ایرانی سرکاری ٹی وی پر ٹرمپ کے بیٹے کو قتل کرنے والے کیلئے 2 ارب روپے سے زائد انعام کا اعلان
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے بیرن ٹرمپ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے سے متعلق مواد دکھائے جانے کے بعد نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
تقریباً تین منٹ کی اس رپورٹ کا محور بیرن ٹرمپ تھے جس میں گرافکس کے ذریعے ان تک رسائی حاصل کرنے کی مبینہ کوششوں، نگرانی، آن لائن سرگرمیوں اور ان کے اردگرد موجود افراد سے متعلق معلومات دکھائی گئیں۔
رپورٹ میں مبینہ طور پر بیرن ٹرمپ کے سوشل روابط کا پتا لگانے اور امریکی خفیہ سروس کی سیکیورٹی کے حصار تک پہنچنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا۔
ایک کروڑ ڈالر انعام کا ذکر
رپورٹ کے اختتام پر مبینہ طور پر ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا ذکر بھی کیا گیا اور کہا گیا کہ بہت سے لوگ یہ رقم حاصل کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر اور ان کے اہلِ خانہ سے متعلق اس نوعیت کا مواد اس سے قبل بھی ایرانی میڈیا میں سامنے آچکا ہے، مگر تازہ نشریات میں براہِ راست ٹرمپ کے بیٹے کو موضوع بنائے جانے کو دھمکی آمیز بیانیے میں ایک نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام ماضی میں ایران سے منسلک افراد پر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر سابق امریکی عہدیداروں کے قتل کی سازشوں کے الزامات بھی عائد کر چکے ہیں۔
امریکی پراسیکیوٹرز نے 2024 میں بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے ایک شخص کو ٹرمپ کے قتل کا منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
واضح رہے کہ سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں کیے گئے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ نشریات میں بھی اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ بیرن ٹرمپ تک پہنچنے کی کوئی کوشش کامیاب ہوئی ہے۔