کوچۂ سخن

یہ نالہ تب دلِ عشّاق سے نکلتا ہے  چراغ بجھ کے دھواں طاق سے نکلتا ہے 

غزل
یہ نالہ تب دلِ عشّاق سے نکلتا ہے 
چراغ بجھ کے دھواں طاق سے نکلتا ہے 
کبھی کبھی جسے لگتے ہیں پر خیالوں میں
حدودِ وسعتِ آفاق سے نکلتا ہے 
کتاب کھول کے تکتا ہوں رات بھر اس کو
وہ ایک عکس جو اوراق سے نکلتا ہے 
میں باپ بیٹے کی فرقت کا وہ فسانہ ہوں
جو خانوادۂ اسحاقؑ سے نکلتا ہے 
کتابِ زیست کا بھی ماحصل محبت ہے 
یہ اِک سبق کئی اسباق سے نکلتا ہے 
ہے کینوَس پہ وہ منظر اتارنا جس میں
کماں سے تیر، ہرن طاق سے نکلتا ہے 
ہوس کے دام میں آ کر ہی آدمی صادقؔ
اصولِ حلقۂ میثاق سے نکلتا ہے 
(محمد ولی صادق۔ کوہستان، خیبر پختون خوا)

غزل
تمہارا ہجر اسے آبشار کرتا تھا 
ہماری آنکھ پہ تھل انحصار کرتا تھا
وہ پھول دیکھنے آتا تھا باغ میں ہر روز 
میں خوشبوؤں کو وسیلہ شمار کرتا تھا
حضور آپ تو دل دے کے چیختے ہیں بہت 
میں ایک شخص پہ جاں تک شمار کرتا تھا
میں چاہتا تھا کہ وہ بولتا رہے، میں سنوں 
مگر وہ کم گو بڑا اختصار کرتا تھا
مری زباں پہ بھروسہ تھا اس لیے سب کو
کہ ایک شخص مرا اعتبار کرتا تھا
خدا کے بعد اسے مجھ پہ مان تھا کیونکہ
خدا کے بعد اسے میں ہی پیار کرتا تھا
کسی کی شکل اترتی تھی شعر بن کے حسیبؔ 
کوئی خیال مجھے سوگوار کرتا تھا
(حسیب الحسن۔ خوشاب)

غزل
گلہ اگر کوئی تھا عندلیب سے کروں گا میں 
کہ دل کی سب شکایتیں طبیب سے کروں گا َمیں
فساد سے جو کام آپ کر سکے نہ آج تک
معاملہ ہے حل طلب تو جیب سے کروں گا میں
کہانیاں ہیں ذہن میں ابھرتی ڈوبتی ہوئی
یہ ذکر کھول کر کسی ادیب سے کروں گا میں
ہمارے بیچ بات جو ہوئی ہے راز ہی رہے 
بتاؤ ذکر کیا ابھی رقیب سے کروں گا میں؟
مرا ترا معاملہ فقط تھا اونچ نیچ کا
نہ اب شکایتیں کبھی نصیب سے کروں گا میں
تمہارے ساتھ کی چھڑی جو میرے ہاتھ لگ گئی
تو دیکھنا کمال پھر عجیب سے کروں گا میں
رشیدؔ درد بانٹنے کا عہد کر لیا تو ہے 
جو ہو سکا تو ابتدا غریب سے کروں گا میں
(رشید حسرت۔ کوئٹہ)

غزل
باغ سے پھول چرانے کی بڑی کوشش کی
میں نے اس شخص کو پانے کی بڑی کوشش کی
نشہ کرتے تھے محبت کا، یہی عیب تھا بس
اور یہ عیب چھپانے کی بڑی کوشش کی
وقت بے وقت ہوئے خرچ ترے ہاتھوں سے 
ہم نے یوں خود کو لٹانے کی بڑی کوشش کی
میں نہ تڑپا، نہ مری آنکھ سے آنسو نکلے 
تم نے تو مجھ کو رلانے کی بڑی کوشش کی
گود میں رکھ کے مرا سر، مجھے بوسے دے کر
آپ نے زہر پلانے کی بڑی کوشش کی
ان کی نیت میں کوئی کھوٹ تھا ورنہ ہم نے 
اک تعلق کو نبھانے کی بڑی کوشش کی
(فیصل امام رضوی ۔مظفرگڑھ)

