میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد کی ضمانت میں توسیع
عدالت نے میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد کی ضمانت میں یکم ستمبر تک توسیع کردی۔
سٹی کورٹ میں سماعت کے دوران ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے احمد کو پولیس کے ساتھ تعاون کرنے اور تھانے جاکر تفتیش جوائن کرنے کی ہدایت کی، ساتھ ہی آئندہ سماعت تک شہر سے باہر نہ جانے کا بھی حکم دیا۔
احمد کے وکیل خالد ممتاز ایڈووکیٹ نے کہا کہ بزنس پارٹنر ایک آسان ہدف ہوتا ہے کہ اسے پھنسایا جائے، پولیس کی جانب سے مسلسل تھانے بلاکر ہراساں کیا جارہا تھا۔
اس موقع پر میر رضا کی فیملی کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ پولیس نے میر رضا کے پارٹنر کو تفتیش کےلئے بلایا تھا گرفتار کرنے کےلئے نہیں، پولیس احمد کا بیان لینا چاہتی تھی، احمد میر رضا کے ساتھ ہوتا تھا اسے شامل تفتیش کرنا اہم ہے۔
جبران ناصر ایڈووکیٹ نے محمد احمد کو ضمانت دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ کیس میں ضمانت نہیں بنتی، اگر پولیس ہراساں کررہی تھی تو انہیں سیکشن 22 اے کے تحت پولیس کے خلاف درخواست دینی چاہئے۔
محمد احمد کے وکیل نے کہا کہ ہم کیسے پولیس پر بھروسہ کریں، ہمیں گرفتاری کا خدشہ ہے، جب مدعی کے وکیل پولیس پر بھروسہ نہیں کرتے ان کی تفتیش سے مطمئن نہیں تو ہم کیسے کریں، ہمیں متعدد بار تھانے بلایا گیا ہم ہیش ہوئے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ احمد آپ تھانے گئے تھے پولیس کے بلانے پر؟ جس پر احمد نے بتایا کہ مجھے جب تھانے بلایا گیا میں گیا ہوں، 25 دنوں میں صرف چار روز نہیں گیا۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ آپ نے تفتیش مکمل کی ہے اس کیس کی؟ جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ تفتیش ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے، عدالت نے پوچھا کہ کیا آپ نے محمد احمد کو نامزد کیا ہے؟ تفتیشی افسر نے کہا نہیں احمد کو ملزم نامزد نہیں کیا گیا۔
عدالت نے پوچھا کہ کسی رپورٹ میں ان کا نام ہے یا چالان میں؟ جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ نہیں محمد احمد کا نام نہیں ہے اور چالان ابھی تیار نہیں ہوا۔
بعد ازاں عدالت نے محمد احمد کی عبوری ضمانت میں یکم ستمبر تک توسیع کردی۔