امریکا نے شام کو ریاستی دہشتگردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے نکال دیا

امریکا نے رواں سال جولائی میں ہی شام کو ریاستی دہشتگردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے نکالنے کے ارادے کا اعلان کیا تھا

امریکا نے شام کو ریاستی دہشتگردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے خارج کردیا ہے۔

واشنگٹن کے اس اقدام سے شام پر کئی دہائیوں سے عائد ایک اہم پابندی ختم ہوگئی ہے، جس نے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے شام کو فہرست سے نکالنے کے ساتھ ساتھ النصرہ فرنٹ، جسے بعد میں حیات تحریر الشام کے نام سے جانا گیا، کو عالمی دہشتگرد تنظیم قرار دینے کی اپنی نامزدگی بھی ختم کردی ہے۔

اس کے بعد امریکی محکمہ خزانہ نے شام کے حوالے سے بعض پابندیوں میں نرمی کا عمل بھی شروع کردیا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ اس اقدام سے شام میں مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی اور ملک میں سیاسی و معاشی استحکام کو فروغ مل سکتا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق شام پر عائد پابندیوں میں نرمی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس وعدے کے مطابق کی گئی ہے جس میں انہوں نے شام کو اقتصادی پابندیوں سے ریلیف دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم امریکی حکام نے واضح کیا کہ شام کو فہرست سے نکالنے کا مطلب یہ نہیں کہ واشنگٹن دہشتگردی کے خلاف اپنی پالیسی تبدیل کر رہا ہے۔

امریکی حکام نے کہا کہ شام میں ایسے افراد اور گروہوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی جو دہشتگردی یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں گے۔

حیات تحریر الشام کا سابق نام النصرہ فرنٹ تھا اور یہ تنظیم ماضی میں القاعدہ کی شامی شاخ کے طور پر کام کرتی رہی تھی۔ تاہم 2016 میں اس نے القاعدہ سے تعلق ختم کرنے کا اعلان کیا اور بعد میں اپنی شناخت اور سیاسی مؤقف میں تبدیلی لانے کی کوشش کی۔

امریکا نے رواں سال جولائی میں ہی شام کو ریاستی دہشتگردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے نکالنے کے ارادے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اقدام شام کے موجودہ صدر احمد الشرعہ کی حکومت کے ساتھ امریکی تعلقات میں ممکنہ تبدیلی اور واشنگٹن کی جانب سے دمشق کو اقتصادی و سیاسی طور پر آگے بڑھنے کا موقع دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

شام کو دہشتگردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے نکالنے سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری، تجارت اور اقتصادی بحالی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، تاہم شام کو طویل جنگ کے بعد بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور معاشی مشکلات جیسے بڑے چیلنجز کا اب بھی سامنا ہے۔

Load Next Story