زباں فہمی292 ؛ کچھ اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کے بارے میں ، (حصہ سِوْم)

زباں فہمی292 ؛ کچھ اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کے بارے میں ، (حصہ سِوْم) تحریر سہیل احمد صدیقی

زباں فہمی292 ؛ کچھ اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کے بارے میں ، (حصہ سِوْم)

(گزشتہ سے پیوستہ)

ایک ماخذ سے فرانسی فرہنگ نقل کرتے ہوئے مزید ذخیرہ دریافت ہوا جو یہاں پیش کرتا ہوں:

فرانسی سے اردو میں آنے والے الفاظ کاتعلق مختلف شعبہ جات سے ہے اور تھا۔ عسکری شعبے میں مندرجہ ذیل الفاظ درآمدہ ہیں:

انفینٹری(infantry، بلکہ فرانسی میں infanterie آں فانتیغی،جس کا ماخذ لاطینی الاصل لفظ آں فاں  infans بمعنیٰ بچّہ یا بولنے سے معذور شخص ہے)، آرم(فرانسی میں آغمarmes، جڑ لاطینی اور دیگر یورپی زبانوں میں موجود)، آرمی (فرانسی میں arméeآغمی)، آرڈی نینس بمعنیٰ سرکاری فرمان،حکم نامہ (قدیم فرانسی میں اوغدی نانس ordenance، جدید فرانسی میں اوغدو نانس ordonnance)، الارم(alarmeالاغم;لاطینی الاصل)، اسکواڈ (esquade ;لاطینی الاصل)، بٹالین (بتائی لوں bataillon،لاطینی الاصل)، بگل (فرانسی میں بْوگلbugle:اس کی جڑ لاطینی میں ہے اور یہ لفظ بھینس یا جنگلی بیل نیز اْس کے سینگ سے بننے والے نرسنگھے یا ساز کے لیے استعمال ہوتا تھا، وہی نرسنگھا جس سے قیامت کے روز صْور پھونکا جائے گا۔ ہندی میں یہی لفظ نامعلوم ذریعے سے داخل ہوا تو ’بِگْل‘ کہلایا Bigul، میرا قیاس ہے کہ انگریزی یا فرانسی ہی سے مستعار لیا گیاہوگا۔ اس لفظ کا اوّلین استعمال بھی 1857ء کی جنگ ِ آزادی کے وقت کیا گیا تھا، نمعلوم کیوں محققین کو اِس کا ماخذ نہیں ملا)، بمبارڈ (bombarde بوں باغد، لاطینی الاصل)، پیراشوٹ (فرانسی: پاغاشْوت)، پلاٹون (فرانسی: پیلو توں peloton)، چیلنج (فرانسی: شالوں ڑے chalonge)، راکٹ (فرانسی  غوکیتroquette، اطالوی الاصل)، ریجمنٹ(فرانسی: غے ڑی ماں ;یونانی و لاطینی الاصل)، سائنس (فرانسی: سی آنس)، سیلنڈر (فرانسی: سی لاندغcylindre)، سنتری(انگریزی sentry جس کا ماخذفرانسی،ساں تْو ایغ یعنی مقدس جگہsaintuaire)، سارجنٹ(فرانسی: سیغ ڑاں sergeant)، کپتان، کیڈٹ، کیمپ،کرفیو، کرنل، کیوِلری، گیریڑن، لیفٹیننٹ،مارشل، گرینیڈ،میگنٹ،سائنس کی مختلف شاخوں میں مستعمل فرانسی الفاظ: آرمیچر،ایکس رے، ایمپلی فائر،بلب، پیپسین، ٹرانسفارمر،ٹیوب، ٹارچ،سیلولائڈ،فِلامنٹ، فاسل،کاربن، کیبل، کیلوری، کیمسٹ،کرسٹل، کرنٹ،وولٹشعبہ طب میں مستعمل فرانسی الفاظ: اونس، ٹانسل، ٹِشو، ٹیمپریچر، جَرم، ڈاکٹر، ڈوز، فزیالوجی،فزیشن،کارونر،کیپسول،فریکچر، نرس تجارت وصنعت وحرفت میں دَر آنے والے فرانسی الفاظ:

