سبزی منڈی کے 63 قیمتی پلاٹوں پر قابض مافیا کو نوٹس جاری سیکریٹری مارکیٹ کمیٹی عہدے پر بحال
240 سے 800 اسکوائر فٹ کے آلو پیاز کے8، سبزیوں کے55 پلاٹ شامل ہیں،مارکیٹ کمیٹی نے کمشنرکو غیرالاٹ شدہ پلاٹوں کی۔۔۔
قبضہ کرنے والوں کو قانونی نوٹس بھی دیے جائیں، کمشنر،غیر قانونی کاموں سے انکار پر تبادلہ کیے گئے اشفاق شجرہ عدالتی حکم پر کل چارج سنبھالیں گے۔ فوٹو : فائل
سبزی منڈی میں کروڑوں روپے مالیت کے 63 غیر الاٹ شدہ پلاٹوں پر قبضہ مافیا قابض ہوگیا۔
مارکیٹ کمیٹی نے پلاٹوں پر قابض افراد کو نوٹس جاری کردیے ہیں، پلاٹوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ میں رکاوٹ بننے والے سابق سیکریٹری مارکیٹ کمیٹی عدالت سے بحالی کے بعد منگل کو عہدے کا چارج سنبھال لیں گے، تفصیلات کے مطابق مارکیٹ کمیٹی کے عہدیداروں نے کمشنر کے زیر صدارت اجلاس میں سبزی منڈی کے غیرالاٹ شدہ 63 پلاٹوں کی فہرست پیش کردی ہے،مارکیٹ کمیٹی کے نمائندے نے کمشنر کو بتایا کہ ان پلاٹوں پر قابض افراد کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں اور کچھ پلاٹوں کی ملکیت پر تنازع ہے ۔
جس کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، پلاٹوں میں آلو پیاز سیکشن کے8، سبزی سیکشن کے 55 پلاٹ شامل ہیں، پلاٹوں میں240 سے 800 اسکوائر فٹ کے پلاٹ شامل ہیں جن کی مجموعی مالیت کروڑوں روپے ہے، کمشنر کراچی شعیب صدیقی نے اسسٹنٹ کمشنر گلزار ہجری کو ہدایت کی کہ سبزی منڈی میں قبضہ مافیا اور تجاوزات کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور مارکیٹ کمیٹی کی مرتب کردہ فہرست اور جاری کردہ نوٹسوں کی روشنی میں قانونی نوٹس بھی جاری کیے جائیں، سبزی منڈی میں ایڈمنسٹریٹر کے ناجائز احکام کی تعمیل نہ کرنے کی پاداش میں تبادلے کی سزا بھگتنے والے مارکیٹ کمیٹی کے سیکریٹری اشفاق احمد شجرہ عدالت سے بحالی کے بعد آج عہدے کا چارج سنبھال لیں گے ۔
اشفاق شجرہ نے سبزی منڈی کے 2 پلاٹ غیرقانونی طور پر اعلیٰ افسر کی ایما پر الاٹ کرنے سے انکار کیا تھا جس پر ان کا 24 جولائی کو لاڑکانہ تبادلہ کردیا گیا، اشفاق شجرہ نے اس حکم کے خلاف عدالت عالیہ سے رجوع کیا انھوں نے بتایا کہ ہائی کورٹ نے ان کے تبادلے کو منسوخ کرکے عہدے پر بحال کردیا ہے اور وہ منگل عہدے کا چارج سنبھال لیں گے، سبزی منڈی میں قبضہ مافیا اور سرکاری افسران کے گٹھ جوڑ سے گریڈ 14 کے ملازم کو گریڈ 17 کی آسامی پر تعینات کیا گیا تاہم اخبارات میں خبر چھپنے پر تقرری کو قانونی بنانے کے لیے سیکریٹری زراعت سے حکم نامہ جاری کرایا گیا، تاہم صوبائی وزیر زراعت نے نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ تقرری کالعدم قرار دیدی ہے۔
