ہمارے خطے کا المیہ: شخصیت پرستی
sohailyaqoob
شخصیت پرستی کی تاریخ کوئی نئی تاریخ نہیں۔ یہ اتنی ہی پرانی ہے جتنا انسانی معاشرہ اور اس میں اقتدار کا تصور۔ پرانے زمانے میں بادشاہ خود کو خدا کا نمایندہ یا ’’خدا کا سایہ‘‘ قرار دیتے تھے تاکہ رعایا پر اپنا رعب و دبدبہ قائم رکھ سکیں، جو بادشاہ اس انتہا سے بھی آگے نکل جاتے، وہ خود کو ہی خدا قرار دینے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔
وقت کے ساتھ دنیا نے شخصیت پرستی کے متبادل تلاش کیے اور بالآخر اس تصور تک پہنچی کہ کسی فرد کی ذات سے زیادہ اہم نظام اور اداروں کی بالادستی ہے۔ دنیا کے کچھ خطوں میں آج بھی نظام کے مقابلے میں شخصیت کو فوقیت حاصل ہے اور یہی ہمارے کالم کا محور ہے۔
تاریخ میں اس کی ایک دلچسپ مثال شہنشاہ جہانگیر کا ’’نقارہ عدل‘‘ ہے۔ جہانگیر کے زمانے میں یہ ایک ایسا انتظام تھا کہ جس کے ذریعے مظلوم اپنی فریاد براہِ راست بادشاہ تک پہنچا سکتا تھا، لیکن جہانگیر کے ساتھ ہی یہ انتظام بھی تاریخ کا حصہ بن گیا۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔
کیا ایک شہنشاہ کو انصاف کے لیے نقارہ بنانے کی ضرورت تھی؟ کیا وہ ایسا نظام وضع نہیں کرسکتا تھا جس کے ذریعے عام آدمی کو انصاف حاصل کرنے کے لیے بادشاہ تک پہنچنے کی ضرورت ہی نہ پڑے؟ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مسئلے کو اپنی ذات سے جوڑ کر حل کرنا فوری شہرت اور مقبولیت دیتا ہے اور اقتدار کی مرکزیت بھی برقرار رکھتا ہے اور یہی شخصیت پرستی کی بنیادی نفسیات ہے۔
ہمارے ملک میں اس کی جدید شکل ’’کھلی کچہری‘‘ کی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔ بلاشبہ کسی افسر یا حکمران کا عوام کے مسائل براہِ راست سننا بعض اوقات فوری ریلیف دے سکتا ہے، لیکن اس کی افادیت پر بنیادی سوال بہرحال اٹھایا جاسکتا ہے، کیونکہ یہ منظر آج بھی کسی حد تک قدیم بادشاہوں کے دربار کی یاد دلاتا ہے، جہاں فریادی اور عالم پناہ ایک ہی چھت کے نیچے موجود ہوتے تھے۔
اس صورتحال میں عوام کی خدمت پر مامور شخص خود کو عوام کا حاکم سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ وہ دراصل عوام کا ملازم یا خادم ہوتا ہے اور اس کا بنیادی فرض ہی عوام کی خدمت کرنا ہے۔ یہ فرق بعض اوقات صرف الفاظ سے نہیں بلکہ نشست و برخاست، اندازِ گفتگو اور حتیٰ کہ بیٹھنے کے انداز سے بھی عیاں بلکہ ’’عریاں‘‘ ہوجاتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر کوئی مسئلہ کسی ایک شخص کی موجودگی میں حل ہوسکتا ہے تو کیا ایسا نظام تشکیل نہیں دیا جاسکتا جو اس شخص کی غیر موجودگی میں بھی وہ مسئلہ حل کرتا رہے؟ یہاں ہمارا اختلاف کھلی کچہری سے نہیں بلکہ اس سوچ سے ہے کہ عوام کے مسائل کسی شخصیت کے ذریعے حل ہوں، کیونکہ شخصیت کے ذریعے ملنے والا حل عموماً وقتی ہوتا ہے، جب کہ نظام کے ذریعے ملنے والا حل مستقل ہوتا ہے۔ شخصیت مسئلہ حل کرسکتی ہے، نظام مسئلہ ختم کرسکتا ہے۔ چنانچہ ترقی یافتہ معاشروں نے اپنی توانائیاں ایسی شخصیات پیدا کرنے سے زیادہ ایسے نظام تشکیل دینے پر صرف کرنا شروع کردیں جو کسی ایک شخصیت کے محتاج نہ ہوں۔