اسٹور،اسٹیشنری،انشورنس،انک،انوائس،پرنٹ،پورسلین، پومیڈ، پیٹنٹ، پینٹ  پیرافن، سرچارج، ٹینڈر،ریفائنری،ریستوراں، سنڈیکیٹ، سیمپل، سیمنٹ، فارم، فارمیسی،کارپوریشن،کارڈ،کامرس،کاؤنٹر، کرنسی، کمیشن، لائسنس، لانڈری، مرچنٹ ،رسل ورسائل اور نقل وحمل میں مستعمل فرانسی الفاظ: ایکسپریس، ایمبولنس، پاسپورٹ، پوسٹ، ٹرین، ٹرانسپورٹ، ٹور، ٹورسٹ،جیٹی،ریل،ریلے،سارٹنگ، سائئیکل،فٹن،کوچ، کور(عسکری اصطلاح)،میلطعام وشرب میں مستعمل فرانسی الفاظ: آملیٹ، جِن (شراب)، جیلی، ڈنر، ریفرِشمینٹ،سامن (مچھلی)، سَوس(چٹنی)، سْوپ یعنی شوربہ،شامپین/شیمپین، کسٹرڈ، کینٹین، ملبوسات میں مروّج فرانسی اسماء و اصطلاحات: بلانکٹ/ب لینکٹ، پتلون، ٹیپسٹری، جاکٹ/ جیکٹ، سْوٹ، کاڈرائے،کریپ،کوٹ، گون/گاؤن، کرمیچ شعبہ قانون میں مروّج فرانسی اصطلاحات: اٹارنی، اسٹاچو/ اسٹیچو، بِل، پارلیمنٹ، پریکٹس، پِلِیڈر، جج، جوڈیشل،رپورٹ، رول،رِیسیور،سیل، سمن،سیشن، سیکشن، سینٹ، فیڈرل، کرفیو، کورٹ،کیس،مجسٹریٹ بذریعہ انگریزی اردومیں داخل ہونے والے فرانسی الفاظ میں اردلی، ایڈی کانگ/اے ڈی سی، بسکٹ،بوتل، بوچڑ،بیانٹ،پتلون،پلٹن، پلول، جنرل،رنگروٹ،سنتری، قرابین، قرمیچ، کٹلیس، کارتوس، لالٹین وغیرہ شامل ہیں۔معذرت خواہ ہوں کہ تنگی وقت و قرطاس کے سبب تمام اسماء و اصطلاحات کا صحیح فرانسی تلفظ نہیں لکھ رہا۔

اردو کے محسنوں میں فرانس کے عظیم مستشرق،ماہر ِ لسانیات گارساں دتاسی (گاخ ساں دوتاسیGarcin de Tassy)کا نام اس لحاظ سے نمایاں ہے کہ وہ کبھی برّعظیم پاک وہند تشریف نہیں لائے، مگر اْنھوں نے(ابتداء میں اسلام سے متعلق مطالعے پر مبنی کتب تحریرکرنے کے بعد) اردو اور ہندی کی ارتقائی منزل کے چشم دید گواہ کی حیثیت سے فرانس میں بیٹھ کر درس دینا شروع کیے جو مابعد اْردو زبان واَدب کی تاریخ کا گراں قدر سرمایہ بن گئے۔ 25 جنوری، 1794ء کوفرانس کے مشہور شہر مارسیلز(ماخ سی اےMarseille) میں پیداہونے والے یہ عظیم زباں داں اپنے وقت کے نامور مستشرق و ماہر لسانیات جناب سِیلویستغے دو ساسی (Silvestre de Sacy) کے شاگردتھے۔ انھوں نے عربی، فارسی اور تْرکی کی تعلیم حاصل کی، جبکہ اردو اور ہِندی سے شغف کے سبب ان زبانوں سے بخوبی آگاہ تھے۔ 1828ء  میں وہ  Institut National des Langues et Civilisations Orientals(ادارہ قومی برائے زبان وتمدن ہائے مشرقی) میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے اور طویل عرصے تک خدمات انجام دینے کے بعد  1838ء  میں اْن کا انتخابAcadémie des Inscriptions et Belles-Lettres میں شمولیت کے لیے ہوا۔ وہ Société Asiatique یعنی ایشیاٹک سوسائٹی کے بانیوں میں شامل اور صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ماہرین میں شامل تھے جو 1822ء￿  میں ایشیا سے متعلق علمی آگہی کے فروغ کے لیے قائم ہوئی مگر اِس کا کلکتہ کی دی ایشیاٹک سوسائٹی سے کوئی تعلق نہ تھا۔

