پٹرول مہنگا،عوام کو مزید ’’ریلیف‘‘ مل گیا
کاروباری سرگرمیاں محدود ہونے کی وجہ سے روزگار کے مواقعے انتہائی کم ہوچکے ہیں (فوٹو: فائل)
کسی ملک کی معیشت کا درجہ حرارت ہمیشہ بڑے معاشی اعداد و شمار سے نہیں ناپا جاسکتا، کبھی پٹرول پمپ پر قیمت دیکھ کر ایک عام شہری کے چہرے پر آنے والی خاموش تشویش پورے اقتصادی منظرنامے کی ترجمانی کرتی ہے۔ پاکستان میں ایندھن کی قیمت اب محض ایک عدد نہیں رہی، یہ گھر کے بجٹ، دکاندار کے منافع، کسان کی لاگت، صنعت کی پیداوار، ٹرانسپورٹ کے کرائے اور بازار میں پہنچنے والی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں سے جڑی ہوئی ہے۔
چنانچہ 20 اگست سے پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 97 پیسے فی لیٹر اضافہ کرکے اسے 337 روپے 51 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے 63 پیسے کمی کرکے اسے 363 روپے 6 پیسے فی لیٹر مقرر کرنا بظاہر ایک معمول کا سرکاری فیصلہ ہے، مگر اس کے معاشی اثرات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب مہنگائی نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو پہلے ہی سخت متاثر کر رکھا ہے، پٹرول کا مزید مہنگا ہونا اور ڈیزل کا نمایاں سستا ہونا ایک ایسی متضاد تصویر پیش کرتا ہے جس پر سنجیدہ غور ناگزیر ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی بلاشبہ خوش آیند ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹرز کی طویل ہڑتال نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ ایندھن کی قیمت محض ایک کاروباری شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری سپلائی چین کی نبض ہے۔ مال بردار گاڑیوں کے پہیے رکیں تو منڈی میں اجناس کی آمد متاثر ہوتی ہے، صنعت کو خام مال کی ترسیل مہنگی پڑتی ہے اور دکان تک پہنچنے والی ہر چیز کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اس تناظر میں ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے سے زائد کمی ٹرانسپورٹ، تجارت اور صنعت کے لیے فوری ریلیف کی بنیاد بن سکتی ہے، اگر اس کمی کا فائدہ کرایوں، مال برداری اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں منتقل ہوگیا تو اس کے اثرات عام صارف تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
لیکن یہاں اصل سوال یہ ہے کہ سرکاری ریلیف عوام تک کس حد تک پہنچتا ہے۔ قیمت کم کرنا پہلا مرحلہ ہے، اس کا فائدہ صارف تک منتقل کرانا دوسرا اور زیادہ اہم مرحلہ۔ اگر ٹرانسپورٹر کو ڈیزل سستا مل جائے مگر مال برداری کے نرخ برقرار رہیں یا ترسیل کی لاگت گھٹ جائے لیکن خوردہ قیمت میں کمی نہ آئے تو حکومتی اقدام کا بڑا حصہ راستے ہی میں جذب ہوجائے گا۔ اس لیے حکومت کو ڈیزل کی قیمت کم کرنے کے بعد ٹرانسپورٹ کرایوں اور ضروری اشیاء کی قیمتوں پر اس کے اثرات کا باقاعدہ جائزہ لینا چاہیے۔ عوامی ریلیف کا پیمانہ نوٹی فکیشن نہیں، بازار میں نظر آنے والی تبدیلی ہونی چاہیے۔
