شمالی کوریا کے پاس 80 سے 120 جوہری وار ہیڈز موجود ہیں؛ جنوبی کوریا کا انکشاف
بیلسٹک میزائل تجربہ اُس وقت کیا گیا جب جاپانی وزیر خارجہ جنوبی کوریا کے دورے پر ہیں
جنوبی کوریا نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس 80 سے 120 جوہری وار ہیڈز موجود ہوسکتے ہیں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اندازے سے کہیں زیادہ ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا انکشاف جنوبی کوریا کے وزیر دفاع آن گیو بیک نے پارلیمانی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں کیا۔
انھوں نے کہا کہ دستیاب اندازوں کے مطابق شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد عموماً 80 سے 120 کے درمیان سمجھی جاتی ہے تاہم درست تعداد بتانا انتہائی مشکل ہے۔
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ یہ تعداد حتمی یا باضابطہ طور پر تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں بلکہ مختلف تحقیقاتی جائزوں اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر ایک تخمینہ ہے۔
جنوبی کوریا کی فوج خود شمالی کوریا کے جوہری ذخیرے کی درست تعداد کی تصدیق نہیں کرسکتی۔
ٹرمپ کے دعوے سے نمایاں فرق
جنوبی کوریا کا تازہ اندازہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک روز قبل دیے گئے بیان سے مختلف ہے۔ جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے پاس 57 انتہائی طاقتور جوہری ہتھیار موجود ہیں۔
جنوبی کوریا کے وزیر دفاع نے پارلیمانی اجلاس میں اپنے ملک کی جوہری پالیسی بھی واضح کرتے ہوئے کہا کہ سیئول اپنے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی پالیسی اختیار نہیں کرے گا اور نہ ہی جنوبی کوریا میں امریکی ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی دوبارہ تعیناتی قبول کرے گا۔
ٹرمپ بھی شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ اُن سے ملاقات کے خواہشمند
ٹرمپ نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ رواں سال شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے دوبارہ ملاقات کی توقع رکھتے ہیں۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ماضی میں تین ملاقاتیں ہوچکی ہیں تاہم ان مذاکرات سے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے سے کوئی مستقل معاہدہ نہیں ہوسکا۔
شمالی کوریا کی جانب سے ٹرمپ کی نئی سفارتی پیش قدمی پر محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