معاشی استحکام کے بعد پاکستان کو پائیدار ترقی کا چیلنج
پاکستان نے گزشتہ چند برسوں کے دوران معاشی عدم استحکام، زرمبادلہ کے دباؤ اور ادائیگیوں کے بحران سے نمٹنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم اب ملک کو نئے اورزیادہ مشکل مرحلے کاسامناہے۔
معاشی استحکام حاصل کرنے کے بعداصل چیلنج ایسی پائیدار،سرمایہ کاری پر مبنی اور برآمدات سے تقویت پانے والی ترقی کاحصول ہے جو مستقبل میں دوبارہ مالیاتی اور بیرونی ادائیگیوں کے بحران کو جنم نہ دے۔
حالیہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2026 کے دوران پاکستان کاکرنٹ اکاؤنٹ 72 ملین ڈالر سرپلس رہا، جبکہ مالی سال کے دوران ترسیلات زر 41۔6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
15مئی تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17۔1 ارب ڈالر، جبکہ کمرشل بینکوں سمیت مجموعی ذخائر 22۔6 ارب ڈالر ریکارڈکیے گئے۔
عالمی مالیاتی فنڈ نے بھی اصلاحاتی پروگرام پر عمل درآمد، معاشی نمو میں بہتری،مہنگائی پر قابو پانے اورزرمبادلہ ذخائر میں توقعات سے بہتر اضافے کااعتراف کیا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان نے فوری معاشی بحران سے نکلنے کی صلاحیت پیداکرلی ہے،لیکن محض استحکام کومعاشی کامیابی کاآخری مرحلہ قرار نہیں دیاجاسکتا۔
اب ملک کو ایسی شرح نمودرکار ہے، جو لاکھوں نوجوانوں کیلیے روزگار پیداکرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے معیارزندگی میں نمایاں بہتری بھی لاسکے۔
پاکستان کی معیشت کا بنیادی مسئلہ یہ رہاہے کہ جب بھی معاشی نمو تیز ہوتی ہے تودرآمدات بھی بڑھ جاتی ہیں، نتیجتاًکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ وسیع، روپے پردباؤ، زرمبادلہ ذخائرکم اور بالآخر ایک نئے استحکام پروگرام کی ضرورت پیدا ہوجاتی ہے، پاکستان کوصرف تیز رفتارنہیں، بلکہ مختلف نوعیت کی معاشی نمودرکار ہے۔
اعدادوشمارظاہرکرتے ہیں کہ ملک کی موجودہ معاشی ساخت اب بھی بیرونی مالی وسائل اور ترسیلات زر پر خاصا انحصارکرتی ہے، درآمدات محدودکرکے وقتی طور پر بیرونی دباؤکم کیاجاسکتا ہے، لیکن اس سے سرمایہ کاری، پیداوار اور مجموعی معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں، اس کے برعکس برآمدات میں اضافہ ملک کوزیادہ تیزی سے ترقی کرنے کے ساتھ مطلوبہ زرمبادلہ بھی فراہم کرسکتا ہے۔
پاکستان کیلیے سب سے بڑاسوال یہ ہوناچاہیے کہ وہ اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیوں نہیں کر پا رہا۔ طویل المدت معاشی حکمت عملی کو وسائل کی کمی کوسنبھالنے کے بجائے عالمی مسابقت کی صلاحیت پیدا کرنے پر مرکوزکرناہوگا۔
اطلاعاتی ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ خدمات، انجینئرنگ، ڈیجیٹل تجارت اور دیگر قابل تجارت خدمات ایسے شعبے ہیں، جہاں پاکستان اپنی نوجوان افرادی قوت سے فائدہ اٹھاسکتا ہے۔ پاکستان کو ایسا توانائی نظام تشکیل دیناہوگا،جومالی طور پر پائیدار، قابل اعتماد اور پیداواری شعبے کیلیے مسابقتی ہو۔
اس مقصدکیلیے سرکاری اداروں سے متعلق مشکل فیصلے کرناہونگے، ٹیکس اصلاحات کامقصد پہلے سے ٹیکس اداکرنیوالے طبقے پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ وسیع کرناچاہیے،سرکاری اداروں میں اصلاحات سے قومی خزانے پر بوجھ کم اور خدمات کامعیار بہترکیاجائے۔