گاخ ساں دوتاسی عْرف گارساں دتاسی کی کتب کی تعداد  155 سے زائد بتائی جاتی ہے جن میں ’’ہندوستانی ادب کی تاریخ‘‘ (تین جلد)، اردو ادب کے بارے میں اپنی زبان میں مضامین،متعدد اْردو اَدبی نگارشات کی تدوین اور کئی مشہور اردو ادبی مجموعات کا فرانسی میں ترجمہ شامل ہے۔اوّل الذکر کارنامہ اس لحاظ سے بہت منفرد ہے کہ ماقبل خود اْردومیں بھی ایسی کوئی کتاب موجود نہیں تھی۔بوجوہ اس عظیم محسن ِ اردو کی خدمات کا تذکرہ مختصر کرکے آگے بڑھتا ہوں۔

فرانسی فرہنگ ِ اردو اور گارساں کے بعد اِک نظر ادبیات پر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر چند اِنگریز نے فرانسی اقتدارکاخاتمہ کرکے ہندوستان پر یکہ وتنہا تسلط قائم کرلیا تھا مگر دنیائے ادب میں اردوکا چراغ روشن ہورہاتھا اور اْس کی لَو بڑھانے میں کچھ فرانسی شعراء کا بھی حصہ تھا۔یہاں بعض کتب اور اپنے ہی ایک پْرانے مضمون کے اقتباسات کی مدد سے کچھ مواد پیش کرتا ہوں:

مغل تاجدار بہادرشاہ ظفر کے دور میں، میر، غالب اور ذوق کے معاصر،ایک سخنور،شاہ نصیر (1756ء  تا  1837ء) بھی اپنے عہد میں گویا اْستاد ِ اَساتیِد تھے جن کے تلامذہ میں بیل تیزیغ (Belthezer) اَسیر بھی شامل تھے جنھوں نے دہلی میں طویل قیام کے دوران میں نہ صرف اردو سیکھی بلکہ اس قدر عبور حاصل کیا کہ شعرگوئی میں اہل ِ زبان کے ہم پلّہ قرار پائے۔(ان کا نام را م بابوسکسینہ نے Belthezerغالباً کہیں سْن کر لکھا ہوگاکیونکہ یہ نام Balthazar(بال تا زا) ہے اور اِس کا متبدل رْوپ Belthazerہے;قدیم بابِل کے دیوتا بعل سے موسوم اس نام کا مطلب ہوا: خدائے بعل،بادشاہ کی حفاظت کرتا ہے۔یہی بعل اْن جھوٹے خْداؤں میں شامل ہے جن کی پْوجا زمانہ جاہلیت کے عرب بھی کیا کرتے تھے اور جن کا ذکر قرآن مجید میں بھی آیا ہے)۔بقول سری رام، اسیر صاحب ’’نہایت پْرزور، تنومند، زود فہم اور شجاع آدمی تھے‘‘ اور بقول سکسینہ ’’اس قدر طاقت ور آدمی تھے کہ ایک چھوٹے ہاتھی کو کھڑا کرکے اپنی طاقت سے اْسے روکتے کہ مہاوَت کی انتہائی کوشش کے باوجود، وہ اپنی جگہ سے نہ ہِل پاتا‘‘۔اسیر عیسائی تھے اور نواب ظفر یاب خان کے درباری شاعر۔اْن کا نمونہ کلام ملاحظہ فرمائیں:

