حکمرانوں کو دوراندیش ہونا چاہئے!

سلطان عبدالحمید، سلطنت عثمانیہ کے سربراہ تھے۔ مسلمانوں کا درد محسوس کرتے تھے۔

سلطان عبدالحمید، سلطنت عثمانیہ کے سربراہ تھے۔ مسلمانوں کا درد محسوس کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحیثیت خلیفہ، مسلمان دنیا کے کسی بھی حصہ میں رہتے ہوں، ان کا تحفظ، ان کی ذاتی ذمے داری ہے۔ وہ واقعی اس کلیہ پر عمل بھی کرتے تھے۔ تین براعظموں کا سلطان، خیر حکمراں تو تھا ہی مگر اس کے اندر کئی ایسی خصوصیات تھیں جو اسے دوسروں سے ممتاز کر دیتی تھیں۔ اس کا ذکر، میں جرمنی کے شہنشاہ کی زبانی بیان کرنا چاہتا ہوں۔ جرمنی پہلی جنگ عظیم اول سے پہلے ہی ایک صنعتی طاقت بن چکا تھا۔

بادشاہ، کچھ دنوں کے لیے سلطان عبدالحمید کا مہمان بنا۔ جب دونوں ایک دوسرے کو جان گئے تو جرمن بادشاہ نے ایک لازوال جملہ کہا۔ ’’عبدالحمید کے پاس دنیا کے تمام حکمرانوں کی چورانوے فیصد ذہانت اور سیاسی شعور ہے۔ باقی دنیا کے بادشاہ یا حکمران عبدالحمید کے مقابلے پر صرف چھ فیصد سیاسی اور حکومتی شعور رکھتے ہیں۔‘‘ یہ ایک ایسا تاریخی فقرہ ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عبدالحمید بذات خود کیا تھا؟ برطانیہ، اس وقت ایک عالمی طاقت بن چکا تھا۔ پچھلی صدی کے ابتدائی دور کی بابت عرض کر رہا ہوں۔ اور وہ سلطان کو ایک بہت بڑا خطرہ تصور کرتا تھا۔

ہندوستان پر مغلیہ دور ختم ہو چکا تھا۔ مگر سطنت عثمانیہ بدستور قائم تھی اور یہ مسلمانوں کی واحد طاقتور ریاست تھی۔ ویسے ایک سوال ضرور ذہن میں آتا ہے کہ کیا وجہ تھی کہ سارے وسائل ہونے کے باوجود کسی بھی عثمانی حکمران نے صنعت وحرفت کی طرف سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا؟ ویسے آج بھی یہی معاملہ ہے۔ کوئی بھی مسلمان ملک، سائنس، جدت پسندی، تحقیقی اور معیشت کے میدان میں یورپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ پتہ نہیں، یہ کیا المیہ ہے۔ ویسے اس موضوع پر طالب علم کی حیثیت سے گزارشات پیش کرتا رہتا ہوں مگر اس کا کسی قسم کا کوئی مثبت اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔ خیر ذکر عثمانی سلطنت کا ہو رہا تھا۔

برطانیہ، مسلمانوں کی اس حکومت کو اپنے لیے خطرہ تصور کرتا تھا۔ بہت کم افراد کو اس امر کا ادراک ہے کہ آج سے ایک صدی پہلے ہی، ترکوں اور برطانوی حکومت نے مشرق وسطیٰ میں تیل کی موجودگی کا سروے مکمل کر لیا تھا۔ ترکوں نے تو باقاعدہ اس کا ایک مربوط نقشہ بھی بنا لیا تھا اور اس کو نکالنے کے لیے متعدد تجاویز زیرغور تھیں۔ برطانیہ کے پاس بھی تیل کے ذخائر کی مکمل تفصیل موجود تھی۔ سلطان نے ایک کمال منصوبہ بنایا تھا۔

