عالمِ آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ

سورۃ الضحیٰ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبیﷺ کی دلجوئی اور تسلی کے لیے نازل کیا

’’مکین گنبد خضریٰ‘‘ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تصنیف کرنے کا شرف محمد الیاس کھوکھر مرحوم ایڈوکیٹ کو حاصل ہوا ہے اور یہ کتاب سنگ ِ میل پبلی کیشن لوئر مال لاہور سے شائع ہوئی ہے۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پاک چھ ابواب پر مشتمل ہے۔

ہر باب میں خاتم النبین، رحمت اللعالمینؐ کی زندگی کے پاکیزہ اور معطر اوراق کا احاطہ بہت خوبصورتی اور عقیدت و محبت کے ساتھ کیا ہے۔ کتاب کا دیباچہ جناب محمد نعیم صدیقی نے لکھا ہے۔ عنوان ہے محسن انسانیت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ’’خوشبو ہے دو عالم میں تری‘‘۔

مذکورہ مضمون مصنف کا تحریر کردہ ہے، وہ لکھتے ہیں ’’یہ کتاب جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے، لکھنے کی ابتدا کی تو مجھے لگا کہ محبوب خدا ﷺ پر کچھ لکھنا تو دل و جاں سے کھیلنے والی بات ہے، ہزاروں صفحات میرے قلم سے نکلے ہوں گے، یہ قلم الفاظ کا شناسا ہے، سینہ بے خوفی نڈر میں خیالات کے گلاب کھلتے ہیں۔

مگر کیا کروں اس نور میں میری آنکھیں چکا چوند ہیں، کچھ بھی دکھائی نہیں پڑتا، دکھائی دے بھی تو دیکھنے کا یارا نہیں، محبت کاروان کبیر ہے رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس جس کے کنارے میں نے بھی اپنا گھر بنا لیا ہے۔ وادی رسول ﷺ میں میرا بھی ایک مسکن ہو، میرا نام بھی حضور ﷺ کی مداح کرنے والوں میں آ جائے۔

یوم حساب اس کتاب کو میرا اعمال نامہ بنا کر میرے ہاتھ میں تھما دیا جائے اس کے سوا دوسری کوئی تمنا نہیں میری۔‘‘ اللہ سے دعا ہے مصنف کی دعاؤں کو قبولیت کا درجہ عطا فرمائے۔ محمد الیاس نے زندگی کی خوش نصیبی اور مبارک ساعتوں کا ذکر دل آویز انداز میں اس طرح کیا ہے۔

’’اس وقت میری عمر پون صدی سے تجاوز کر رہی ہے، آدھی صدی گزری جب میں نوجوان تھا 24-22 سال کا جوان رعنا ایک رات خواب میں آقائے دو جہاں ﷺ کی زیارت ہوئی، میں خود سے سنبھل نہ پا رہا تھا، صدمات جوانی کے عین درمیان سے اگر میں اس پار جا نکلا تو صرف اس خواب کے سہارے جو میری زندگی کی کل متاع تھا۔

آج تک اپنی زندگی اس شرف کو سینے سے لگا کر بسر کی ہے کہ ایک رات رحمت دو عالم ﷺ سے خواب میں میری ملاقات ہوئی تھی۔ کاش میرے بس میں ہوتا کہ میں وقت کو روک دیتا کہ نہ گزرے، اے کاش گزرے لمحوں کا کوئی ماضی ہوتا نہ مستقبل، بس وقت رک سا جاتا رات ہی رہتی دن کبھی نہ نکلتا۔‘‘

مصنف کے لکھنے کا انداز یقینا جداگانہ ہے۔ آج تک ہزاروں بلکہ لاکھوں سیرت نبی ﷺ پر مہکتی ہوئی کتابیں اشاعت کے مراحل سے گزر چکی ہیں۔ ہر عاشق رسول، محمد ﷺ کی محبت میں ڈوب کر لکھتا ہے لیکن انداز تحریر سب کا جداگانہ ہے۔

