دانت کے درد سے فوری آرام کے لیے یہ گھریلو طریقے آزمائیں
دانتوں کی تکلیف کئی بار مریض کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہے ؛فوٹوفائل
دانت کا درد معمولی ہو یا شدید، اس کا اثر صرف منہ تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسان کی روزمرہ سرگرمیاں بھی متاثر ہونے لگتی ہیں۔ تکلیف کے باعث کھانا پینا دشوار ہوجاتا ہے اور معمول کے کاموں پر توجہ دینا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بعض اوقات دانت یا مسوڑھوں میں ہونے والی معمولی جلن عارضی درد کا سبب بنتی ہے، جس میں کچھ گھریلو طریقے وقتی آرام پہنچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
آملہ پاؤڈر
دانت کے درد میں آملہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ آملہ دانتوں اور مسوڑھوں کو صحت مند رکھنے کے ساتھ انہیں مضبوط بنانے اور جراثیم سے تحفظ میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک چائے کا چمچ آملہ پاؤڈر دانتوں اور مسوڑھوں پر لگایا جاسکتا ہے۔
لونگ
لونگ بھی دانت کے درد میں روایتی طور پر استعمال ہونے والا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ لونگ کے تیل میں یوجینول نامی جزو پایا جاتا ہے، جس میں درد اور سوزش کو کم کرنے والی خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ متاثرہ دانت کے قریب لونگ کے چند ٹکڑے چبانے سے اس کا تیل تکلیف والی جگہ تک پہنچ سکتا ہے۔
ویٹ گراس
ویٹ گراس کو بھی دانت کے درد اور سڑن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ متاثرہ دانت یا تکلیف والی جگہ پر ویٹ گراس کے چند ٹکڑے چبانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، تاہم اسے مستقل علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
ہلدی پاؤڈر
ہلدی بھی دانتوں کے مسائل میں روایتی طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ باریک پسی ہوئی ہلدی کو سرسوں کے تیل میں ملا کر پیسٹ تیار کیا جاسکتا ہے، جسے متاثرہ حصے پر لگایا جائے۔ ہلدی میں اینٹی بیکٹیریل خصوصیات پائی جاتی ہیں، اسی لیے اسے دانتوں کی سڑن اور درد میں کمی کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ یہ پیسٹ رات کو سونے سے پہلے متاثرہ جگہ پر لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔
تاہم ہر دانت کا درد گھریلو طریقوں سے ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ اگر درد شدید ہو تو اس کی وجہ کیویٹیز، انفیکشن یا دانتوں کا کوئی اور مسئلہ ہوسکتا ہے، جو عموماً خود بخود ختم نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں صرف گھریلو نسخوں پر انحصار کرنے کے بجائے دانتوں کے ڈاکٹر سے معائنہ اور مناسب علاج کرانا ضروری ہے۔