیا جائے تو صنعت کی ہیئت تبدیل ہو جائے گی۔

انہوں نے مہران ٹاؤن کو کاٹیج انڈسٹریز زون بنانے اور سائٹ کے 9 ہزار ایکڑ صنعتی زون کو موٹروے سے ملحق کر کے گیٹڈ بنانے کا بھی ذکر کیا۔

Load Next Story