لارڈز کے میدان میں ٹیسٹ کرکٹ کا انوکھا واقعہ، ایک ٹیسٹ میچ میں 4 وکٹ کیپر
کرکٹ کی 150 سالہ تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہیں جو شائقین کو آج بھی حیران کر دیتے ہیں۔
1986 میں لارڈز کے تاریخی میدان میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا گیا ٹیسٹ بھی انہی میں سے ایک ہے جہاں ایک ہی میچ میں انگلینڈ کے چار مختلف کھلاڑیوں نے وکٹ کیپنگ کی مگر حیرت انگیز طور پر کسی ایک کے حصے میں بھی کیچ نہ آیا۔
جولائی 1986 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ کے دوران انگلینڈ کے باقاعدہ وکٹ کیپر بروس فرنچ اس وقت شدید زخمی ہوگئے جب فاسٹ بولر نیل فوسٹر کی گیند ان کے چہرے پر جا لگی۔
انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کرنا پڑا اور انگلینڈ کو بغیر کسی بیک اپ وکٹ کیپر کے میدان میں کھیل جاری رکھنا پڑا۔
ہنگامی صورتحال میں بل ایتھے نے وکٹ کے پیچھے دستانے سنبھالے، تاہم وہ ماہر وکٹ کیپر نہیں تھے۔
اس کے بعد انگلینڈ کے کپتان ڈیوڈ گاور نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو آج بھی اس میچ کی سب سے دلچسپ یاد ہے۔
لارڈز میں میچ دیکھنے کے لیے موجود انگلینڈ کے سابق عظیم وکٹ کیپر باب ٹیلر کو واپس بلایا گیا۔
ٹیلر 1984 میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہوچکے تھے اور اس وقت سوٹ پہن کر تماشائیوں میں موجود تھے۔
نیوزی لینڈ کے کپتان جیریمی کونی کی رضامندی کے بعد 45 سالہ باب ٹیلر نے فوری طور پر سفید جرسی پہنی دستانے سنبھالے اور میدان میں اتر گئے۔ انہوں نے وکٹ کے پیچھے اپنی پرانی مہارت کا مظاہرہ کیا لیکن اگلے روز وہ دستیاب نہیں تھے۔
بروس فرنچ کی انجری بھی برقرار رہی، جس کے بعد ہیمپشائر کے وکٹ کیپر بوبی پارکس کو ہنگامی طور پر طلب کیا گیا اور انہوں نے میچ کے بقیہ حصے میں وکٹ کیپنگ کی۔
یوں اس ایک ٹیسٹ میں بروس فرنچ، بل ایتھے، باب ٹیلر اور بوبی پارکس نے انگلینڈ کے لیے وکٹ کیپر کے فرائض انجام دیے۔
اس واقعے کی ایک اور دلچسپ کڑی مستقبل کے عظیم انگلش وکٹ کیپر جیک رسل کا نام بھی ہے جو سیریز کے لیے اسٹینڈ بائی کھلاڑی تھے اور دوسری اننگز کے حوالے سے اس غیر معمولی کیپنگ صورتحال کا حصہ بنے تاہم آفیشل اسکور کارڈ میں وکٹ کے پیچھے دستانے پہننے والے چار کھلاڑی بروس فرنچ، بل ایتھے، باب ٹیلر اور بوبی پارکس ہی درج ہیں۔
سب سے حیران کن بات یہ رہی کہ اتنے وکٹ کیپرز بدلنے کے باوجود نیوزی لینڈ کی اننگز میں ان چاروں میں سے کسی ایک نے بھی کیچ نہیں پکڑا۔
لارڈز میں ہونے والا یہ ٹیسٹ بالآخر ڈرا ہوگیا، لیکن میچ کا نتیجہ نہیں بلکہ وکٹ کے پیچھے ہونے والی یہ غیر معمولی تبدیلیاں اسے کرکٹ کی تاریخ کے نایاب ترین واقعات میں شامل کرگئیں۔