بلوچستان:ماضی، حال کی حقیقت اور مستقبل کے امکانات

تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک مشترکہ قومی حکومت بنائی جائے

چند دن قبل ہم نے اپنا یوم آزادی بہت جوش و جذبے سے منایا۔ یہ ایک آزاد قوم کا اپنی دھرتی سے محبت کا اظہار ہے۔پاکستان نے گزشتہ اناسی برسوں میں اہم کامیابیاں حاصل کیں، مگر کیا ناکامیاں بھی ہماری مقدر میں شامل ہیں؟ خود احتسابی کے لیے ماضی کا جائزہ ضروری ہے۔

موجودہ پاکستان کئی پیچیدہ مسائل کا شکار ہے، خاص طور پر بلوچستان، جہاں امن و امان کے بحران نے عوام اور معیشت دونوں کو نقصان پہنچایا ہے۔راقم تیس سالوں سے بلوچستان کے ہر علاقے،خواہ پسماندہ ہو یا ترقی یافتہ، کا دورہ کر رہا ہے اور وہاں کے حقائق سے بخوبی واقف ہے، لہٰذا میں اسے اپنا قومی فریضہ سمجھتا ہوں کہ اس موضوع پر تجزیہ کروں اور حل بھی تجویز کروں۔

عوام کی فلاح کے لیے جہاں ایک طرف صوبائی اور مرکزی حکومت ترقی کے نئے منصوبے کر رہی ہے، دوسری طرف بلوچ آبادی کے چند افراد کی طرف سے ریاست پر عدم اعتماد اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ وہ مسلح جدوجہد کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

یہ ناراض عناصر عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ریاست ان کے وسائل اور زمین پر قابض ہے اور زمینی وسائل کی ترقی سے مقامی افراد کو نہ معاشی فائدہ ہے نہ سماجی۔ جب عام آدمی بلوچستان کا موازنہ ملک کے دیگر حصوں سے کرتا ہے تو اسے اس احساسِ محرومی میں حقیقت کا رنگ نظر آتا ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بلوچستان میں مسلح بغاوتوں، بیرونی مداخلت اور علیحدگی پسند عناصر کے تشدد کا سامنا رہا ہے، ان بغاوتوں کو کچلنے میں سیکیورٹی فورسز کا جانی نقصان ہوا بلکہ باغیوں کی جانب سے معصوم شہریوں کی جانوں اور ریاستی اثاثوں کو بھی بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث حکومت کو فوجی کارروائیوں اور سیکیورٹی آپریشنز کے سوا کوئی مؤثر راستہ نظر نہیں آیا۔ پاکستان کی افواج اور دیگر عسکری اداروں نے امن کی خاطر بیش بہا جانی اور مالی قربانیاں دیں ہیں جس پہ قوم انکی شکر گزار ہے۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بلوچستان کے انٹرنل سیکیورٹی بجٹ میں گزشتہ دس سالوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا گیا، جو گزشتہ سال چھیاسی ارب تھا جب کہ دو ہزار پندرہ میں محض دو اعشاریہ سات ارب روپے تھا۔مگر سوال یہ ہے کہ اتنا بڑا بجٹ خرچ ہونے کے باوجود بدامنی اور عدم استحکام میں کمی کیوں نہیں آئی؟

تاہم طویل مدتی امن کے لیے اب یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ صرف طاقت کے زور پر مسئلہ حل نہیں ہو سکتا اور مذاکرات کو بھی اتنا ہی اہمیت دینی چاہیے۔اس بات کو نظر انداز کرنا غلطی ہوگی کہ بلوچستان میں بسنے والی اکثریت بلوچ عوام ملک مخالف اور علیحدگی پسندی کے حامی ہیں، البتہ ایک محدود تعداد اپنے سیاسی اور قومی مطالبات میں متحرک ہے، جس کے پرتشدد انداز تحریک نے صوبے کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔

یہ بات مد نظر رہنی چاہیے کہ دنیا بھر میں مسلح جدوجہد کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی لیے بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ جیسی تنظیموں کو اقوام متحدہ، امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

مسائل کے حل کے لیے ہمیں فوری نتائج کے ساتھ ساتھ دیر پا مگر زیادہ وقت لینے والے نتائج کے لیے بھی موثر اقدامات لینے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں دیرپا امن کے لیے سب سے اہم فرض یہ ہے کہ ہم سب آئین پاکستان کی سختی سے پابندی کریں۔

خاص طور پر وہ قوانین جو صوبائی اور وفاقی اختیارات کا تعین کرتے ہیں۔ تمام ادارے اور شہری انسانی حقوق اور صوبائی خودمختاری اور آئین میں دی گئی آزادیوں کا مکمل احترام کرنے کاپابند ہو اور صوبائی سیاسی قیادت کا انتخاب شفاف اور جمہوری اصولوں کے مطابق ہو۔