شمع فانوس میں درپردہ جلی ہے دیکھو

شعلہء  آہ نکالے ہے،جگر  سے  باہر

٭٭٭٭

اسیر اِس بحرِ اْلفت میں  نہیں  گر  آشنا  کوئی

تو کیوں موج ِ رَواں ہے،صورتِ زنجیر کیا باعث

٭٭٭٭

بزم میں رِندوں کی رات یونہی گئے شیخ جی

جام تھا، مِینا  تھا  اور  رَشکِ گلستان   گْل

٭٭٭٭

کچھ  یہ  طوفان نیا لائے گی شاید کہ اَسیر

  بے طرح آئے ہے یہ دِیدہ ء  خوں بار نظر

٭٭٭٭

مضمون باندھتے ہیں تو اَب تک وہ اے اسیر

یعنی   نصیر   حضرتِ اْستاد  کی  طرح

نپولین بونا پارٹ کے خاندان کی ایک شاعرہ فلورا سارکس نپولین نے اردو شاعری میں پروین  اور شریر کے تخلص سے شہرت پائی اور اْنھیں شہزادی فرطیس بانو اور اَخترجہاں کے القاب سے نوازا گیا، نیز اْن کی عْرفیت کج کْلاہ (تِرچھی ٹوپی والی) تھی۔(اس نام میں فلوغا اور ناپولی اوں کا تلفظ تو خاکسار کو معلوم ہے مگر سارکس نام کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں، اندازے سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر یہ نام کاف پر زبر کے ساتھ ہے تو فرانسی میں اس کا تلفظ ’ساخ کس‘ ہوگا)۔اْن کی والدہ میری وکٹوریہ سارکس نپولین کے والد کاؤنٹ ولیم سارکس، رام پور کے سپہ سالار تھے۔(ماغی وِیکتوغیا۔یا۔خالص فرانسی ہجّوں میں نام وِیک تواغVictoire ہوگا)۔اْن کا سن پیدائش (قیاساً) 1895ء￿   تھا، جبکہ وفات کے متعلق کچھ علم نہیں۔پروین کے والد،میرزا عاشق حسین بزم، مرثیہ خوانی ومرثیہ گوئی میں ممتاز ہوئے اور نواب شاہجہاں بیگم، والیء  بھوپال نے انھیں وزیرِ بھوپال (یعنی وزیراعظم) کا اے ڈی سی مقرر کیا تھا۔پروین  کی پیدائش تہران (ایران) میں ہوئی جہاں اْن کے والدین ’عہدِ زِفاف‘ (Honeymoon) منانے گئے تھے۔پروین  نہایت زندہ دل، بذلہ سنج، خوش مذاق اور طبّاع خاتون تھیں۔فقط نو سال کی عمر میں عربی وفارسی کی ابتدائی تعلیم مکمل کرکے شعر کہنے لگی تھیں، جبکہ گیارہ سال کی عمر میں اْنھیں علی رضا نقوی، زمیندارِ سرسی سے بیا ہ دیا گیا ;یہ شادی آٹھ سال بعد ہی ختم ہوگئی۔پروین کے اْستاد جناب مْنّا، والی ء  رام پور کے ہوم سیکریٹری تھے۔ نمونہ کلام پیش کرتا ہوں:

