امریکا نے حزب اللہ کو ایرانی پراکسی قرار دے دیا، 10 افراد پر پابندیاں عائد

امریکا نے حزب اللہ کو 1997 میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا

واشنگٹن: امریکا نے حزب اللہ کے لیے مبینہ طور پر مالی معاونت فراہم کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے تنظیم کے ایران سے قریبی تعلقات پر بھی زور دیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق 10 افراد کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک لبنان، ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان تجارتی پروازوں کے ذریعے بڑی رقوم منتقل کرتا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کے ذریعے کروڑوں ڈالر تک منتقل کیے جاتے تھے جس سے حزب اللہ کو غیر رسمی مالی نظام کے ذریعے غیر ملکی کرنسی حاصل کرنے اور پابندیوں سے بچنے میں مدد ملتی تھی۔

امریکا نے حزب اللہ کی قانونی حیثیت کی وضاحت میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے ایرانی حکومت کے لیے کام کرنے والی تنظیم اور ایران کی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے زیرِ اثر قرار دیا ہے۔

امریکا نے حزب اللہ کو 1997 میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

Load Next Story