کون کیا ہے؟ سب کو پتا ہے

پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا موقف ہے کہ پیپلز پارٹی سے اتحاد ممکن نہیں اور اس حوالے سے بانی پی ٹی آئی کی ہدایت بھی موجود ہے۔

m_saeedarain@hotmail.com

پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا موقف ہے کہ پیپلز پارٹی سے اتحاد ممکن نہیں اور اس حوالے سے بانی پی ٹی آئی کی ہدایت بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی حکومت سے ہر چیز میں حصہ مانگ رہی ہے۔ الیکشن کے موقع پر (ن) لیگ اور پی پی ایک دوسرے پر تنقید کرتی ہیں اور بعد میں اتحادی بن جاتی ہیں۔

ہر سیاسی پارٹی کے متعلق سب کو پتا ہے کہ وہ نظریاتی، جمہوری اور ملک اور عوام کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ سیاسی، مالی اور ذاتی مفادات کے لیے کام کرتی ہے اور تمام سیاسی پارٹیاں زیادہ سے زیادہ اقتدار اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔

ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں اختلافات آج بھی موجود ہیں جس کا ایک اور ثبوت قومی اسمبلی میں حکومت کے چودہ قوانین کی منظوری نہ ہونا ہے جس کی منظوری موخر کر دی گئی ہے اور قومی اسمبلی کے اسپیکر نے وفاقی وزیر کی درخواست پر منظوری روک دی ہے جس کے بعد دونوں پارٹیوں میں بات چیت جاری ہے ،کوئی متفقہ فیصلہ ہوا تو قوانین منظور ہو جائیں گے مگر دونوں پارٹیاں عوام کو درپیش مسائل خصوصاً مہنگائی، پٹرولیم لیوی ختم کرنے اور بجلی و گیس سے جبری ٹیکسوں، خصوصاً فکسڈ چارجز ہی کے خاتمے پر کوئی توجہ نہیں دے رہیں۔

 پی پی اور (ن) لیگ 1988 سے 1999 تک ایک دوسرے کی مخالفانہ سیاست کرتی رہیں اور اقتدار کی باریاں اور ایک دوسرے کا مصنوعی احتساب اور انتقامی کارروائیاں کرتی رہیں جس کے نتیجے میں ہر سیاسی حکومت میں ملک عدم استحکام کا شکار رہا ہے اور ہر سیاسی پارٹی کو ملک کے مجموعی مفاد یا سیاسی استحکام کی بجائے صرف اقتدار کی فکر ہے ۔ہر سیاسی پارٹی کا حصول اقتدار کے لیے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سیاسی تنقید کی بجائے ذاتی حملے اور مبینہ الزامات لگانا سیاسی وتیرہ ہوتا گیا جس کے نتیجے میں سیاست دشمنی بنا دی گئی ہے۔

کسی سیاسی پارٹی کا سربراہ دوسروں پر کرپٹ، چور ڈاکو، ملک کو لوٹنے کا جو بھی الزام لگا دے اس کی پارٹی والے ان الزامات پر سو فی صد یقین کرکے اس کی کردار کشی شروع کر دیتے ہیں اور اپنے سیاسی قائد کے عائد کردہ الزامات پر ہی وہ مذموم سیاست شروع کر دیتے ہیں اور اپنے مفاد کے لیے اپنے سابقہ بیانات کی تردید کرتے ہیں اور نہ ہی الزامات واپس لیتے ہیں جس کی ایک نہیں بے شمار مثالیں موجود ہیں اور اپنے ماضی کے بیانات کو بھول کر اپنے سیاسی مفاد کے لیے ڈھٹائی سے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہی نہیں بلکہ اس کے در کے چکر لگانے میں شرم محسوس نہیں کرتے اور مل کر خور و نوش کا سلسلہ بھی چلتا ہے۔ ایک دوسرے کو کرپٹ بھی کہتے ہیں اور ایک دوسرے سے اتحاد بھی کرلیتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی سیاست (ن) لیگ اور پی پی ہی کے خلاف نہیں بلکہ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی پر بھی ذاتی حملے کرتی تھی۔ پی ٹی آئی نے اپنے ہی صدر مخدوم جاوید ہاشمی کو جو باغی مشہور تھے کو داغی قرار دیا تھا۔ بانی کے مخالفین ان پر ذاتی حملے کرتے اور ان پر الزامات لگاتے تھے جو اگر درست ہوتے تو بانی کی تین سالہ حکومت میں ثابت کیوں نہ ہو سکا۔

