سلسلے وار

جین زی کے بارے میں باتیں تو بہت ہوتی ہیں لیکن اس نسل کے بچوں کے دکھ ہی الگ ہیں

’’اب میں نے فلاں کو دیکھا تو میں تو حیران ہی رہ گیا۔ وہ مجھ سے جونیئر سیکشن میں پڑھتی تھی، اب شاید کہیں جاب کر رہی ہے یا انٹرن شپ پر ہے۔ اس کا کام زیادہ تر کمپیوٹر پر ہوتا ہے تو شاید اس لیے میں تو چونک گیا اسے کیا ہوا، اس کی کمر نہیں بلکہ گردن سے نیچے کا حصہ عجیب انداز میں گول سا ہو گیا۔ ایسے خم کھایا ہوا۔‘‘

’’کیا وہ لڑکی بچپن سے ایسی تھی؟‘‘

’’نہیں بھئی۔۔۔۔ وہ تو بہت ایکٹیو لڑکی تھی اور میں اسے اس طرح بھی جانتا ہوں کہ وہ میرے فرینڈ کی کزن ہے۔ پھر سی آر بھی تھی اور ہم اسے بڑا چکما دیتے تھے، تنگ کرتے تھے۔ مجھے تو اتنا افسوس ہوا اسے دیکھ کر۔‘‘

جین زی کے بارے میں باتیں تو بہت ہوتی ہیں لیکن اس نسل کے بچوں کے دکھ ہی الگ ہیں، تیز رفتار زندگی اور اس کی ایجادات و آسائشات کے تحت ملنے والی سہولیات ان کے لیے فائدہ مند ہیں لیکن ضرر رساں بھی ہیں ،یہ کسی ایک بچی یا بچے کا نقصان نہیں ہے بلکہ ہماری ایک نسل ہے جو اس عجیب جادوئی چکر میں الجھ کر گھوم رہی ہے۔

2010 کی ایک رپورٹ نظروں سے گزری جس میں روزانہ پانچ سے آٹھ گھنٹے ٹی وی دیکھنے والے افراد کے بارے میں بتایا گیا تھا۔

طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ روزانہ پانچ سے آٹھ گھنٹے ٹیلی وژن دیکھنے والے لوگ مٹاپے کا شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ ٹیلی وژن دیکھتے ہوئے کھانے پینے کا عمل جسم میں انرجی کی کھپت کو دیر تک روکے رکھتا ہے، کیونکہ ٹیلی وژن پر چلنے والے پروگراموں پر توجہ دینے سے یہ توانائی قدرتی طریقے سے جسم کا حصہ بننے کی بجائے چربی میں بدل جاتی ہے۔

انھیں اپنے مستقبل سے خوفزدہ کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نئی نسل کے پڑھے لکھے بچے اب اپنا کاروبار کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

کیا ہم بڑی بڑی انجینئرنگ یونیورسٹیز کے نوجوانوں کو ڈھابے اور ٹھیلوں پر اپنا بزنس اسٹارٹ کرتے نظر نہیں آتے، وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنا کام کریں اور اس کی ترقی و ترویج کو اپنی تعلیم کے ذریعے نکھارنا چاہتے ہیں اور ایسا ہوا بھی ہے۔ مقتول نوجوان کی مثال سب کے سامنے ہے لیکن اس نوجوان کی کہانی کا تکلیف دہ اختتام لوگوں کے دلوں کو دہلا رہا ہے۔

جین زی کیونکہ مکمل ڈیجیٹل دور میں پلی بڑھی ہے، لہٰذا انھیں اپنی ذہانت کو پاش کرنے میں زیادہ وقت پیش نہیں آیا وہ کچھ اپنی عقل تو کچھ اپنی مصنوعی ذہانت کے سہارے کام کرتے ہیں لیکن ان کی یادداشت پر مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل سوشل میڈیا کس طرح حملہ آور ہو رہے ہیں انھیں ابھی اس بات کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں لیکن اس سب میں ان بچوں سے زیادہ ہمارے گھروں کی تربیت کا بھی عمل دخل ہے جہاں والدین سے لے کر دادا، دادی، نانا، نانی اور ایسے ہی رشتے ڈیجیٹلی رابطوں سے جڑے اپنی دنیا میں گم ہیں۔

ابتدا میں جس بچی کا ذکر کیا گیا ہے اس جیسے نہ جانے کتنے بچے بچیاں جسمانی طور پر مسائل کا شکار ہو رہے ہیں جس طرح 2010 کی رپورٹ میں جسمانی ساخت یعنی موٹاپے ۔

