نیوزی لینڈ میں 16 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی تجویز

13 سے 17 سال عمر کے تقریباً ہر تین میں سے ایک بچے کا روزانہ کم از کم پانچ گھنٹے سوشل میڈیا پر گزر رہا ہے

نیوزی لینڈ کی حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں اور نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی کا بل پارلیمنٹ میں پیش کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس قانون کی منظوری کے بعد فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارمز کو بچوں کی رسائی روکنے کے لیے عمر کی تصدیق کے مؤثر نظام متعارف کرانا ہوگا۔

مجوزہ قانون کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ انہوں نے 16 سال سے کم عمر صارفین کو پلیٹ فارم استعمال کرنے سے روکنے کے لیے مناسب اقدامات کیے ہیں۔

حکومت کے مطابق کمپنیوں کو عمر کی تصدیق کے لیے پہلے سے موجود اکاؤنٹ معلومات، چہرے سے عمر کا اندازہ لگانے والی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل شناختی خدمات اور سرکاری شناختی دستاویزات سمیت مختلف طریقے استعمال کرنے پڑ سکتے ہیں۔

قانون کی خلاف ورزی کرنے والی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر ان کی عالمی آمدنی کے 10 فیصد تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ پلیٹ فارمز کو اپنے سوشل میڈیا نظام سے نوجوانوں کو لاحق خطرات کا جائزہ لینا اور ان خطرات کو کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی رپورٹ بھی پیش کرنا ہوگی۔

خیال رہے کہ نیوزی لینڈ کی حکومت ایک سال سے زائد عرصے سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے امکان کا جائزہ لے رہی تھی۔

یاد رہے کہ آسٹریلیا کی جانب سے گزشتہ سال دسمبر میں 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے بعد سامنے آیا ہے۔

وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے کہا کہ حکومت نئی نسل کے بچوں کو سوشل میڈیا سے پہنچنے والے نقصانات کو مزید نظر انداز نہیں کرسکتی۔

ان کے بقول 13 سے 17 سال عمر کے تقریباً ہر تین میں سے ایک بچے کا روزانہ کم از کم پانچ گھنٹے سوشل میڈیا پر گزر رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا مزید تھا کہ سوشل میڈیا نوجوانوں کو نقصان دہ مواد، نشہ آور، مضر ٹیکنالوجی اور سماجی دباؤ کا سامنا کرا رہا ہے جس سے نمٹنے کے لیے وہ ابھی پوری طرح تیار نہیں۔

وزیراعظم نے اس بات تشویش کا بھی اظہار کیا کہ اس صورتحال کے اثرات بچوں کی خاندانی زندگی، ذہنی صحت، نیند اور تعلیم پر بھی پڑ رہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی وزیر تعلیم ایریکا اسٹینفورڈ نے کہا کہ مجوزہ قانون سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر قانونی ذمہ داریاں عائد کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پابندی کی خلاف ورزی پر بچوں، والدین یا ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کے خلاف جرمانے کی کوئی تجویز نہیں دی گئی۔

تاہم بل کی منظوری یقینی نہیں کیونکہ حکمران نیشنل پارٹی کی اتحادی جماعتوں لبرٹیرین اے سی ٹی پارٹی اور پاپولسٹ نیوزی لینڈ فرسٹ نے مجوزہ پابندی کی مخالفت کردی ہے۔

نیوزی لینڈ فرسٹ نے آسٹریلیا میں نافذ قانون کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی قانون سازی کی حمایت نہیں کرسکتی جبکہ اے سی ٹی پارٹی کا مؤقف ہے کہ پابندی مؤثر ثابت نہیں ہوگی اور نوجوان مختلف طریقوں سے اسے بائی پاس کرسکتے ہیں۔

مرکزی اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی نے بھی قانون کی حمایت کے لیے متعدد سوالات اٹھائے ہیں جن میں عمر کی تصدیق کا طریقہ کار اور پابندی کے دائرے میں آنے والے پلیٹ فارمز کی تفصیلات شامل ہیں۔

لیبر پارٹی کے ترجمان روبن ڈیوڈسن نے کہا کہ نوجوانوں کی حفاظت ایک انتہائی اہم معاملہ ہے اور آن لائن دنیا میں انہیں درپیش خطرات مسلسل پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں۔

 

Load Next Story