ڈیرہ اسماعیل خان میں بدری تالاب کی بحالی کا کام شروع
ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں برزاولی میں بدری تالاب کی بحالی کا کام شروع کردیا گیا۔
منصوبے کے تحت تالاب سے گاد نکالنے، قدرتی پانی کے راستے بحال کرنے اور اس کی پشتوں کو مضبوط کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق بحالی کے کام کے دوران 415 میٹر قدرتی آبی گزرگاہیں بحال کی جائیں گی، ایک ہیکٹر رقبے پر پھیلے تالاب سے گاد نکالی جائے گی جبکہ 211 میٹر پشتوں کو مضبوط کیا جائے گا۔ ان اقدامات سے تالاب میں تقریباً 20 ہزار مکعب میٹر اضافی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا ہونے کا امکان ہے۔
رِی چارج پاکستان منصوبے کے سینئر ڈائریکٹر محمد فواد حیات نے بتایا کہ منصوبے سے تقریباً 2,957 گھرانوں کو پانی کی دستیابی کے حوالے سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق بدری تالاب کی بحالی کے لیے تکنیکی جائزوں کے بعد کام شروع کیا گیا ہے۔
بدری تالاب علاقے میں موسمی پانی کا ذریعہ ہے اور مقامی آبادی، مویشیوں اور ماحولیاتی نظام کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ تاہم تالاب میں گاد جمع ہونے، پانی کے قدرتی راستوں میں رکاوٹ اور پشتوں کے کٹاؤ کے باعث اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حامد نقی خان نے کہا کہ بارشوں کے غیر معمولی انداز، سیلاب اور خشک سالی کے باعث پاکستان کے آبی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے قدرتی آبی ذخائر کی بحالی بھی ضروری ہے۔
بدری تالاب کی بحالی کا کام 2026 کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ یہ منصوبہ رِی چارج پاکستان کے تحت خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں جاری قدرتی آبی نظام کی بحالی کے اقدامات کا حصہ ہے۔
رِی چارج پاکستان سات سالہ منصوبہ ہے جس کی مجموعی مالیت 72.9 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔ منصوبے میں سیلاب اور خشک سالی کے خطرات کم کرنے، زیر زمین پانی کی سطح بہتر بنانے اور متاثرہ ماحولیاتی نظام کی بحالی کے اقدامات شامل ہیں۔