دوئم یہ کہ بلوچستان کے معاملے میں حکومت، سیاسی جماعتیں اور مسلح گروہ سب کو وسیع النظر رویہ اپنانا ہوگا،اگر ضرورت ہو تو پڑوسی اور دوست ممالک کو ثالثی کے لیے شامل کیا جا سکتا ہے، مگر اس کا انحصار دو بنیادی شرائط پر ہے:۔اول، پاکستان کے اندر تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مکمل یکجہتی اور مشترکہ ایجنڈا۔ دوم۔ بین الاقوامی برادری کے ساتھ شفاف اور موثر سفارتی روابط تاکہ ثالثی پاکستان کی خودمختاری اور مفادات کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جا سکے۔

تمام اہم سیاسی فریق ایک میز پر بیٹھیں اور نیک نیتی سے مسائل کے حل کے لیے گفتگو کریں۔ کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر صوبے میں تین سال کے لیے ایک مشترکہ قومی حکومت بنائیں جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں، چاہے وہ اس سے قبل کتنے ہی غیر قانونی عمل میں شریک رہے ہوں۔

طویل مدتی امن کے لیے اب یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ صرف طاقت کے زور پر مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ امن کی بحالی کے لیے درج ذیل اقدامات پر سنجیدگی سے عمل کرے۔ اول، مسلح گروہ، فوری طور پر مسلح کارروائیوں سے اجتناب کریں اور جنگ بندی کا اعلان کریں تاکہ مذاکرات کے لیے مثبت ماحول پیدا ہو سکے۔

دوم، تنازعہ سے متاثرہ تمام شہریوں، خاص طور پر وہ خاندان جنھوں نے اپنے عزیز کھوئے یا اپنے گھر بار سے بے گھر ہوئے کو فوری طور پر معقول مالی امداد اور بحالی کا پیکیج دیا جائے تاکہ ان کی معاشی اور نفسیاتی بحالی ممکن ہو سکے۔

سوم، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ایک قومی اتفاقِ رائے قائم کیا جائے، اور بلوچستان کے عوام کے جائز سیاسی رہنماؤں جنھیں عوامی سطح پر قبولیت حاصل ہے کو اقتدار میں شراکت دی جائے، تاکہ وہ اپنے عوام کے مسائل خود حل کر سکیں تاکہ وہ اپنے آپ کو ریاست کا حصہ محسوس کریں۔

چہارم، مستند اور بااثر سیاسی شخصیات جن کا تمام حلقوں میں احترام کیا جاتا ہے کو امن کی بحالی کے عمل میں شامل کیا جائے تاکہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کر سکیں۔

تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک مشترکہ قومی حکومت بنائی جائے جس میں ہر فریق کو اس کی عوامی نمائندگی کے مطابق مقام دیا جائے، اور اگر ضرورت ہو تو آئینی ترامیم کے ذریعے صوبے کو مزید خودمختاری اور وسائل پر اختیار فراہم کیا جائے، تاکہ عوام کو یہ یقین ہو سکے کہ ان کی زمین اور وسائل کا فیصلہ اب انھی کی مرضی سے ہوگا۔

البتہ، اس عمل کے لیے یہ شرط بھی لازم ہے کہ تمام مسلح گروہ تشدد کو یکسر ترک کر دیں، ہتھیار ڈال دیں، اور ریاست پاکستان کی سلامتی اور آئینی بالادستی کو تسلیم کریں۔علیحدگی پسند تنظیمیں اپنے لیے بہتر فیصلہ کرتے ہوئے امن کو اپنی منزل سمجھیں اور آئین پاکستان کے تحت اصلاح احوال میں شریک ہو جائیں۔

کیونکہ کسی بھی خودمختار ریاست کے لیے مسلح بغاوت کو برداشت کرنا ممکن نہیں، اگر اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ ان اقدامات پر آگے بڑھا جائے تو بلوچستان میں دیرپا امن قائم ہو سکتا ہے اور یہی پاکستان اور بلوچستان کے عوام دونوں کے مستقبل کے لیے بہترین راستہ ہوگا۔تاریخ کا سبق یہی ہے کہ بڑی سے بڑی جنگ اور خونی تنازعات کے بعد بھی مذاکرات ہی مسائل حل کرتے ہیں۔ ہمیں اس قدم کو مزید موخر نہیں کرنا چاہیے۔

بلوچستان کے عوام کی خوشحالی اور ترقی پاکستان کی خوشحالی اور ترقی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ غلط فہمیوں کو دور کر کے امن کے دروازے پر دستک دی جائے۔ بلوچ متحرک گروہوں کو بھی چاہیے کہ وہ دنیا کے بڑے مسائل کے حل سے سبق سیکھیں اور اپنے لیے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے امن کو ایک موقع دیں۔ حکومت پاکستان ایسے اقدامات فوری اٹھائے جن سے مخالفین میں اعتماد قائم ہو اور وہ امن کی منزل کی طرف قدم بڑھائیں۔

Load Next Story