ملکی درآمدات میں 19 فیصد اضافے سے تجارتی خسارہ 26 فیصد بڑھ گیا
رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے ماہ جولائی میں ملکی درآمدات 19 فیصد بڑھنے کے باعث تجارتی خسارے میں 26 فیصد اضافہ ہوگیا۔
وفاقی ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق غذائی اجناس، گاڑیوں، ٹرانسپورٹ سامان اور مشینری سمیت مختلف اشیا کی درآمد میں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق جولائی میں 80 کروڑ 54 لاکھ ڈالر کی اشیائے خورونوش درآمد کی گئیں، جن کی پاکستانی کرنسی میں مالیت 224 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بچوں کے دودھ اور کریم کی درآمد 25 فیصد اضافے سے ایک کروڑ 87 لاکھ ڈالر رہی۔ مصالحے، سویابین، پام آئل، چینی اور دالیں بھی بیرون ملک سے منگوائی گئیں۔ مزید یہ کہ گزشتہ ماہ 112 میٹرک ٹن چینی بھی درآمد کی گئی۔
اعدادوشمار کے مطابق مشینری کی درآمد میں 41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مجموعی طور پر ایک ارب 31 کروڑ ڈالر کی مشینری درآمد ہوئی۔ اس میں پاور جنریشن، آفس، ٹیکسٹائل، زرعی، تعمیراتی اور ٹیلی کام مشینری شامل ہے۔
دوسری جانب گاڑیوں سمیت ٹرانسپورٹ سامان کی درآمد 40 فیصد بڑھ کر 42 کروڑ ڈالر ہوگئی۔ خام کپاس سمیت ٹیکسٹائل مصنوعات کی درآمد میں بھی 15 فیصد اضافہ ہوا اور اس کی مالیت 68 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔
زرعی آلات اور کیمیکلز کی درآمد میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ان کا درآمدی حجم ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔ اسی طرح سونے، اسٹیل اور لوہے سمیت مختلف دھاتوں کی درآمد بھی 23 فیصد بڑھی۔
وفاقی ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق قیمتی دھاتوں کا درآمدی بل 73 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگیا۔
اس طرح جولائی میں مختلف شعبوں کی درآمدات میں اضافے کے ساتھ ملک کے تجارتی خسارے میں بھی 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