انھوں نے ترکی سے حجاز تک ٹرین چلا دی تھی اور اس کا راستہ وہ رکھا تھا جہاں تیل کے ذخائر نزدیک تر تھے۔ انھوں نے وہاں فوجی چھاؤنیاں بنانے کا منصوبہ بھی تیار کر رکھا تھا۔ برطانیہ اسے ہر قیمت پر روکنا چاہتا تھا اور اس نے کیا بھی۔ عرب قبائل کو ترکوں کے خلاف بھڑکایا اور پہلی جنگ عظیم شروع کی۔ اس خوفناک جنگ کا ایک مقصد آج سے سو برس پہلے، مشرق وسطیٰ میں تیل کے ذخائر پر اپنا تسلط قائم کرنا تھا۔ بدقسمتی سے برطانیہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا۔

کم لوگوں کو اندازہ ہے کہ سلطنت عثمانیہ میںبڑی تعداد میں یہودی اور عیسائی پرامن طریقے سے رہتے تھے۔ ان پر کسی قسم کا کوئی جبر نہیں ہوتا تھا۔ مگر عثمانیوں نے ایک سخت قانون ضرور بنا رکھا تھا۔ یہودی، بیت المقدس جا سکتے تھے، اپنی عبادات آزادی سے کر سکتے تھے مگر وہاں جائیداد نہیں خرید سکتے تھے۔ غور سے پرکھئے انھوں نے اسرائیل کی بنیاد نہیں پڑنے دی۔ سلطان عبدالحمید کا یہ فرمان تھا کہ کوئی یہودی بیت المقدس کے علاقے میں کھجوروں یا زیتون کا باغ تک نہیں لے سکتا۔ برطانیہ ہر قیمت پر اسرائیل بنانا چاہتا تھا مگر عبدالحمید اس کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ تھا۔ یہاں سلطان کی فراست کا ایک واقعہ گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ عبدالحمید پر کئی قاتلانہ حملے ہوئے۔ انھیں زہر دینے کی کوشش بھی کی گئی مگر سلطان ہر بار بچ جاتا تھا۔ عبدالحمید نے پوری دنیا میں جاسوسی کا ایک حیرت انگیز جال بچھا رکھا تھا۔

ایک بار جب برطانیہ کی ملکہ اور حکومت نے سلطان کو بہت تنگ کیا تو سلطان نے اپنے ایک جاسوس کے ذریعے ملکہ کو ایک ایسا شربت پلوا دیا جس سے وہ دو تین دن محوخواب رہی۔ پھر سلطان نے برطانوی سفیر کے ذریعے ایک دوائی بھجوائی۔ جس کے استعمال سے ملکہ ہوش میں آ گئی۔

یہ برطانیہ کے لیے بہت بڑا پیغام تھا۔ اس کے بعد وہ چند برس کے لیے بالکل خاموش ہو گئے۔ مگر جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد سلطنت عثمانیہ ختم کر دی گئی۔ مشرق وسطیٰ میں لکیریں کھینچ کھینچ کر، چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنا دی گئیں اور تیل کے ذخائر پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔ پھر سب سے بڑا سانحہ کہ اسرائیل کی بنیاد رکھ دی گئی۔ یہودیوں نے وہاں آباد ہونا شروع کر دیا اور آج وہ اسرائیل نامی ایک ناجائز ریاست کے شہری ہیں اور فلسطینیوں کے ساتھ ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ بہرحال جب تک سلطان عبدالحمید حکمران رہے، اسرائیل کا خواب پورا نہیں ہو سکا۔

