جاپان نے ’اسلام مخالف قوانین‘ نافذ کر دیے؟ وائرل دعوؤں کی حقیقت جانیے

جاپانی حکام کے مطابق ملک میں ایسا کوئی قانون یا ضابطہ متعارف نہیں کرایا گیا

جاپان میں مساجد، برقع، حلال کھانے اور اذان پر پابندی عائد کیے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے جھوٹے ہیں۔

سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ جاپان نے مبینہ طور پر ’اسلام مخالف قوانین‘ متعارف کرائے ہیں جن کے تحت مساجد، برقع، حلال خوراک اور اذان پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

بین الاقوامی نیوز ایجنسی ریوٹرز کے مطابق جاپان کی وزارت تعلیم، ثقافت، کھیل، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ترجمان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل درست نہیں ہے۔

جاپانی حکام کے مطابق ملک میں ایسا کوئی قانون یا ضابطہ متعارف نہیں کرایا گیا جس کا مقصد مساجد، حلال کھانے، برقع یا اذان پر پابندی عائد کرنا ہو۔ جاپان کے آئین کے آرٹیکل 20 میں تمام افراد کو مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔

جاپان کی نیشنل ٹورازم آرگنائزیشن کے مطابق ملک کے بڑے شہروں میں مساجد موجود ہیں جبکہ اس کی جانب سے مسلمان سیاحوں کو مساجد تلاش کرنے کے لیے معلومات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

ادارے کے مطابق جاپان میں مسلم سیاحوں کے لیے سہولیات میں اضافہ ہوا ہے اور حلال سرٹیفائیڈ ریسٹورنٹس، مسلم فرینڈلی سہولیات، مساجد اور ٹورز بھی دستیاب ہیں۔

Load Next Story