ذرائع کے مطابق منڈی میں غیرالاٹ شدہ پلاٹوں پر سرکاری افسران کی ملی بھگت سے قبضہ کیا گیا،7 سال کے دوران یہ قبضہ شدہ پلاٹ ایک سے دوسرے ہاتھ فروخت کیے جاتے رہے اور پلاٹوں پر غیرقانونی پختہ تعمیرات بھی کرلی گئیں ، منڈی کی حدود میں خالی اراضی اور سڑکوں کے علاوہ پانی کی ٹنکی، بیت الخلا اور دیگر سہولتوں کیلیے مختص رفاہی پلاٹوں پر بھی قبضہ مافیا قابض ہے۔
مارکیٹ کمیٹی نے پلاٹوں پر قابض افراد کو نوٹس جاری کردیے ہیں، پلاٹوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ میں رکاوٹ بننے والے سابق سیکریٹری مارکیٹ کمیٹی عدالت سے بحالی کے بعد منگل کو عہدے کا چارج سنبھال لیں گے، تفصیلات کے مطابق مارکیٹ کمیٹی کے عہدیداروں نے کمشنر کے زیر صدارت اجلاس میں سبزی منڈی کے غیرالاٹ شدہ 63 پلاٹوں کی فہرست پیش کردی ہے،مارکیٹ کمیٹی کے نمائندے نے کمشنر کو بتایا کہ ان پلاٹوں پر قابض افراد کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں اور کچھ پلاٹوں کی ملکیت پر تنازع ہے ۔
جس کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، پلاٹوں میں آلو پیاز سیکشن کے8، سبزی سیکشن کے 55 پلاٹ شامل ہیں، پلاٹوں میں240 سے 800 اسکوائر فٹ کے پلاٹ شامل ہیں جن کی مجموعی مالیت کروڑوں روپے ہے، کمشنر کراچی شعیب صدیقی نے اسسٹنٹ کمشنر گلزار ہجری کو ہدایت کی کہ سبزی منڈی میں قبضہ مافیا اور تجاوزات کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور مارکیٹ کمیٹی کی مرتب کردہ فہرست اور جاری کردہ نوٹسوں کی روشنی میں قانونی نوٹس بھی جاری کیے جائیں، سبزی منڈی میں ایڈمنسٹریٹر کے ناجائز احکام کی تعمیل نہ کرنے کی پاداش میں تبادلے کی سزا بھگتنے والے مارکیٹ کمیٹی کے سیکریٹری اشفاق احمد شجرہ عدالت سے بحالی کے بعد آج عہدے کا چارج سنبھال لیں گے ۔
اشفاق شجرہ نے سبزی منڈی کے 2 پلاٹ غیرقانونی طور پر اعلیٰ افسر کی ایما پر الاٹ کرنے سے انکار کیا تھا جس پر ان کا 24 جولائی کو لاڑکانہ تبادلہ کردیا گیا، اشفاق شجرہ نے اس حکم کے خلاف عدالت عالیہ سے رجوع کیا انھوں نے بتایا کہ ہائی کورٹ نے ان کے تبادلے کو منسوخ کرکے عہدے پر بحال کردیا ہے اور وہ منگل عہدے کا چارج سنبھال لیں گے، سبزی منڈی میں قبضہ مافیا اور سرکاری افسران کے گٹھ جوڑ سے گریڈ 14 کے ملازم کو گریڈ 17 کی آسامی پر تعینات کیا گیا تاہم اخبارات میں خبر چھپنے پر تقرری کو قانونی بنانے کے لیے سیکریٹری زراعت سے حکم نامہ جاری کرایا گیا، تاہم صوبائی وزیر زراعت نے نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ تقرری کالعدم قرار دیدی ہے۔
ذرائع کے مطابق منڈی میں غیرالاٹ شدہ پلاٹوں پر سرکاری افسران کی ملی بھگت سے قبضہ کیا گیا،7 سال کے دوران یہ قبضہ شدہ پلاٹ ایک سے دوسرے ہاتھ فروخت کیے جاتے رہے اور پلاٹوں پر غیرقانونی پختہ تعمیرات بھی کرلی گئیں ، منڈی کی حدود میں خالی اراضی اور سڑکوں کے علاوہ پانی کی ٹنکی، بیت الخلا اور دیگر سہولتوں کیلیے مختص رفاہی پلاٹوں پر بھی قبضہ مافیا قابض ہے۔