صوبوں کی تشکیل کے لیے آئینی طریقہ کار کے سوا کوئی اور راستہ قابل قبول نہیں، شرجیل میمن
فوٹو: فائل
کراچی میں سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کی واضح پالیسی بیان کرچکے ہیں۔ صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے آئین میں واضح طریقہ کار موجود ہے۔ صوبوں کی تشکیل کے لیے آئینی طریقہ کار کے سوا کوئی اور راستہ قابل قبول نہیں۔
کراچی میں سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کا دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ شرجیل میمن کو ریڈ لائن منصوبے پر پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پبلک ٹرانسپورٹ میں کام کر رہی ہے۔ سندھ حکومت 21 لاکھ گھر بنا کر دے رہی ہے جو دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ شارع بھٹو پر ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں استعمال کر رہی ہیں۔ سندھ حکومت دن رات کام کر رہی ہے اور سندھ واحد صوبہ ہے جو حقیقی معنوں میں کام کر رہا ہے۔ نئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، صحت کی سہولیات پر اس وقت ہم پاکستان میں پہلے نمبر پر ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ پر عوام کے لیے مشکلات تھیں، 80 فیصد تک مکمل ہوگیا ہے، کچھ ایریا رہتا ہے۔ 2.7 کلومیٹر پر کے فور لائن پر کام ہورہا ہے، واٹر بورڈ اور دیگر ادارے کام کر رہے ہیں۔ کے فور کی لائن کا کام مکمل ہونے پر یونیورسٹی روڈ 100 فیصد تک آمد و رفت کے لیے ہوگی۔ سندھ حکومت کام کر رہی ہے۔ اگلے ماہ مزید ڈبل ڈیکر بسیں آ جائیں گی، 500 ای وی بسیں بھی آ جائیں گی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایئر ایمبولینس سب سے پہلے سندھ نے شروع کی۔ پیپلز پارٹی کبھی بیک ڈور روابط سے حکومت میں نہیں آئی۔ سندھ کے لوگ باشعور ہیں، ہر مشکل وقت میں پیپلز پارٹی اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تھرکول منصوبے میں ایک ارب ڈالر سے زائد پیسے پیپلز پارٹی نے لگائے۔ تھرپارکر کا کوئلہ ہم امپورٹ کرتے ہیں۔ تھرپارکر کا کوئلہ پاکستان کے لیے بجلی پیدا کر رہا ہے۔ جو پاکستان کا مسئلہ ہے وہ ہمارا مسئلہ ہے۔ چاروں صوبوں میں یہ جماعت موجود ہے، ہم وفاقی جماعت ہیں اور وفاقی سوچ رکھتے ہیں۔ ہم صرف اشتہاری مہم پر نہیں چلتے۔ کراچی میں چیلنجز ہیں، اسے حل کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ دن رات کوشش کر رہے ہیں۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ الطاف حسین کی موجودگی میں مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی ہڑتالوں کی کال کی حمایت کرتے تھے۔ مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی کی ہڑتالوں کی حمایت کی ویڈیوز آج بھی میڈیا کے پاس موجود ہیں۔ کراچی میں ایک ایک ہڑتال کے دوران 30، 40 اور 50 تک لاشیں اٹھائی جاتی تھیں، ہڑتالوں کے دوران شہر میں بڑی تعداد میں شہریوں کی لاشیں ملتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ایم کیو ایم کے رہنما تشدد کے واقعات کی مذمت کرنے کے بجائے ٹی وی چینلز پر ان کا دفاع کرتے تھے۔ ایم کیو ایم رہنما کارکن کے قتل کو تشدد کے ردعمل کے طور پر پیش کرتے تھے۔ الطاف حسین کی سیاست میں شامل رہنماؤں نے قتل و غارت کے واقعات کی حمایت کی۔ الطاف حسین کے خلاف پابندی کے بعد کئی رہنماؤں نے اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرلیں۔ الطاف حسین کی تنظیم پر پابندی کے بعد بعض رہنماؤں نے اپنی سیاسی بقا کے لیے نئی صف بندی کی۔
شرجیل میمن نے کہا کہ نفرت کی سیاست کرنے والی جماعتیں اپنے ہی صوبے کو بدنام کرتی ہیں۔ اپنے صوبے کے مسائل کو منفی پروپیگنڈے کے ذریعے اجاگر کرنا صوبے کے مفاد میں نہیں۔ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مثبت اور ذمہ دارانہ سیاست کی ضرورت ہے۔ کراچی کے مسائل کو اس انداز میں حل کرنا چاہیے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مثبت اور محفوظ پیغام ملے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی آج بھی پاکستان کے سب سے اہم معاشی مراکز میں شامل ہے۔ کراچی پاکستان کے لیے سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہروں میں شامل ہے۔ کراچی کی ترقی پورے پاکستان کی ترقی ہے۔ کراچی کو کامیاب بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کراچی کے مسائل حل کرنا سب سے پہلے حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کراچی کے مسائل کے حل میں شہریوں اور تمام متعلقہ فریقوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سندھ حکومت کراچی کے مسائل کے حل کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے۔
صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کی واضح پالیسی بیان کرچکے ہیں۔ صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے آئین میں واضح طریقہ کار موجود ہے۔ صوبوں کی تشکیل کے لیے آئینی طریقہ کار کے علاوہ کوئی اور راستہ قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبے کے قیام کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظور ہونا ضروری ہے۔ صوبائی اسمبلی میں قرارداد اکثریت سے منظور ہونی چاہیے۔ نئے صوبے کے قیام کی قرارداد سندھ اسمبلی میں سات مرتبہ پیش ہوچکی ہے۔ سندھ اسمبلی میں پیش کی گئی سات قراردادوں میں سے چار متفقہ طور پر منظور ہوئیں، تین مرتبہ سندھ اسمبلی میں صوبے کی قرارداد پیپلز پارٹی کے دور میں اکثریت سے منظور ہوئی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ صوبوں سے متعلق تمام فیصلے عوام کی مرضی کے مطابق ہونے چاہئیں۔ عوام کی رائے کا اصل اظہار ان کے منتخب نمائندوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ عوام کے نمائندے انتخابات کے ذریعے اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں اور وہاں عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ عوامی نمائندوں کی موجودگی میں سڑکوں پر سروے کرانا عوامی رائے کا آئینی متبادل نہیں۔ صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کی پالیسی واضح ہے۔