اس تحقیق کے دوران چھ ہزار دو سو اٹھاسی لوگوں کے طرز زندگی، ٹی وی دیکھنے کے دورانیے اور مٹاپے کی شرح میں تعلق کے بعد ماہرین طب اس نتیجے پر پہنچے کہ ٹیلی وژن کی نشریات نے دنیا بھر میں مٹاپے کے رجحان میں بائیس فی صد اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ بچوں کو اس عادت سے دور رکھ کر ان میں مٹاپے کے رجحان کو کم اور جسمانی سرگرمیوں کے عمل کو فروغ دینا چاہیے۔

اس تحقیق کو بیان کرنے کا مقصد دراصل اس دور کے مسائل پر روشنی ڈالنا تھا جو ٹی وی دیکھنے کی وجہ سے انسانی زندگی پر اثر انداز ہو رہے تھے ،ترقی انسانی زندگی میں آسائشات اور آسانیاں لے کر ابھرتی ہے لیکن اس کے ساتھ سائیڈ انفیکشن ہمیشہ سے ایک مسئلہ بنا رہے ہیں جیسے مشینوں نے زندگی آسان کر دی ہے۔

خواتین مسالہ سِل بٹے اور ہاؤن دستے کی بجائے گرائنڈر میں پیستی ہیں، کھانا کچھ وقت اور کچھ گیس کی کمی کے باعث پریشر کوکر میں پکتا ہے۔ کام والی خواتین کی بہتات نے بھی روز مرہ کی زندگی کے عجب مسائل پیدا کر دیے ہیں زندگی سہل ہوتے ہوتے اس قدر دشوار ہوتی جا رہی ہے کہ ایک ہی کمرے میں والدین اور دو تین بچے اگر بیٹھے ہیں تو وہ آپس میں بات چیت یا عمومی گفتگو کرنے کی بجائے اپنے موبائل فونز کی اسکرین تک رہے ہوتے ہیں۔

یہ فضولیات ہماری جین زی کے حصے کا روگ بن کر ابھر رہی ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان کی نفسیات، ظاہری صحت، اطوار، تربیت کے علاوہ خاص کر ہمارے ملک اور ارد گرد کے ممالک میں کرپشن، تعصب اور لسانی حقائق کو تحقیق کا موضوع بنایا گیا تھا آئندہ دس سالوں میں اسی طرح جین زی کی بدلتی جسمانی ساخت کو کسی تحقیق کا موضوع بنایا جا سکتا ہے۔

ہم جدید ٹیکنالوجی کے تحت ہونے والی ترقی سے کس طرح مزید مستفید ہو سکتے ہیں آج کا انسان محض اسی تحقیق میں لگا رہتا ہے۔ یہ سوچے بنا کہ اس کے ساتھ کس طرح نقصانات ہماری روزمرہ کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ ہر دس برس بعد ایک نئی تحقیق ایک نئی نسل کے ساتھ سامنے آتی رہے گی۔

سائنسی ایجادات، مصنوعی ذہانت اور اس سے منسلک شاخیں انسانی نسل کے لیے مفید ہیں لیکن اس کے بے تحاشا فوائد کے ساتھ کئی نقصانات بھی کھڑے ہیں، توجہ اس بات کی ہے کہ فطرت کے منافی کچھ کرنا، سمجھانا اور سمجھنا ہی انسان کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے، لہٰذا قدرت کی جانب سے طے شدہ لکیر سے آگے نکلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ اس سے آگے بربادی اور تباہی منہ کھولے کھڑی ہے۔

لہٰذا یہ کہنا کہ جین زی بے صبری ہے، جلد مشتعل ہو جاتی ہے، ذہانت کی کمی ہے اس لیے مصنوعی ذہانت کا بے بہا استعمال کرتی ہے، غلط ہے کیونکہ اس طے شدہ لکیر سے آگے جانے کے راستے تو ان سے پہلے کی جنریشن یعنی ایکس اور وائی نے ہی فراہم کیے ہیں۔ کیا ہم اس جنریشن کی حفاظت کے لیے متحد ہو کر کوئی ایسا قدم اٹھا سکتے ہیں جو ہماری جین زی کو آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے کچھ اچھا اور مثبت کرنے کا موقع فراہم کر سکے۔

 

Load Next Story