معیشت

پاکستان میں ایک عام آدمی کی فی کس امدنی ہمسایہ ممالک سے بہت کم ہے

لفظ معیشت کے اردو میں معنی روزگار گزر بسر کا ذریعہ مالی حالت اور اقتصادیات کے ہیں۔

معیشت کے بنیادی تین مفاہیم ہیں 1 روزی اور رزق: کمانے کا ذریعہ یا ذریعہ معاش 2 گزر بسر: زندگی گزارنے کے وسائل اور اسباب 3 مالی حالت: کسی شخص معاشرے یا ملک کی معاشی اور اقتصادی حالت 1947 میں تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے وقت ملک کے معاشی حالات نہایت نازک دگرگو ں اور ابتر تھے۔

وسائل کی کمی اور انتظامی ڈھانچے کی نہ پائیدادی نے حالات اور خراب کر دیے تھے قیام پاکستان کے وقت ہمیں ہمارے بنیادی وسائل نہیں دیے گئے تھے وسائل کی منصفانہ تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے حالات دن بدن خراب ہو رہے تھے لیکن ایسے نازک حالات کے باوجود اس وقت کی قومی قیادت نے ملک کو سنبھال لیا تھا۔

برطانوی سامراج نے ہند کو تقسیم تو کر دیا مگر پاکستان کو پاکستان کے وسائل نہیں دیے گئے تھے قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد لیاقت علی خان نے ملک کو سنبھالا پھر ان کی شہادت کے بعد حالات مزید خراب ہو گئے۔

قیام پاکستان سے لے کر اج تک ملک کی معیشت ابتری کا شکار ہے دیکھا جائے تو ہم ایک ازاد مملکت ہیں لیکن بد قسمتی سے ہماری معاشی آزادی آج چھین لی گئی ہے اور ملک کی معیشت خسارے میں جا رہی ہے ملک کے معاشی حالات چلانے کے لیے ہمیں آئی ایم ایف اور دیگر ممالک سے قرض لینا پڑتا ہے اور سود کی مد میں آدھی رقم دوبارہ واپس کرنی پڑتی ہے۔

پاکستان میں ایک عام آدمی کی فی کس امدنی ہمسایہ ممالک سے بہت کم ہے جس میں گزر بسر کرنا بے حد دشوار ہے پاکستان کی کل ابادی کا نو کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں حکمرانوں کے پاس معاشی روڈ میپ یا معاشی پالیسیوں کے فقدان کے سبب عام ادمی کی زندگی دشوار ہوتی جا رہی ہے۔

ایک بندہ جس کی ماہانہ تنخواہ 40 ہزار ہو وہ شادی شدہ ہو بال بچے والا ہو کرائے کا گھر ہو کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے معاشی حالات بہتر بنائے میں اشرافیہ سے یہ سوال پوچھتا ہوں کہ ایک عام ادمی جس کی ماہانہ تنخواہ 40 ہزار ہے وہ اپنے گھر کا بجٹ کیسے بنائے گا آج یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔

حکمرانوں کی نظر میں سب اچھا ہے سب اچھا چل رہا ہے مگر حقیقت اس کے برعکس مجموعی طور پر دیکھا جائے نہ ملک کی معیشت بہتری کی طرف جا رہی ہے نہ ایک عام آدمی کی معیشت بہتری کی طرف جا رہی ہے اشرافیہ کی عیاشیوں نے ملک کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا ہے۔

آج جس چیز پر ہاتھ رکھیں اس کے ریٹ آسمانوں کو چھو رہے ہیں مہنگائی بے روزگاری نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر مہنگائی اور بے روزگاری کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے ہمارے ہمسایہ ممالک کی معیشتیں مثبت سمت میں گامزن ہیں اور ہماری معیشت کا محور صرف قرضوں کے گرد گھومتا ہے مہنگائی کو ختم کرنے میں کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اشیائے ضروریہ پر سے تمام غیر ضروری ٹیکسوں کا خاتمہ کرے تاکہ ایک عام آدمی دو وقت کی روٹی کھا سکے۔