کیا ایسا مایوس ناکامیوں نے

دعا میری بابِ اثر ڈھونڈتی ہے

یہ عقدہ کْھلا قیس  کی  جستجو  سے

محبت بھی راحت کا گھر ڈھونڈتی ہے

٭٭٭٭

سنبھل کے پرویں قدم اْٹھانا کہ سخت مشکل ہے راہِ اْلفت

ہزاروں جاں باز مرمِٹے ہیں، وہ ڈھب ہے قاتل کی آستیں کا

٭٭٭٭

یہ جو ہے ملنے میں عار،دیکھیے کب تک رہے

دشمنِ جاں  وہ  نگار، دیکھیے کب تک  رہے

قلب میں اْس کے غبار،دیکھیے کب تک رہے

 ہم سے خفا ہے جو  یار، دیکھیے  کب تک رہے

غیر کا یہ اعتبار، دیکھیے کب تک رہے

اردو کے یورپی شعراء میں سب سے زیادہ معتبر نام جارج پیش(جَوغڑ پوئیش (George Puech  المتخلص بہ شور کا ہے جو 1823ء میں، کوئل، علی گڑھ میں پیدا ہوئے اور جنگِ آزادی 1857ء کے چشم دید حالات رقم کرکے ممتاز ہوئے، مختلف نوعیت کی سرکاری ملازمتوں کے بعد 1894ء میں میرٹھ میں (یا بہ اختلافِ روایت میرٹھ کے قریب، اثنائے سفرمیں) فوت ہوئے۔اْن کے نانا مشہور اْردو شاعر،فراسو کوئین خود اْردوشعراء  کے مربّی اور اَلمانوی (German) نڑاد  تھے۔جارج کے والد کا نام جان پیش تھا اور وہ اپنے والد کی اٹھارہ اولادوں میں واحد مشہور شخصیت تھے۔شور کی تصانیف میں چھَے دیوان، ایک مثنوی اور ایک بیاض شامل ہیں۔انھوں نے  جنگِ آزادی 1857ء کے رْوح فرسا واقعات اپنی کتاب ’’وقایع حیرت افزا‘‘ میں لکھے تھے۔شور اْن فرنگیوں میں شامل تھے جنھوں نے مشرقی ومسلم وضع قطع اختیار کرلی تھی۔وہ ہمیشہ انگرکھا، دوپلّی ٹوپی، سلیم شاہی جوتی اور تنگ پاجامے میں ملبوس ہوا کرتے تھے اور اَپنی اصل مغربی وضع قطع سے گریز کرتے تھے،خواہ ہم وطن کتنا ہی اعتراض کریں۔شور نہایت قوی الجْثہ، تنومند، تندرست، زندہ دل،خلیق، یارباش اور متواضع شخص تھے۔ اْن کی ذہانت نے میدان ِ سخن میں بھی جھنڈے گاڑے۔ وہ میرزا رحیم بیگ(سکنہ میرٹھ)، قطب الدین مشیر دہلوی اورمشیر  کے فرزند غلام دستگیر مبیں  کے شاگرد تھے۔محض پندرہ برس کی عمر میں شعرگوئی کا آغاز کیا اور فارسی میں بھی خوب طبع آزمائی کی۔انھیں اپنے کلام کے اْستادانہ رنگ پر اِتنا ناز تھا کہ داغ جیسے مستند سخنور کو بھی گویا للکار تے تھے:

اگرچہ داغ بھی مشہور ہے،شیرینیء  کلام میں

مگر تم شور  ہوکر  شور  ہو شیریں زباں پھر بھی

بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اْردو غزل پر مکمل عبور کی وجہ سے خود لَسّان العصر داغ دہلوی نے شور کو ’مالکِ مْلکِ سْخن‘  قرار دیا تھا۔ انھوں نے شور کی وفات پر ایک فارسی قطعے میں بھی یہ لقب استعمال کیا تھا۔

شور کا نمونہ کلام پیشِ خدمت ہے:

ان آنکھوں سے ہم نے ایک زمانہ دیکھا

نادان  کو  بکارِ  خویش  دانا   دیکھا

دشمن اور دوست دولت کے ہیں سب

دنیا  کا  عجیب کارخانہ  دیکھا

٭٭٭٭

قطعہ تاریخ ِ وفات ِ غالب: 

افسوس  کہ  غالبِ سخن سنج  مْوا

یہ حادثہ دِلّی میں  نیا اور  ہْوا

تاریخ جو میں نے اس کی چاہی شور

ہاتف نے کہا ’چراغ دہلی کا بْجھا‘

1285ھ مطابق  1869ئنمونہ غزل: 

کس کی نظر لگی کہ  میں  بیمار  ہوگیا

مجھ  کو  تو  عین عشق کا آزارہوگیا

٭٭٭٭

اے شور تھا بہار سے آباد جو چمن

بادِ خزاں کے چلتے ہی ویرانہ ہوگیا

جوزف مانْوک(جوسیف مانْوک(Joseph Manuck عاشق کو ہمارے یہاں یوسف صاحب اور دْلارے صاحب کہا گیا۔وہ ایک فرانسی کپتا ن اور ہندوستانی مسیحی ماں کی اولاد تھے۔ایک روایت کے مطابق جوزف عْرف یوسف عْرف دْلارے صاحب نے اسلام قبول کرلیا تھا۔وہ اپنے والدکے بعد نواب بھوپال سکندر جہاں بیگم کے موتی گارڈ کے کپتان مقرر ہوئے۔ نہایت خوش دل، خوش مزاج اور بذلہ سنج یوسف نے اپنے دور میں متعدد نوابین اور شعراء  سے صحبت میں اردو شعرگوئی کرتے ہوئے ممتاز مقام حاصل کیا۔ نمونہ کلام پیش کرتا ہوں:

محوِ نظارہ ہوا کس کے نظر کے تیرکا

طائر ِدل بدگماں ہے طائر ِ تصویر کا

٭٭٭٭

صورتِ فرہاد،عاشق  پھوڑ کے  پتھر  سے  سر

سنگ سے بھی سخت ہے دل اْس بْتِ بے پِیر کا

(جاری)

Load Next Story