کچھ حضرات اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت و عقیدت کا حق ادا کرتے ہیں اور اپنے جذبات کو مہکتے پھولوں کی طرح صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتے ہیں کچھ حضرات حضرت محمد ﷺ کی مکمل زندگی کا احاطہ کرکے معطر عرق کشید کرکے اپنے دل و دماغ میں محفوظ رکھتے ہیں اور جب آپ ﷺ کی ذات اقدس پر مدح سرا ہوتے ہیں تو قلم میں روشنائی کی جگہ مہکتا ہوا عرق اپنا جلوہ دکھاتا ہے۔

لکھنے والا آپ ﷺ کے اوصاف و اخلاق طیبہ، صبر و تحمل، ایثار و قربانی، دیانت داری و نیکی، شرافت و پاکیزگی کو بیان کرتے ہوئے ایک ایسے گلشن میں پہنچ جاتا ہے جہاں نور ہی نور تاحد نگاہ پھیلا ہوتا ہے۔ پھول اپنی خوشبوئیں لٹا رہے ہوتے ہیں، باد بہاری ہرے بھرے اشجار کے سبز پتوں کے ساتھ مل کر گویا حمد و ثنا میں مصروف ہوتی ہے۔

مصنف نے اپنی علمیت کی بدولت اللہ تعالیٰ کی اپنے محبوب سے محبت بھرے واقعات آپ ﷺ کے معجزات کو صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا ہے۔ سورہ الم نشرح اور سورۃ الضحیٰ کا نزول ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کو اپنے پیارے محبوب سے کس قدر محبت ہے۔ اذان میں، نماز میں، قرآن میں، معراج میں ہر جگہ اللہ ساتھ ہے۔ آپ ﷺ غم زدہ ہوتے ہیں تو اللہ تسلی دیتا ہے۔

’’اے پیارے نبی! کیا ہم نے آپ کا سینہ کشادہ نہیں کیا اور ہم نے آپ پر سے وہ بوجھ بھی اتار دیا، جس نے آپ کی کمر جھکا دی تھی اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کیا۔‘‘جب ذکر دوسرے انبیا کو نوازنے کا آتا ہے تو اللہ فرماتا ہے ہم نے آپ ﷺ کو وہ مقام عطا کیا جو کسی نبی کے حصے میں نہیں آیا۔

و رفعنا لک ذکرک۔

سورۃ الضحیٰ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبیﷺ کی دلجوئی اور تسلی کے لیے نازل کیا اور قسم کھائی آیت 1 تا2 اللہ تعالیٰ نے چڑھتے دن کی روشنی (ضحی) اور چھپ جاتی ہوئی رات کی قسم کھا کر فرمایا کہ آپ کا رب آپ سے ناراض نہیں ہوا۔

اس کا شان نزول یہ ہے کہ جب چند روز تک وحی کا سلسلہ کچھ دیر کے لیے رکا تو کفار مکہ نے طعنہ دیا کہ محمد ﷺ کو اللہ نے چھوڑ دیا ہے اور ناراض ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی شان کریمی اور رسول پاک ﷺ کی سخاوت و عنایت اپنی امت سے بے پناہ محبت کی داستانوں سے تاریخ بھری ہوئی ہے۔

محمد الیاس کھوکھر ایڈوکیٹ مرحوم نے آپ ﷺ کی حیات مبارکہ اور آپ ﷺ کی محبت کو دل کی گہرائیوں میں بسا کر جائزہ لیا ہے۔ محبت کی روشنی سے کتاب کا ہر ورق روشن نظر آتا ہے۔ کتاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ہر باب سے پہلے اس کا تعارف قاری سے کروایا گیا ہے کہ فلاں باب میں کن اصحاب رضی اللہ تعالیٰ علیہم کا ذکر مبارک ہے۔

ازواج مطہرات کی تفصیل سے بہت سی معلومات سامنے آتی ہیں کہ کن حالات میں حضرت محمد ﷺ نے عقد مبارک کیا۔

غزوہ بدر سے غزوہ تبوک کے حالات و واقعات پر روشنی ڈالی گئی۔ غرض کتاب کا انداز فکر عالمانہ محبت و تقدس سے لبریز ہے۔ اسلوب بیان سادہ اور پراثر ہے۔

Load Next Story