وزیراعظم کی جانب سے عوام کو ممکنہ حد تک فوری ریلیف پہنچانے کی ہدایت اور وزیر پیٹرولیم کو کراچی پہنچ کر ریفائنریوں سے مشاورت کی تاکید اس احساس کی عکاس ہے کہ حکومت ایندھن کی قیمتوں کے سماجی اثرات سے واقف ہے۔ وزیر ِ پیٹرولیم کی ریفائنریوں سے مشاورت کے بعد ڈیزل میں کمی کا فیصلہ بھی اسی کوشش کا حصہ ہے، تاہم اچھی حکمرانی کا امتحان ہدایت یا اعلان نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں سامنے آنے والی عملی تبدیلی ہے۔ حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ریلیف صرف پریس کانفرنس تک محدود نہیں بلکہ اس کا راستہ عام آدمی کے بجٹ تک پہنچتا ہے۔
اس فیصلے کا دوسرا اور زیادہ تشویش ناک پہلو پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہے۔ پاکستان میں پٹرول کا استعمال صرف نجی گاڑیوں تک محدود نہیں۔ موٹر سائیکل پر روزگار کے لیے نکلنے والا شخص، روزانہ دفتر یا تعلیمی ادارے جانے والا متوسط طبقہ، چھوٹا کاروبار کرنے والا فرد اور دور دراز علاقوں سے شہری مراکز تک آمدورفت کرنے والے لاکھوں لوگ اس قیمت سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ ڈیزل میں بڑی کمی ایک مخصوص معاشی دباؤ کو کم کرتی ہے، مگر پٹرول میں اضافہ شہری زندگی کے ایک وسیع حلقے پر نیا بوجھ ڈالتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حکومتی پالیسی میں تضاد کا تاثر پیدا ہوتا ہے، ایک ہاتھ سے ریلیف دیا جائے اور دوسرے سے ایسا بوجھ بڑھا دیا جائے جس کا تعلق روزمرہ زندگی سے براہ راست ہو۔
یہ کہنا درست نہیں کہ حکومت ہر صورت پٹرول سستا کردے اور مالی حقائق کو نظر انداز کرے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، درآمدی لاگت، زرِ مبادلہ، ریفائننگ اخراجات، ٹیکس اور قومی خزانے کی ضروریات سب پٹرولیم قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ریاست اگر ہر بیرونی جھٹکا خود برداشت کرے گی تو مالی خسارہ بڑھ سکتا ہے اور اگر ہر اضافہ فوراً صارف کو منتقل کرے گی تو مہنگائی کا دباؤ شدید ہوجائے گا۔ اصل ضرورت دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک متوازن نظام کی ہے۔ مسئلہ قیمت میں ردوبدل سے زیادہ اس کی غیر یقینی اور پالیسی کے فقدان کا ہے۔
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی نے کاروباری منصوبہ بندی کو مشکل بنایا ہے۔ صنعت کار کو معلوم نہیں کہ اگلے مرحلے میں اس کی پیداواری لاگت کیا ہوگی، ٹرانسپورٹر اپنے کرائے کے بارے میں یقینی فیصلہ نہیں کرپاتا اور گھرانے ماہانہ اخراجات کا قابل اعتماد تخمینہ نہیں لگا سکتے۔ معیشت میں غیر یقینی خود ایک لاگت بن جاتی ہے۔ اس لیے حکومت کو قیمت سازی کے لیے ایسا شفاف اور قابلِ پیش گوئی طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس میں عالمی قیمتوں کا اثر بھی شامل ہو مگر صارف کو اچانک شدید جھٹکوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔ قیمتوں کو مصنوعی طور پر منجمد کرنا بھی مستقل حل نہیں، لیکن ہر تبدیلی کا پورا بوجھ فوری طور پر عوام پر ڈال دینا بھی دانش مندی نہیں۔
مٹی کے تیل میں کمی نہ ہونا بھی اسی پالیسی کا سماجی پہلو سامنے لاتا ہے۔ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے توانائی کے اخراجات پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی ان کے لیے آمدورفت یا روزگار کے اضافی خرچ کی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ اس لیے توانائی پالیسی میں صرف بڑے صنعتی صارفین اور شہری ٹرانسپورٹ نہیں بلکہ ان طبقات کو بھی مرکزی حیثیت دینا ہوگی جن کی آمدنی محدود اور اخراجات غیر لچک دار ہیں۔
