پنجاب میں جنگلی حیات سروے کے ابتدائی نتائج سامنے آگئے
پنجاب میں جنگلی حیات، پرندوں، رینگنے والے جانوروں اور نباتات کے جامع صوبائی سروے کے ابتدائی نتائج سامنے آگئے ہیں۔
سروے نتائج کے مطابق پنجاب اڑیال (پنجاب یوریئل) کے 5 ہزار 128، چنکارا (چنکارا گزیل) کے ایک ہزار 276، دریائے سندھ کی ڈولفن (انڈس ریور ڈولفن) کے 540، نیل گائے (بلیو بُل) کے 160، پاڑہ ہرن (ہاگ ڈئیر) کے 138 اور کالا ہرن (بلیک بک) کے 93 جانور ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
سرکاری سطح پر سروے کے مکمل اور حتمی نتائج تاحال عوام کے لیے جاری نہیں کیے گئے۔
پرندوں میں گرے فرانکولن (سرمئی تیتر) کے 92 ہزار 636، بلیک فرانکولن (کالا تیتر) کے 40 ہزار 526، چکور کے 6 ہزار 52، تلور (ہوبارا بسٹرڈ) کے ایک ہزار 821، گدھ (وَلچر) کے 345 اور کالیج فیزنٹ (کالیج تیتر) کے 49 پرندے ریکارڈ ہوئے۔
رینگنے والے جانوروں اور پانی/خشکی دونوں جگہوں پر پائے جانیوالی انواع میں اسکیٹرنگ فراگ (چھلانگ لگانے والا مینڈک) کے 7 ہزار 600، بنگال مانیٹر لزرڈ (گوہ) کے ایک ہزار 70، انڈین سافٹ شیل ٹرٹل (نرم خول والا کچھوا) کے 720، انڈین کوبرا (ناگ) کے 85، ساو اسکیلڈ وائپر (پھورسہ) کے 78 اور انڈین راک پائتھن (اجگر) کے 22 افراد ریکارڈ کیے گئے۔ نباتاتی سروے میں شیشم، کیکر، پیپل، پھلائی، پیلو اور کاؤ سمیت مختلف نباتات کی موجودگی بھی ریکارڈ ہوئی۔
یہ سروے انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر پاکستان اور پنجاب وائلڈ لائف اینڈ پارکس ڈیپارٹمنٹ کے اشتراک سے صوبے میں پہلی مرتبہ جامع سطح پر شروع کیا گیا۔ منصوبے کا باقاعدہ افتتاح اپریل 2025 میں لاہور میں ہوا جبکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق منصوبے کی مجموعی لاگت 53 کروڑ روپے ہے۔
آئی یو سی این پاکستان کے پروجیکٹ مینیجر عاصم جمال کے مطابق سروے کا مقصد پنجاب میں جنگلی حیات اور نباتاتی انواع کی تعداد، تقسیم، مسکن اور انہیں درپیش خطرات کا سائنسی جائزہ لینا اور مستقبل کی تحفظاتی پالیسی کے لیے قابل اعتماد ڈیٹا تیار کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سروے کے نتائج کی بنیاد پر ریڈ ڈیٹا بک کی تیاری بھی منصوبے کا اہم حصہ ہے۔
پراجیکٹ ڈائریکٹر وائلڈلائف رینجرز مدثر حسن نے بتایا کہ وائلڈلائف سروے کے دوسرے مرحلے کی تیاری جاری ہے۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے میں گزشتہ سال جنگلی حیات کی مردم شماری کی گئی، جبکہ دوسرے مرحلے میں حاصل شدہ ڈیٹا کو آئندہ برسوں میں مزید تصدیق اور بہتر کیا جائے گا۔
مدثر حسن کے مطابق مختلف انواع کی ہجرت اور نقل و حرکت کے نمونوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیٹا کو مزید بہتر بنایا جائے گا، جس کے بعد اسے بین الاقوامی سطح پر آئی یو سی این کی ریڈ لسٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پہلی ریڈ ڈیٹا بک کی تیاری بھی اسی عمل کا حصہ ہے اور یہ مرحلہ 2028 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
سروے کے دوران جی پی ایس، کیمرہ ٹریپس، ڈرونز اور جغرافیائی معلوماتی نظام سمیت جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی جبکہ حاصل ہونے والے ریکارڈ کو ڈیجیٹل ڈیٹا بیس میں محفوظ کیا جا رہا ہے۔