دہشتگرد اے آئی کی مدد سے خطرناک ہتھیار بنا سکتے ہیں: رپورٹ
ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے غلط استعمال سے دہشتگرد گروہوں اور دیگر شرپسند عناصر کو خطرناک کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عام دستیاب بعض اے آئی ماڈلز میں موجود حفاظتی رکاوٹوں کو تبدیل کرکے ان سے نقصان دہ معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
تحقیقی ادارے کرمزن فلیئر کی رپورٹ کے مطابق بعض اوپن اور آف لائن اے آئی ماڈلز کو اس انداز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے کہ ان کی حفاظتی پابندیاں مؤثر نہ رہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ ایسے ماڈلز کے غلط استعمال سے کم سائنسی معلومات رکھنے والے افراد بھی خطرناک نوعیت کی معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں ایک نئے طریقے (جسے غیر رسمی طور پر ایبلیٹریشن کہا جاتا ہے) کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کے ذریعے بعض اے آئی ماڈلز کی حفاظتی حدود کو تیزی سے کمزور کیا جا سکتا ہے جس کے بعد تبدیل شدہ ماڈلز انٹرنیٹ پر دوسروں کے لیے بھی دستیاب ہو سکتے ہیں۔
محققین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے غیر محدود اور طاقتور اوپن ویٹ بڑے زبان ماڈلز (ایل ایل ایمز) جو عام صارفین کے کمپیوٹرز پر آف لائن چل سکتے ہیں، مستقبل میں قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین اور بڑھتا ہوا خطرہ بن سکتے ہیں۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مؤثر حفاظتی نظام اور نگرانی بھی ضروری ہے۔