بظاہر ایک دوسرے کی مخالف اور دشمن نظر آنے والے سیاسی جماعتیں درحقیقت ایک ہیں انھوں نے عوام کو بے وقوف بنایا ہوا ہے اپنے مفادات کی خاطر یہ سب ایک ہو جاتے ہیں ملکی مالی لوٹ کھسوٹ میں تمام سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔

عوام الناس کو چاہیے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کی چال بازیوں کو سمجھیں آج پاکستانی عوام کو رنگ و نسل لسانیت اور فرقوں نے تقسیم در تقسیم کر دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام الناس اپنے حقیقی دشمنوں کو پہچانے اور اپنے اندر سے اپنی قیادت کو سامنے لائیں اگر آج عوام الناس نہیں جاگے تو مجھے یہ خدشہ اور اندیشہ ہے کہ حالات مزید دن بدن خراب اور ابتر ہوتے جائیں گے۔

اگر عوام الناس نے پاکستان کی معیشت اور اپنی معاشی حالات کو بہتر بنانا ہے تو انھیں مل کر مشترکہ طور پر اجتماعی جدوجہد کا اغاز کرنا پڑے گا پھر جا کر عوام الناس کو حقیقی معاشی آزادی ملے گی معاشی آزادی پلیٹ میں رکھ کر عوام کو کوئی نہیں دے گا اس کے لیے عوام الناس کو جدوجہد کرنی پڑے گی۔

فیکٹریاں اور کارخانے کسی بھی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہیں مگر بد قسمتی سے ملکی کارخانے بدحالی اور تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ حکومت خود تو روزگار میسر کرنے میں ناکام ہے اور فیکٹریوں اور کارخانوں میں کروڑوں لوگوں کا روزگار منسلک ہے حکومت نے صنعتی کلچر کو بھی تباہ کر دیا ہے جس کے باعث کئی کارخانے بند ہو چکے ہیں اس سے بھی بے روزگاری کا طوفان سر پر منڈلا رہا ہے۔

حکومت صنعتی کلچر کو فروغ دینے کے بجائے صنعتوں کے لیے دن بدن مشکلات پیدا کر رہی ہے پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے ہماری زرعی پیداوار کی صلاحیت بہت زیادہ ہے مگر بد قسمتی سے ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود سیکڑوں افراد بھوک سے مر جاتے ہیں۔

صاحب اختیار طبقے سے میں یہ درخواست کرتا ہوں کہ خدارا پاکستان کی معیشت تباہی کے دہانے پہ کھڑی ہے اگر فوری طور پر کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو معاشی حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ با اختیار طبقہ ملک کی معیشت کو مضبوط اور منظم بنانے میں اپنا کردار ادا کرے غریب پرور اور سفید پوش طبقہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔

آج حالات اس ڈگر پر ہیں کہ سفید پوش طبقہ مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث با مشکل اپنی زندگی بسر کر رہا ہے یہ معاشرے کا وہ طبقہ ہے جو کسی سے بھیک نہیں مانگتا خدارا عوام الناس کے حال پر رحم کریں۔

معاشی محاذ پر بھی حکومت کو اپنی پالیسیاں بہتر بنانی ہوں گی جس سے ایک عام آدمی کی معیشت میں بہتری آئے اور وہ باآسانی دو وقت کی روٹی کھا سکے اشرافیہ کی معاشی نا انصافی اور سرمائے کی ہوس نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے ہم پر مسلط کردہ طبقے کو غریب عوام کی بے بسی نظر نہیں آتی ۔اشرافیہ کا ظالمانہ معاشی ڈھانچہ اور نظام زر وطن عزیز کے لیے خطرناک ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے

کھا گیا انساں کو آشوب معاش

آ گئے ہیں شہر بازاروں کے بیچ

حبیب جالب صاحب کا ایک بہت خوبصورت شعر ہے :

وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں

حقیقت میں جو رہزن ہے وہی رہبر ہے خطرے میں

Load Next Story