بورڈ آف ڈائریکٹرز

 حسینوں سے فقط صاحب سلامت دورکی اچھی  نہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی

barq@email.com

یوں تو ہم سرکاریات یعنی سرکاری محکموں، اداروں اوردفتروں سے دور ہی دور رہتے ہیں ، عافیت سمجھتے ہیں کہ بزرگوں نے ان کے بارے میں فرمایا ہے ؎

 حسینوں سے فقط صاحب سلامت دورکی اچھی

 نہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی

 لیکن بعض دفاتر میں کچھ دوست ایسے ہیں کہ ان کے پاس جانا پڑجاتا ہے ۔چنانچہ پچھلے دنوں ہم جب اس دفتر میں گئے جہاں بڑی چہل پہل تھی، خیبر پختون خوا میں یہ ایک ایسے ادارے کا دفتر تھا جو اٹھارویں آئینی ترمیم کا چھینکا ٹوٹنے پر ’’صوبائی بلیوں ‘‘ کے منہ میں گرگیا ہے اورسارا ہی اس میرٹ والوں سے بھرا ہے جو صوبائی منتخب شہنشاہوں کی تحویل میں ہے ۔

پوچھا سلسلہ کیا ہے تودوست نے بتایا کہ ’’بورڈ آف ڈائریکٹرز ‘‘ کی میٹنگ ہے ۔

یہ کیا ہوتا ہے ؟ اوریہ ڈائریکٹرزکیا ہوتے ہیں ؟ بولا ویسے تو ہمارے ادارے کا سربراہ ’’سی او‘‘ ہی سب کچھ ہے لیکن بورڈ آف ڈائریکٹرز بھی ہے اور یہ سب ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہوتے ہیں ، ایک محکمے کو چوس چوس کر چباچبا کر نچوڑکر جب ریٹائر ہوتے ہیں تو نوٹوں کا ایک بڑا سا گٹھڑ اورایک لمبی پنشن گھر پہنچاتے ہیں تو فوراً کسی اورکرسی پر بٹھا دیے جاتے ہیں تا کہ ان کے ’’کام نہ کرکے ‘‘ تنخواہ لینے کے ’’تجربے‘‘ سے فائدہ اٹھایا جائے ، کچھ کو یہاں وہاں ’’دریاؤں ‘‘ کے کنارے بٹھا کر ’’لہریں‘‘ گننے کے لیے بٹھا دیا جاتا ہے، اس کے باوجود جو بچ جاتے ہیں انھیں کسی نہ کسی ادارے میں بورڈ آف ڈائریکٹرز بنا دیا جاتا ہے ۔

ہمیں کسی حد تک ان بورڈ آف ڈائریکٹرز کے بارے میں معلومات حاصل تھیں لیکن پھر بھی مزید جانکاری حاصل کرنے کے لیے پوچھا، یہ ڈائریکٹرز لوگ کرتے کیا ہیں ؟بولاذرا اس سائیڈ والے دروازے میں تھوڑا سا درز پیدا کرکے … لیکن ذرا احتیاط سے جھانک کردیکھو۔دیکھا تو آٹھ دس لوگ صوفوں پر بیٹھے ہیں، درمیان کی لمبی میز پر گلدستے اورمنرل واٹر کی بوتلیں رکھی ہیں اور باری باری نہایت بھاری بھر کم انگریزی بگھار رہے تھے ، شاید لطیفے سنائے جا رہے تھے کیوں کہ قہقہے بھی گونج رہے تھے ۔

 میں واپس آکردوست کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا جو بڑے صاحب کا سیکریٹری تھا ۔ بولا یہ کل سات ڈائریکٹر ہیں ، چار اسلام آباد میں رہتے ہیں، وہاں سے لانے کے لیے ان سب کو الگ الگ لگژری اورٹھنڈی ٹھار گاڑیاں بھیجی جاتی ہیں کیوں کہ مشترکہ طورپر ایک ہی گاڑی میں لانا ان کی توہین کے مترادف ہے اورجو حیات آباد میں ہیں ان کو بھی الگ الگ گاڑیوں سے لایا جاتا ہے ۔

وہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ کرتے کیا ہیں جو تم نے دیکھا اورجو پاکستانیوں کی روایت ہے یعنی کچھ بھی نہیں پھر بھی۔ پھر یہ کہ گاڑی جا چکی فائیو اسٹار ہوٹل سے چائے کے لوازمات لانے کے لیے … ٹھہرو شایدآگئی ، تم بیٹھو میں ذرا چائے کا سامان سجاکر ابھی آتا ہوں۔

وہ چلا گیا، میں اخبار میں مصروف ہوگیا تھوڑی دیر بعد آیا اورمجھے ہاتھ سے پکڑ کر ایک دروازے پر لے گیا۔ اندر جھانکا تو ایک لمبی میز پر دبستان کھلا ہوا تھا ۔ بھنے ہوئے مرغ مسلم، بھنے ہوئے مرغی کے بغیر ہڈی کے ٹکڑے ، سیخ کباب اوردوچار اقسام کے بیکری سموسے اورپکوڑے ۔ہم پھر آکر اس کے دفتر میں بیٹھ گئے، اس نے معذرت چاہی کہ وہ ڈائریکٹرز کو چائے پلوا کر آتا ہے ، لگ بھگ ایک گھنٹے کے بعد وہ آیا اوردروازہ سے ہی مجھے اشارہ کیا کہ آجاؤ، باہرآکر دیکھا کہ اب اس خوان نعیما پردفتر کے سارے ’’جنگجو‘‘ حملہ آور ہوچکے ہیں کیوں کہ سامان بہت تھا ۔ لیکن میں واپس جاکر کرسی پر بیٹھ گیا اوراس سے صرف پیالی چائے کی فرمائش کی ، کچھ دیر بعد وہ فارغ ہوکر ہونٹ پونچتا ہوا آیا ۔پوچھا یہ سامان تو بیس پچیس ہزار کایقیناً ہوگا ، بولا جی نہیں چالیس ہزار کا تھا کیوںکہ لانے اورمنگوانے والوں کی فیس بھی شامل ہے ۔ میں اٹھ کر جانے لگا ، تو بولا بیٹھو، بورڈآف ڈائریکٹرز کے لیے لنچ بھی آنا ہے ۔ہاں اب اتنے بڑے لوگ اتنا جان جوکھم کاکام کر رہے ہیں، لنچ تو بنتا ہی ہے ۔جب چائے کا یہ حال ہے تو لنچ ؟؟ بولا، پچھلی میٹنگ کے لیے تو اسی ہزار روپے کا لنچ آیا تھا لیکن مہنگائی کا زمانہ ہے شاید اس مرتبہ راؤنڈ فگر ہوجائے ۔ مزید تفصیلات پوچھنے پر اس نے بتایا کہ مہینے میں اس طرح تین یا دو میٹنگیں ہوتی ہیں۔ میٹنگ میں ہوتا کیا ہے ، کچھ بھی نہیں اگلی میٹنگ کی تاریخ اورایجنڈا طے ہوتا ہے ۔

اس بارکیا ایجنڈا تھا ۔

صوبے میں انتخابات ہوچکے ہیں ، نئے ممبران آچکے ہیں جو اپنے ساتھ نئی فہرستیں لائے ہیں، اس لیے پرانے ممبروں کے آدمی نکالنا اورنئے ایڈجسٹ کرنا ہے چھ یتیم ہونے والوں کو نکالنے کافیصلہ توہوچکا ہے لیکن نئے امیدوار اٹھ ہیں اورسب کے سب اہم ترین لوگوں کے آدمی ۔ ہاں ایک بات تو میں پوچھنا بھول گیا ۔ یہ جو ڈائریکٹرز ہیں ان کو معاوضہ بھی دیاجاتا ہوگا ۔

بولا نہیں بلکہ پوری تنخواہ ملتی ہے ڈائریکٹرز میں کوئی ٹٹو بٹیرے نہیں ہیں ؎

 دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے

اس گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے

Load Next Story