دو روزہ میکے ٹیسٹ میں بننے والے منفرد ریکارڈز

یہ آسٹریلیا میں گزشتہ سات ٹیسٹ میچز کے دوران تیسرا مقابلہ ہے جو صرف دو دن میں ختم ہوا

آسٹریلیا اور بنگلادیش کے درمیان میکے میں کھیلا گیا دوسرا ٹیسٹ مختصر ترین ٹیسٹ میچز میں شامل ہوگیا۔

میکے میں کھیلا گیا میچ صرف 750 گیندوں میں مکمل ہوا جو مکمل ہونے والے مردوں کے ٹیسٹ میچز میں چوتھا مختصر ترین مقابلہ ہے جبکہ آسٹریلیا میں یہ دوسرا مختصر ترین ٹیسٹ ثابت ہوا۔

یہ آسٹریلیا میں گزشتہ سات ٹیسٹ میچز کے دوران تیسرا مقابلہ ہے جو صرف دو دن میں ختم ہوا۔

میچ میں دونوں ٹیموں نے مجموعی طور پر صرف 369 رنز بنائے جو مکمل ٹیسٹ میچز میں چھٹا کم ترین مجموعہ اور آسٹریلیا میں دوسرا کم ترین مجموعہ ہے۔

بنگلادیش کی ٹیم دونوں اننگز میں 100 رنز کا ہندسہ بھی عبور نہ کرسکی۔ پہلی اننگز میں 64 اور دوسری میں 95 رنز پر پوری ٹیم آؤٹ ہوئی۔

یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں 21 سال بعد پہلا موقع ہے جب کوئی ٹیم دونوں اننگز میں 100 رنز سے کم پر آؤٹ ہوگئی۔

اس کے برعکس آسٹریلیا نے پہلی اننگز میں 210 رنز بنائے اور اس کم مجموعے کے باوجود اننگز سے کامیابی حاصل کی۔

یہ چوتھا کم ترین مجموعہ ہے جس پر مخالف ٹیم کو اننگز سے شکست ہوئی۔

میچ کے ہیرو مچل اسٹارک رہے جنہوں نے صرف 109 گیندوں میں 10 وکٹیں حاصل کرکے نئی تاریخ رقم کی۔ یہ آسٹریلیا کی جانب سے کسی بھی بولر کا تیز ترین 10 وکٹوں کا کارنامہ ہے۔

اسٹارک نے ٹیسٹ کرکٹ میں چوتھی مرتبہ ایک میچ میں 10 یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں اور اب وہ صرف ڈینس للی سے پیچھے ہیں جنہوں نے 7 مرتبہ 10 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

بنگلادیش کے فاسٹ بولر شورف الاسلام نے بھی عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے آسٹریلیا کی پہلی اننگز میں 48 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں اور ٹیسٹ کرکٹ میں سات وکٹیں لینے والے پہلے بنگلادیشی فاسٹ بولر بن گئے جبکہ یہ کسی بھی بنگلادیشی بولر کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں تیسرا بہترین بولنگ فیگر ہے۔

شورف الاسلام 140 سال بعد آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچ کی ایک اننگز میں 7 وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے لیفٹ آرم فاسٹ بولر بن گئے۔

Load Next Story