اگر ہم واقعی حقیقت کو دیکھنے کے لیے تیار ہیں تو حقیقت شاید اس سے بھی زیادہ تلخ ہے۔ ملک کے تقریباً ہر نظام کے ساتھ ایک متوازی نظام بھی کام کررہا ہے۔ اس متوازی نظام کے اپنے قواعد، اپنے اصول اور اپنی ترجیحات ہیں۔ بظاہر تعیناتی میرٹ پر ہوتی ہے، مگر بعض اوقات اصل میرٹ کسی اور جگہ طے ہوچکا ہوتا ہے۔ بظاہر فیصلہ قواعد کے مطابق ہوتا ہے، مگر فیصلہ ہونے سے پہلے ہی اصل فیصلہ کسی اور دروازے پر ہوچکا ہوتا ہے اور پھر ہم انھی لوگوں سے میرٹ، شفافیت اور بہترین کارکردگی کی توقع کرتے ہیں جن کی تعیناتی ہی شفاف اور میرٹ پر نہیں ہوئی ہوتی۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جسے ہم برسوں سے نظرانداز کررہے ہیں۔ ہم رشوت کے پیسوں سے تعیناتی حاصل کرنے والوں سے میرٹ کی کارکردگی مانگتے ہیں۔ یہ خود کو بہلانے کی طفلانہ کوشش کے سوا کیا ہے؟
جس شخص نے کسی عہدے تک پہنچنے کے لیے اصول توڑے ہوں، اس سے اصولوں کی پاسداری کی توقع کرنا شاید ہماری سب سے بڑی اجتماعی منافقتوں میں سے ایک ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کوئی شخص نااہل ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ نظام نے نااہلی کو اہل فن کر داخل ہونے کا راستہ دے دیا ہے اور جب نااہلی نظام کا حصہ بن جائے تو پھر کسی ایک اچھے شخص کو لاکر پورے نظام کو درست کرنے کی کوشش ایسے ہی ہے جیسے کسی عمارت کی بنیاد کمزور ہو اور ہم صرف اس میں نئے دروازے لگا کر اسے مضبوط سمجھ لیں۔ ہمیں شاید یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قوموں کو مسیحا نہیں، مضبوط نظام بچاتے ہیں۔
شاید ہمارے خطے کا اصل المیہ یہی ہے کہ ہم نے شخصیت کو نظام کا متبادل سمجھ لیا ہے۔ ہمیں ایک ایسا افسر چاہیے جو ہمارا کام کردے، ایسا وزیر چاہیے جو ہماری شکایت سن لے، ایسا حکمران چاہیے جو ہماری فریاد پر نوٹس لے اور ایسا طاقتور شخص چاہیے جس کے ایک فون سے کام ہوجائے لیکن ہم نے کبھی یہ سوال سنجیدگی سے نہیں پوچھا کہ ایسا نظام کیوں نہ ہو جس میں کسی طاقتور شخص کے فون کی ضرورت ہی نہ پڑے؟ ایسا نظام کیوں نہ ہو جہاں شہری کو اپنا حق لینے کے لیے کسی دربار میں حاضر نہ ہونا پڑے؟ ایسا نظام کیوں نہ ہو جہاں انصاف کے لیے نقارہ عدل بجانے والے بادشاہ کی ضرورت نہ ہو؟ ایسا نظام کیوں نہ ہو جہاں کھلی کچہری کے بجائے عام آدمی کے لیے ادارے کے دروازے ہر وقت کھلے ہوں؟یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں شخصیت پرستی سے نظام پرستی کی طرف سفر شروع کرنا ہوگا۔ ہمیں ایسے حکمران نہیں چاہیے جو ہر مسئلہ خود حل کریں، ہمیں ایسے حکمران چاہیے جو ایسا نظام قائم کریں جس میں مسائل حل کرنے کے لیے حکمران کی ضرورت ہی نہ رہے۔
تاریخ کا سبق بہت واضح ہے، شخصیات آتی ہیں، چلی جاتی ہیں، نظام رہتے ہیں۔ جو قومیں اپنے مستقبل کو شخصیات کے ساتھ باندھ دیتی ہیں، وہ ہر شخصیت کے جانے کے بعد دوبارہ صفر سے آغاز کرتی ہیں، لیکن جو قومیں اپنے مستقبل کو مضبوط اداروں، شفاف نظام، میرٹ اور قانون کی بالادستی سے جوڑ دیتی ہیں، ان کا سفر کسی ایک شخص کا محتاج نہیں رہتا۔ شاید ہمیں بھی اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں نقارہ عدل بجانے والا بادشاہ چاہیے یا ایسا نظام جس میں نقارہ بجانے کی ضرورت ہی نہ پڑے؟