شاید آپ سوچ رہے ہوں گے کہ عثمانی سلطنت کی تاریخی کہانی سے ہمارا کیا تعلق ہے۔ میری نظر میں بہت زیادہ تعلق بھی ہے اور ایک سبق بھی ہے۔ وہ یہ کہ حکمران خواہ کسی بھی ملک کا ہو، اس کی فراست، سمجھ بوجھ، معاملہ فہمی اور مستقبل میں جھانکنے کی طاقت بے مثال ہونی چاہئے۔ حکمران کو اندازہ ہونا چاہئے کہ اس نے کیسے اپنی رعایا کو انصاف، تحفظ اور ترقی کے مواقع مہیا کرنے ہیں۔ سلطان عبدالحمید جیسے صاحب فہم انسان کا دوبارہ پیدا ہونا کافی مشکل ہے۔ مگر جزوی طور پر بھی، کسی حکمران میں فراست آ جائے تو وہ بھی غنیمت ہے۔ اب میں حددرجہ مشکل اپنے ملکی حالات کی طرف آتا ہوں۔ مجھے موجودہ حکومتی سیٹ اپ میں دوراندیشی اور مثالی فہم و فراست کا فقدان نظر آتا ہے۔

ہمارے لوگوں کو ایک مخمصہ میں ڈال دیا جاتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی حکومتیں بے اختیار ہوتی ہیں۔ ذرا سوچئے، غور کیجیے کہ تمام سیاسی ادوار میں حکمران طبقے کے کاروبار تیزرفتاری سے ترقی کرتے ہیں۔ کرپشن کے ایسے واقعات سامنے آتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ حکمران طبقے کی دولت، دنیا کے ہر امیر ملک میں کسی نہ کسی طرح موجود ہے۔ لندن، پیرس، دبئی، افریقہ، پرتگال اور ان جیسے متعدد ممالک میں پاکستانیوں کی املاک موجود ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سیاسی حکمرانوں کے پاس کوئی اختیار نہ ہو لیکن ان کے خاندان، رشتے دار اور خواریوں کی دولت میں حیران کن اضافہ ہوتا جائے۔

اصل میں ہمارا سیاسی سیٹ اپ ہمیشہ عوام کو یہ بیانیہ بیچتا آ رہا ہے کہ اختیار تو کہیں اور ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں بھی جزوی سچ ہو۔ مگر عوام کے مسائل حل نہ کرنے کے لیے سیاسی حکومتوں کو تو کسی سرکاری ادارے نے نہیں روکا۔ یہ سیاسی لوگ اتنے فنکار ہیں کہ جب ان کا اقتدار ہو تو اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لیے تو دولت سمیٹتے رہتے ہیںاور بدنامی اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کی طرف متنقل کردیتے ہیں۔ اپنے فائدے کے لیے تو ان کی سمجھ بوجھ سلطان عبدالحمید سے بھی کوسوں آگے ہے مگر عام لوگوں کے معمولی سے مسائل حل کرنے کے لیے یہ ہرگز ہرگز تیار نہیں ہوتے۔

خود سوچ کر بتایئے کہ آئی پی پی کے ساتھ معاہدوں کو کسی بھی حکمران نے کیوں تبدیل نہیں کیا؟ اب بھی ایسا ہی ہے، ان کی طرف، موجودہ حکمرانوں کی توجہ بھی نہیں ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ مہنگائی میں کمی کے لیے سنجیدگی سے توجہ نہیں دی جا رہی۔ ایسے کام کرنے سے تو سیاسی حکومتوں کو کسی نے منع نہیں کیا ۔ جب حکمران طبقہ کے  کان پر جوں نہیں رینگ رہی تو انتظامی مشینری بھی بہت سست ہو جاتی ہے اور قدرتی عمل ہے کہ پھر وہ بھی ناجائز دولت کی گنگا میں نہانا شروع کر دیتے ہیں۔آج ہر باخبر پاکستانی کرپشن کے ریٹس جانتا ہے۔ مگر سرکاری سطح پر کوئی بھی، کسی قسم کا مثبت قدم اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ سلطان عبدالحمید کی ذہانت تو دور کی بات، مجھے تو حکمران طبقہ، اس کے نزدیک بھی نظر نہیں آتا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں۔ بلکہ خدا کرے کہ میرا تجزیہ بالکل بے معنی ہو۔ مگر کیا کروں، سامنے، تصویر میں تو بہت کچھ نظرآ رہا ہے؟

Load Next Story