وزیرِ مملکت وجیہہ قمر کا نیشنل بک فاؤنڈیشن کا دورہ، گوشہ قائداعظم اور گوشہ اقبال کا افتتاح
وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے نیشنل بک فاؤنڈیشن میں گوشہ قائداعظم اور گوشہ اقبال کا افتتاح کردیا ہے۔
گزشتہ روزاپنے دورہ کے موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ اقدام علامہ محمد اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کی 150ویں سالگرہ کی تقریبات قومی سطح پر شایانِ شان انداز میں منعقد کرنے اور دونوں عظیم رہنماؤں کے افکار و نظریات نئی نسل تک مؤثر انداز میں پہنچانے کے عزم کا حصہ ہے۔
اس موقع پر سیکرٹری نیشنل بک فاؤنڈیشن ڈاکٹر خان فرحان رفعت اور ڈائریکٹر نیشنل بک فاؤنڈیشن مراد علی مہمند بھی موجود تھے۔وزیرمملکت نے کہا کہ ایسے علمی و فکری گوشوں کا قیام پاکستان کے قومی ورثے، فکری روایات اور بانیانِ پاکستان کے پیغام کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے نیشنل بک میوزیم، انڈونیشین کارنر اور ادارے کے مختلف شعبہ جات،نیشنل بک میوزیم میں محفوظ نادر و نایاب کتابوں، قدیم قرآنی نسخوں اور تخلیقی فن پاروں کا مشاہدہ کرتے ہوئے انہیں پاکستان کے علمی، ادبی اور تہذیبی ورثے کا قیمتی حصہ قرار دیا۔
انہوں نے قرآنِ پاک کے خصوصی گوشے، صوفیاء کارنر اور عظیم شعرا و ادبا سے متعلق نمائش میں بھی خصوصی دلچسپی کا اظہار کیااور کہا کہ ایسے علمی گوشے اور نادر ذخائر نوجوان نسل میں مطالعے، تحقیق اور جستجو کا ذوق بیدار کرنے کے ساتھ انہیں اپنی علمی و تہذیبی روایات سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نیشنل بک فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر کامران جہانگیر نے وزیر مملکت کو نئے قومی نصاب کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، جس کا اطلاق مارچ 2027ء سے متوقع ہے۔ بریفنگ میں نصابی کتب کی تیاری و ترقی، ٹیکسٹ بکس کے معیار میں بہتری، پاکستانی پبلشرز کے ساتھ اشتراک، معیاری کتب کی اشاعت اور طلبہ کو مؤثر علمی و فکری مواد کی فراہمی سے متعلق حکمتِ عملی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اس موقع پر زور دیا گیا کہ نصابی کتب کی تیاری میں علمی معیار، تحقیق اور طلبہ کی فکری ضروریات کو بنیادی اہمیت دی جائے، تاکہ نئی نسل میں مطالعے کا ذوق، تحقیق کا شعور اور اپنی علمی و تہذیبی روایت سے وابستگی مزید مضبوط ہو۔
وزیرِ مملکت وجیہہ قمر نے معیاری کتب کی اشاعت، ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور قومی علمی ورثے کے تحفظ کے لیے جاری اقدامات میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا اور ادارے کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