برطانیہ میں انڈوں سے وائرس پھیلنے لگا؛ ایک ہلاک اور 207 افراد بیمار

محکمہ صحت کو شُبہ ہے کہ اس وبا کا تعلق بیرونِ ملک سے درآمد کیے گئے انڈوں سے تیار ہونے والی خوراک سے ہے

برطانیہ میں انڈوں سے وبا پھوٹ پڑی ہے، تحقیقات جاری

برطانیہ میں سالمونیلا کی وبا نے ایک شخص کی جان لے لی جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران 207 افراد میں انفیکشن کی تصدیق ہوئی ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق محکمۂ صحت کے حکام کو شبہ ہے کہ اس وبا کا تعلق بیرونِ ملک سے درآمد کیے گئے انڈوں سے تیار ہونے والی خوراک سے ہوسکتا ہے۔

برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے بتایا کہ رواں سال یکم اگست تک 206 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ایک کیس گزشتہ برس رپورٹ ہوا تھا۔

ان 207 متاثرین میں 199 کا تعلق انگلینڈ، 6 اسکاٹ لینڈ، ایک ویلز اور ایک شمالی آئرلینڈ سے ہے جب کہ متاثرین میں شیر خوار بچوں سے لے کر 90 سال تک کی عمر کے افراد شامل ہیں۔

انگلینڈ میں بھی لندن سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے جہاں 47 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ یارکشائر اینڈ ہمبر میں 38 افراد میں انفیکشن کی تصدیق ہوئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد میں ایک ہی قسم کا سالمونیلا انٹیرٹائڈس پایا گیا ہے جس کی جینیاتی جانچ سے کیسز کے درمیان مضبوط تعلق سامنے آیا ہے۔

یہ وبا صرف معمولی نوعیت کی بیماری تک محدود نہیں رہی۔ متاثرہ افراد میں سے 38 فیصد کو اسپتال میں داخل ہونا پڑا جبکہ دو مریضوں میں سالمونیلا خون میں شامل ہونے کے سنگین انفیکشن کا سبب بنا۔

برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی اور فوڈ اسٹینڈرڈز ایجنسی سمیت دیگر اداروں کی تحقیقات میں اب تک انڈے سب سے مضبوط ممکنہ غذائی ذریعہ سامنے آئے ہیں۔ ایسے پانچ کاروباری مراکز کی نشاندہی ہوئی جہاں کم از کم دو الگ الگ متاثرہ افراد بیماری کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے جا چکے تھے۔

ان مقامات سے وابستہ 24 کیسز میں سے 11 افراد نے انڈوں سے تیار کھانے استعمال کرنے کی اطلاع دی۔ اہم بات یہ ہے کہ ان کاروباری مراکز کو انڈے مختلف ذرائع سے مل رہے تھے جن میں درآمد کنندگان بھی شامل تھے۔ اسی وجہ سے حکام سپلائی چین کی چھان بین کررہے ہیں۔

محکمہ صحت کے حکام نے واضح کیا ہے کہ اب تک برطانیہ میں پیدا ہونے والے انڈوں یا مقامی پولٹری سے وبا کا کوئی تعلق سامنے نہیں آیا۔ تحقیقات کا رخ بیرونِ ملک سے درآمد کیے جانے والے انڈوں اور ان سے تیار کھانے کی جانب ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام درآمد شدہ انڈے آلودہ ہیں بلکہ ماہرین کسی مخصوص آلودہ کھیپ، سپلائر یا خوراک کے ذریعے بیماری کے پھیلاؤ کا سراغ لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ متعدد متاثرہ افراد نے بیماری کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے گھر کے بجائے ریستوران، کیفے یا دیگر فوڈ سروس مراکز میں تیار کھانا کھایا تھا۔

برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق 114 متاثرہ افراد نے تفصیلی سوالنامے مکمل کیے جن میں سے 95 نے بتایا کہ بیماری سے قبل ہفتے کے دوران انہوں نے گھر سے باہر تیار کیا گیا کھانا کھایا تھا۔

اس صورتحال نے حکام کو تجارتی فوڈ سپلائی چین اور کیٹرنگ سیکٹر پر خاص توجہ دینے پر مجبور کیا ہے۔

سالمونیلا کیا ہے؟

سالمونیلا ایک بیکٹیریا ہے جو آلودہ خوراک کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوسکتا ہے۔ اس کی عامات میں دست، پیٹ میں مروڑ، قے اور بخار شامل ہیں۔ بعض مریضوں میں بیماری شدید ہوکر خون کے انفیکشن اور دیگر پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

2025 کی وبا سے بھی مماثلت

برطانوی حکام کے مطابق موجودہ وبا میں سامنے آنے والا سالمونیلا کا جینیاتی طور پر ایک ہی گروپ سے تعلق رکھنے والا جرثومہ 2025 میں سامنے آنے والی ایک وبا سے بھی جینیاتی مماثلت رکھتا ہے جس کا تعلق درآمد شدہ انڈوں سے جوڑا گیا تھا۔

برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی اور فوڈ اسٹینڈرڈز ایجنسی اور دیگر صحت عامہ کے ادارے اب اس بات کا تعین کررہے ہیں کہ موجودہ کیسز میں آلودگی کا اصل ذریعہ کیا ہے اور آیا اس کا گزشتہ وبا سے کوئی براہِ راست تعلق ہے یا نہیں۔ 

حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ انڈوں اور ان کی پیکیجنگ کو ہاتھ لگانے کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھوئیں، کھانے کی تیاری کے دوران صفائی کا خیال رکھیں اور انڈوں کو مناسب درجہ حرارت پر اچھی طرح پکائیں۔

تحقیقات مکمل ہونے تک کسی مخصوص درآمد کنندہ یا مصنوعات کے بارے میں حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

 

Load Next Story