پاکستان ٹیم سست اور ناقص فیلڈنگ کے باعث شدید تنقید کی زد میں آگئی
انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی ناقص فیلڈنگ نے ٹیم کی کارکردگی پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ہیڈنگلے میں کھیلے جارہے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران میدان میں کئی ایسے مواقع آئے جب معمولی کوشش سے رنز روکے جا سکتے تھے مگر پاکستانی فیلڈرز نے گیند روکنے کے لیے ڈائیو لگانے یا بھرپور کوشش کرنے سے گریز کیا۔
Pakistani players making fielding look harder than batting and bowling pic.twitter.com/GeMHTyzpXe
— Abid Hasan (@Abid_kw22) August 20, 2026
ایک موقع پر ڈین لارنس رن آؤٹ ہو سکتے تھے لیکن کپتان سلمان علی آغا نے بروقت گیند اسٹمپس پر مارنے کے بجائے پہلے امپائر کے فیصلے کا انتظار کیا۔
بعد میں ان کی گھبراہٹ میں کی گئی تھرو محمد رضوان سے جا ٹکرائی جو اس وقت وکٹ کے سامنے کھڑے ہوکر امپائر سے اپیل کرنے میں مصروف تھے۔
Pakistan fielding never fails to disappoint 🤣#ENGvPAK #ENGvsPAK pic.twitter.com/TofNwLv5ZB
— Akash Singh (@akashmsd_183) August 20, 2026
اسی طرح محمد عباس نے جو روٹ کے شاٹ کو روکنے میں سستی دکھائی جبکہ دیگر فیلڈرز بھی آسان گیندوں پر غیر ضروری غلطیاں کرتے نظر آئے۔
These Are The Kind Of Efforts Which Make You A THIRD-TIER Team😠. pic.twitter.com/fnAckMULoo
— BehindtheStumps (@Behindthestmps) August 19, 2026
پاکستانی کھلاڑی عثمان علی نے بھی اعتراف کیا کہ فیلڈنگ میں خامیاں موجود تھیں اور ٹیم کو زیادہ محنت کرنا ہوگی۔
Catch Drop ❌❌❌
— Shahid Shakil (@Shahid56Shakil) August 20, 2026
Match Drop ✅✅✅ pic.twitter.com/vjjaz1Yst8
ماہرین کے مطابق پاکستان کی فیلڈنگ کا معیار مسلسل گر رہا ہے جبکہ فیلڈنگ کوچ شین میک ڈرموٹ کی رخصتی کے بعد بھی اس شعبے میں بہتری کے لیے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