کاٹن ایئر کے دوران پاکستان میں کپاس کی پیداوار توقعات سے بہتر ہونے کے امکانات

مقامی کاٹن زونزمیں کپاس کی آمدمیں غیرمتوقع اضافے سے روئی کی قیمت دوبارہ 300 تا 400روپے فی من کم

کراچی:

کپاس کی پیداوار میں اضافے کے باعث مقامی کاٹن مارکیٹس میں روئی کی قیمتوں میں دوبارہ مندی کارحجان غالب ہوگیا، فصل کیلیے موافق موسمی حالات کے باعث کاٹن ایئر 2026-27 کے دوران پاکستان میں کپاس کی پیداوار توقعات سے بہتر ہونے کے امکانات پیداہوگئے ہیں۔ 

لیکن بھاری ٹیکسز عائد ہونے سے روئی کی غیردستاویزی خرید و فروخت مزید بڑھنے کے خدشات ہیں۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایاکہ روئی کی بین الاقوامی منڈیوں میں زبردست تیزی کے باعث گزشتہ ہفتے کے اوائل میں پاکستان میں روئی کی قیمت 500روپے تا 700روپے فی من بڑھ گئی تھی۔

تاہم بیشتر مقامی کاٹن زونز میں کپاس کی آمدمیں غیر متوقع اضافے کے باعث روئی کی قیمتیں دوبارہ 300 تا 400روپے فی من کمی سے پنجاب میں 18800روپے، جبکہ سندھ میں 18600روپے فی من کی تک آگئی ہے۔

نئے ہفتے میں عالمی مارکیٹوں میں روئی کی قیمتوں کے رحجان کے تناظر میں مقامی مارکیٹوں پر بھی قیمتوں میں کمی بیشی کارحجان سامنے آسکتاہے۔

انہوں نے بتایاکہ گذشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں سمندرسے پہاڑی سلسلوں کی جانب اورجنوب سے شمال کی جانب چلنے والی ایک خاص ہوا،جسے علاقائی زبان میں ’’دکھن‘‘ کہتے ہیں کے باعث اس کے کپاس کی فصل پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

جس میں کپاس کی فصل سے حبس کاخاتمہ، فصل پرکیڑوں اور سنڈیوں کے حملے میں غیر معمولی کمی اور پودے کی بہترین بڑھوتری کے باعث کپاس کی مقدار اورمعیار بھی بہتر ہونے سے گذشتہ ہفتے کپاس کی آمدمیں نمایاں اضافہ ہواہے۔

جس کے باعث روئی کی قیمتوں میں دوبارہ مندی کا رحجان سامنے آیا، تاہم توقع ہے کہ آئندہ کچھ عرصے کے دوران بارشیں نہ ہونے اوردکھن مزیدچلنے کے باعث پاکستان میں رواں سال معیاری روئی کی دستیابی گذشتہ کئی سالوں کے مقابلے میں بہتر ہونے سے پاکستانی روئی کی درآمدی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔

شوگر لابی کو پاکستان میں بڑی تیزی سے کاٹن زونزکوشوگر زونز میں تبدیل کرنے میں کامیابیاں حاصل ہورہی ہے جس میں پاکستان کے سب سے بڑے کاٹن زون رحیم یارخان سمیت دیگرکاٹن زونز میں نئی شوگر ملزکاقیام اور گنے شوگر ملزکی جانب سے کاشت کاروں کوگناکاشت کرنے کیلیے اربوں روپے کے قرضہ جات کی فراہمی ہے۔

جس سے خدشہ ہے کہ آئندہ چندسالوں کے دوران پاکستان میں کپاس کی کاشت میں مزیدکمی واقع ہونے سے روئی اور خوردنی تیل کی درآمدات پر انحصار مزید بڑھ جائیگی۔