غزل
چلو کہ پھر سے زمانے کی بات کرتے ہیں
کہ تیرگی کو مٹانے کی بات کرتے ہیں
جو ہاتھ آگ لیے پھر رہے ہیں بستی میں
انہی پہ پھول کھلانے کی بات کرتے ہیں
ہیں سرحدوں پہ کھڑی خوف کی جو دیواریں
ملو کہ ان کو گرانے کی بات کرتے ہیں
کسی کی نیند میں بارود کا دھواں نہ رہے 
سہانے خواب سجانے کی بات کرتے ہیں
جو شخص مانگ رہا ہے حساب ظالم سے 
اُسی کا ساتھ نبھانے کی بات کرتے ہیں
نہ رنگ کا ہو تفاخر، نہ نسل کا جھگڑا
نیا جہان بسانے کی بات کرتے ہیں
وہ جس سے دنیا میں ہو روشنی محبت کی
وہی چراغ جلانے کی بات کرتے ہیں
(سہیل احمد سہیل ۔راولپنڈی)

غزل
ہے دل میں اگر آپ کے آہنگ، لگے بھی
نیرنگ سہی پیار، پَہ نیرنگ لگے بھی
کھلنا ہے جہاں غنچۂ انفاس کھِلے اور
لگنا ہے جہاں دل کا مرے سنگ، لگے بھی
کچھ روز تو اُس دل پہ حکومت تھی ہماری
کچھ روز تو ہم صاحبِ اورنگ لگے بھی
کھلتے ہیں بھلا کس لیے اسبابِ دو عالم
ہے حیطۂ ادراک اگر تنگ، لگے بھی
چہرے سے ہویدا نہ ہو بے کیف تاثر
ہو دنگ اگر کوئی تو پھر دنگ لگے بھی
اعلانِ تصادم ہو سرِ کوئے اماں اب
لگنی ہے اگر جنگ تو پھر جنگ لگے بھی
افسوس کہ کچھ کام نہیں آیا ملمع
بے رنگ تھے ہم لوگ سو بے رنگ لگے بھی
(ماہم حیا صفدر ۔فیصل آباد)

غزل
یہ نمی خون میں نہیں ہوتی 
شاعری خون میں نہیں ہوتی
یہ ہنر خود کمایا جاتا ہے 
عاشقی خون میں نہیں ہوتی
چند اپنی ضروریات بھی ہیں 
نوکری خون میں نہیں ہوتی
کہیں باہر سے پیدا ہوتی ہے 
بے حسی خون میں نہیں ہوتی
بعض موقع پرست کہتے ہیں 
مخبری خون میں نہیں ہوتی
(توحید زیب۔ رحیم یار خان)

غزل
میں سوچتا تھا دوست مرے پائدار ہیں 
لعنت کے مستحق ہیں مرے جتنے یار ہیں 
اب ان سے کوئی رسم و رہِ دوستی نہیں
جو آستیں کے سانپ تھے سب ناگوار ہیں
چہروں پہ مصلحت کے حجابوں کو دیکھ کر
اس دورِ کج ادا میں سبھی ہوشیار ہیں
سچ بولنے کی شرط پہ تنہا ہوا ہوں میں
جھوٹوں کے سر پہ تاج ہے، وہ تاجدار ہیں
اک ایک کر کے شہرِ وفا سے چلے گئے 
جو معتبر تھے آج وہی بے وقار ہیں
بے چین میرے یار ہیں میرے لیے جنیدؔ
مطلب کوئی تو ہو گا جو وہ بے قرار ہیں
(سید جنید مضطرب۔ فیصل آباد)

غزل
ذرا غور کر مرے ساقیا مجھے مے کشی سے نواز دے 
مرے خشک جام کو اے صنم نئی سرکشی سے نواز دے 
مرے زخم زخم خیال کو کوئی نغمگی تو عطا کرے 
کبھی چپ کے ساز میں بول کر مجھے شاعری سے نواز دے 
یہ جو خاک راہ میں رہ گئی اسے سرخرو بھی بنا دے تُو
کسی ہم سفر کسی ہم نوا کسی ہم دلی سے نواز دے 
تری بندگی میں جو گم ہوا اسے اب صدا بھی عطا تو کر
مرے اضطراب کو اے صنم کسی بے خودی سے نواز دے 
مرے خواب جن میں دھواں ہوئے انھیں اک چراغ عطا تو کر
مرے خالی پن کو نئی صدا نئی روشنی سے نواز دے 
میں جو وقت کی بھی گرفت سے کہیں اور جا کے نکل گیا
مرے اُس سفر کو کوئی نشاں کوئی رہبری سے نواز دے 
(عابد حسین صائم ۔ بورے والا)

