کچھ درخت شہری فضائی آلودگی بڑھا سکتے ہیں: تحقیق
شہروں میں درختوں کی تعداد بڑھانے کو عموماً صاف اور صحت مند ماحول کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ بعض درخت ایسے کیمیائی بخارات خارج کرتے ہیں جو شہری علاقوں میں زمینی سطح پر اوزون کی آلودگی بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
چین کی جنن یونیورسٹی کے محققین کے مطابق درخت فضا سے کئی گیسوں پر مشتمل آلودگی جذب کرنے اور شہری علاقوں کو ٹھنڈا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن بعض اقسام کے درخت ایسے وولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز (وی او سیز) بھی خارج کرتے ہیں جو اوزون آلودگی کی تشکیل میں حصہ لے سکتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ مرکبات کیمیائی طور پر ان مادوں سے مشابہت رکھتے ہیں جو عام طور پر سالوینٹس، پینٹ، صفائی کی مصنوعات اور ایندھن کے بخارات میں پائے جاتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے بیجنگ کے موسمیاتی ٹاور پر زمین سے تقریباً 102 میٹر بلندی پر براہِ راست اخراج کی نگرانی کا نظام نصب کیا جبکہ ٹاور کی بنیاد میں قائم لیبارٹری میں بھی تجربات کیے گئے۔ اس نظام کے ذریعے فضا میں موجود کیمیائی سگنلز کو فی سیکنڈ کئی مرتبہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے شہر کی فضائی کیمیائی سرگرمیوں کا حقیقی وقت میں جائزہ لیا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ درختوں سے خارج ہونے والے ان مرکبات کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔ اس لیے مستقبل میں شہروں میں گرین اسپیسز اور درختوں کی منصوبہ بندی کرتے وقت صرف درختوں کی تعداد ہی نہیں بلکہ مختلف اقسام کے درختوں کے فضائی کیمیائی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