1996 سے جنرل پرویز اور عمران خان نے (ن) لیگ اور پی پی قیادتوں پر ملک لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بنانے کے الزامات لگائے۔ (ن) لیگ اور پی پی قیادت نے ایک دوسرے پر لندن میں سرے محل اور ایون فیلڈ جیسی قیمتی عمارتیں ملک لوٹنے کے پیسے سے بنانے کے الزامات لگائے مگر دونوں نے کبھی یہ الزامات تسلیم نہیں کیے تھے۔ ملک لوٹنے، کرپشن اور بے ضابطگیوں کے الزامات تینوں بڑی حکمرانی کرنے والی پارٹیوں پر لگتے رہے ہیں ۔ جنرل پرویز کے باعث پی پی اور (ن) لیگ نے میثاق جمہوریت کر لیا تھا۔

دونوں پارٹیاں پھر اقتدار میں آئیں۔ دونوں نے پہلی بار ایک دوسرے کی مدت پوری کرائی اور بعد میں پی ٹی آئی کے بانی نے پی پی، (ن) لیگ، جے یو آئی اور ایم کیو ایم کو اپنے خلاف متحد ہونے کا موقعہ دیا اور ان کی آئینی تحریک اعتماد کے ذریعے نہ صرف اقتدار سے محروم ہوئے بلکہ سابق حکمرانوں کی طرح سزائیں بھی بھگت رہے ہیں۔ الزامات 1973 کے بعد ہر حکمران پر بھی لگے ہیں۔ ملک میں مبینہ الزامات کی سیاست نے اس لیے فروغ پایا کیونکہ الزامات لگانے والوں کو عدالتوں سے کبھی سزا نہیں ہوئی، اگر ملک میں جھوٹے الزامات پر کچھ کو سزائیں ہو جاتیں تو ممکن تھا چور، ڈاکو، گھڑی فروش کے الزامات لگائے جانے کا سلسلہ فروغ نہ پاتا۔

اگر یہ الزامات درست ہوتے تو حکومت کی مخالفت میں اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوشش نہ ہوتی۔ کیسی سیاست ہے کہ پی پی کے چیئرمین محمود اچکزئی ملنے آئیں تو یہ وہ سیاستدان ہے جو ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے ہیں۔ (ن) لیگ، پی پی اور پی ٹی آئی میں موجود اکثر رہنما باہر سے نہیں آئے اور ماضی میں انھی پارٹیوں میں شامل رہے ہیں اور سب ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ کون کیا اور کتنا باصلاحیت ہے۔

سب کو ایک دوسرے کا پتا ہے مگر سیاست کی خاطر ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگانا کردار کشی کرنا سب کی سیاسی مجبوری بن چکی ہے اور تمام رہنما اپنے قائدین کی پیروی پر مجبور ہیں اور ایک دوسرے کو مخالف نہیں دکھاوے کے لیے دشمن بنائے بیٹھے ہیں۔ ایک دوسرے پر الزامات لگانے والے رہنما جب اسمبلیوں میں یا کسی تقریب میں ملتے ہیں تو ان کے درمیان تعلقات خوشگوار لگتے ہیں مگر سیاسی مجبوری اور سیاسی مفادات انھیں ایک دوسرے پر الزام تراشی پر مجبور کر دیتے ہیں اور یہی ان کی اور آج کی سیاست ہے۔

Load Next Story