حنا جاوید قتل کیس؛ ماہرہ خان، ہانیہ عامر سمیت شوبز شخصیات نے انصاف کا مطالبہ کر دیا
راولپنڈی میں حنا جاوید کی مبینہ قتل کے واقعے پر پاکستان شوبز انڈسٹری کی متعدد شخصیات نے آواز اٹھاتے ہوئے متاثرہ خاندان سے اظہارِ یکجہتی اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
حنا جاوید 20 اگست کو راولپنڈی میں مردہ پائی گئی تھیں۔ ان کے بھائی فہد کی مدعیت میں حنا کے شوہر اصغر امام، سسر اور گھریلو ملازم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا، کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان پر عائد الزامات تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔
حنا جاوید کے کیس پر ماہرہ خان، ہانیہ عامر، عفت عمر، عثمان خالد بٹ اور ثمر جعفری سمیت کئی شوبز شخصیات نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیا ہے۔
ماہرہ خان
اداکارہ ماہرہ خان نے حنا جاوید کی موت کے حالات پر شدید افسوس اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’’یہ کیسی دنیا ہے؟ ہم کس قسم کے نام نہاد مردوں کی پرورش کر رہے ہیں؟‘‘
ماہرہ نے حنا کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن تعاون کی پیشکش بھی کی اور کہا کہ وہ ان کے دکھ اور نقصان کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔
اداکارہ ہانیہ عامر اور اداکار ثمر جعفری نے بھی حنا جاوید کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔ دونوں فنکاروں نے انسٹاگرام پر ’جسٹس فار حنا‘ پیج کی پوسٹس اپنی اسٹوریز پر شیئر کیں۔
مذکورہ پیج پر حنا کے اہلِ خانہ کی جانب سے ان کے ساتھ مبینہ تشدد اور ناروا سلوک سے متعلق دعوے بھی شیئر کیے گئے ہیں۔
عفت عمر
اداکارہ و ماڈل عفت عمر نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے معاملے کا نوٹس لینے اور خواتین کے خلاف تشدد پر آواز اٹھانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’انصاف کا مطالبہ کرنے والے عام لوگوں کے مقابلے میں وزیراعلیٰ کے پاس اختیار موجود ہے، اس لیے انہیں اسے استعمال کرتے ہوئے متاثرہ خواتین کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔‘‘
عثمان خالد بٹ
اداکار عثمان خالد بٹ نے حنا جاوید کیس کی سامنے آنے والی تفصیلات کو خوفناک قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا اس مرتبہ متاثرہ خاندان کو واقعی انصاف مل سکے گا؟
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات پر عوامی غم و غصہ دیکھنے میں آیا، گرفتاریاں ہوئیں اور انصاف کے مطالبات کیے گئے، مگر ضروری ہے کہ حنا کے اہلِ خانہ کو انصاف کے حصول کے لیے برسوں تک نظام سے نہ لڑنا پڑے۔
مشی خان:
حنا جاوید کیس پر شوبز شخصیات کی جانب سے سامنے آنے والے ردعمل کے بعد سوشل میڈیا پر بھی انصاف اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ کیس کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی واقعے کے حقائق اور ذمہ داری کا حتمی تعین ہو سکے گا۔