غزل
پہلے تو میری آنکھ سے حیرت کشید کی
کچھ دیر بعد اس نے بصیرت کشید کی
کل شب کا واقعہ ہے کسی خط کشید نے 
صورت کے نام پر مری وحشت کشید کی
میں نے ترے بدن کے کئی زاویے چنے 
آخر میں زاویوں سے محبت کشید کی
پہلے چنے تھے آپ کی یادوں کے ہم نے پھول
پھولوں سے ہم نے آپ کی عطرت کشید کی
اس نے ہماری ذات کو سب کچھ عطا کیا
 اپنے لیے خود ہم نے اذیت کشید کی
فیضی ؔمرے خمیر کو ہیئت میں ڈھال کر
 حق نے بڑے کمال کی صورت کشید کی 
(اویس فیضی ۔پھلروان)

غزل
فلسفہ ہستی کا سارا چپ رہا
حیرتوں نے بھی پکارا چپ رہا
رو پڑا سن کر مری ہی گفتگو
آئنے کا عکس یارا چپ رہا
بجھ گئی جب عقل کی وہ روشنی
روح کا روشن منارا چپ رہا
مرنے پر ہر شے ابھارے ہے مجھے 
بجھ گیا سورج ستارا چپ رہا
بات کرنی تھی جسے محفل میں آج
درد کا وہ استعارہ چپ رہا
داستاں سنتے رہے وہ درد کی
پر جو دل کا تھا اشارا چپ رہا
میں کھڑا تھا اپنے ہی ماتم میں جب
دیکھ کر مجھ کو سہارا چپ رہا
(علی مان اذفر۔ مرید کے، شیخوپورہ)

غزل
باہر سے جانے کس نے دھکیلا دماغ میں
ٹھہرا ہے زندگی کا جھمیلا دماغ میں
اُن کو قریں بلایا مگر کچھ نہیں کہا
یہ کھیل وہ ہے میں نے جو کھیلا دماغ میں
کاغذ پہ لے کے آئے گا الفاظ کا ہجوم
بیٹھا ہے جو خیال اکیلا دماغ میں
ویرانیِ ریاضِ گماں ختم ہو گئی
سوچوں کا پھر سے لگ گیا میلہ دماغ میں
اس حسن نے یقیں مرے دل پر جما دیا
وہم و گماں کا لاوا انڈیلا دماغ میں
کابوس کے حصار میں برسوں سے قید ہوں
بہتا ہے ایک خوف کا ریلا دماغ میں
دائمؔ قیام گاہ ہوں دو لڑکیوں کی میں
ایلا ہے میرے دل میں تو بیلا دماغ میں
( دائم فراز۔نارووال)

’’گھمنڈ‘‘
خالی ہاتھ جو دیکھا مجھ کو
رستے مجھ سے پوچھ ہی بیٹھے 
منزل تک کیسے پہنچو گے 
زادِ راہ، نہ کوئی سہارا
خالی ہاتھ کہاں نکلے ہو؟
کیسا زعم ہے، کس کا گھمنڈ ہے 
کیا پاؤ گے، کھو جاؤ گے 
راہ گزر آسان نہیں ہے 
مر جانے سے بہتر ہے کہ
ان رستوں پر تھک جاؤ تم 
جہاں کھڑے ہو رک جاؤ تم
رستے مجھ سے پوچھ رہے تھے 
خالی ہاتھ کہاں نکلے ہو؟
منزل تک کیسے پہنچو گے 
میں نے ان کو اتنا کہا بس
میری منزل میرا مقصد!
حوصلہ، ہمّت میرا زعم ہے 
خالی ہاتھ نہ سمجھو مجھ کو
ماں کی دعائیں میرا گھمنڈ ہیں!
(شاکر احمد۔ ناظم آباد، کراچی)

موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘ روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی

Load Next Story