حکومتی سطح پر بچت کے اعلانات بھی اب عملی امتحان کے محتاج ہیں۔ عوام سے کفایت شعاری کی توقع اسی وقت قابل قبول ہوسکتی ہے جب ریاست خود اپنے اخراجات میں نمایاں نظم و ضبط دکھائے۔ غیر ضروری سرکاری اخراجات، توانائی کے ضیاع، سرکاری گاڑیوں کے بے جا استعمال، کمزور وصولی اور انتظامی بے قاعدگیوں کو کم کیے بغیر عوام سے مسلسل قربانی مانگنا سماجی اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔ قومی خزانے پر دباؤ ہے تو اس کا جواب صرف پٹرولیم مصنوعات پر اضافی بوجھ ڈالنا نہیں ہونا چاہیے، ریاستی اخراجات کی ترجیحات بھی ازسرنو طے ہونی چاہئیں۔
توانائی کے معاملے میں ایک بنیادی کمزوری یہ بھی ہے کہ پاکستان کی معیشت اب تک پٹرولیم مصنوعات کے اتار چڑھاؤ سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ جب نقل و حمل، صنعت، تجارت اور روزمرہ زندگی بڑی حد تک ایندھن پر منحصر ہو تو عالمی منڈی میں ہر بحران کا اثر مقامی بازار تک پہنچتا ہے۔ اس انحصار کو کم کرنے کے لیے طویل مدتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ مقامی ریفائنریوں کی استعداد بڑھانا، توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا، پبلک ٹرانسپورٹ کو موثر بنانا، ریلوے کے ذریعے مال برداری میں اضافہ اور توانائی کی بچت کو قومی ترجیح بنانا ایسے اقدامات ہیں جو فوری سیاسی فائدہ شاید نہ دیں، مگر مستقبل کی معاشی خودمختاری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
موجودہ ڈیزل ریلیف کو بھی ایک وسیع تر معاشی موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، اگر ٹرانسپورٹ لاگت کم ہوئی ہے تو اس کے اثرات زرعی پیداوار، صنعتی خام مال اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں دکھائی دینے چاہئیں۔ حکومت کو قیمتوں کی نگرانی محض دکانوں تک محدود رکھنے کے بجائے پوری سپلائی چین پر توجہ دینا ہوگی۔ ڈیزل سے مال برداری سستی ہوئی، اس کا فائدہ کس مرحلے پر منتقل ہوا اور صارف تک پہنچنے والی قیمت میں کتنا فرق آیا، یہ سب اعداد و شمار سے جانچا جاسکتا ہے۔ اسی بنیاد پر معلوم ہوگا کہ ریلیف واقعی معاشی سرگرمی کو سہارا دے رہا ہے یا صرف کاغذی سطح پر موجود ہے۔
حکومت کے لیے اصل کامیابی یہ نہیں کہ ایک نوٹی فکیشن میں ڈیزل سستا کردیا جائے؛ اصل کامیابی تب ہوگی جب اس کمی کا اثر ٹرانسپورٹ کرائے، بازار کی قیمت اور گھر کے ماہانہ بجٹ میں محسوس ہو۔ اسی طرح پٹرول کے ہر اضافے کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھنا چاہیے کہ ریاست نے اپنے اخراجات، ٹیکس پالیسی اور توانائی کے نظام میں عوام کا بوجھ کم کرنے کے لیے کیا کیا۔ ملک کو عارضی خوش خبریوں سے زیادہ مستقل معاشی سکون چاہیے، اگر موجودہ ڈیزل ریلیف واقعی تجارت، صنعت اور صارف تک پہنچ گیا تو یہ ایک مثبت مثال بن سکتی ہے، لیکن اگر پٹرول مہنگا ہوتا رہے، مٹی کے تیل میں کوئی گنجائش پیدا نہ ہو، اشیائے ضروریہ کے نرخ بلند رہیں اور سرکاری اخراجات میں خاطر خواہ کمی نہ آئے تو اعداد و شمار کی یہ ساری خوش خبریاں عوام کی زندگی میں بے معنی ثابت ہوں گی۔ عوام ریلیف کا اعلان نہیں، ریلیف کا احساس چاہتے ہیں اور یہی احساس کسی بھی معاشی پالیسی کی اصل کامیابی کا سب سے معتبر پیمانہ ہے۔