حکومت کا 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ

اسٹیٹ بینک کے حکام نے بتایا کہ 5 ہزار کا نوٹ 20 سال پہلے بنایا تھا، اب نیا نوٹ اگلے 20 سال کے لیے ڈیزائن کر رہے ہیں،

فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے ملک سے 10 روپے کا کرنسی نوٹ مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک حکام نے بتایا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزئن فائنل کیے جا رہے ہیں۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جہاں چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ دو سال پہلے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کو 5 ہزار روپے کے تین نوٹ دیے تھے، تین نوٹوں میں سے ایک جعلی تھا مگر اسٹیٹ بینک حکام جعلی نوٹ نہیں پکڑ سکے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک حکام نے دو سال بعد 5 ہزار روپے کے تینوں نوٹ آج تک واپس نہیں کیے، چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا کے ریمارکس پر کمیٹی میں قہقہے لگ گئے۔

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کنسلٹنٹ کو چھپائی کا کنٹریکٹ دے دیا گیا ہے، اسٹیٹ بینک دو سال سے نئے کرنسی نوٹ تیار نہیں کر سکا، اسٹیٹ بینک کا حال تو حکومت سے بھی برا ہے۔

اسٹیٹ بینک حکام نے کہا کہ 5 ہزار کا نوٹ 20 سال پہلے بنایا تھا، اب نیا نوٹ اگلے 20 سال کے لیے ڈیزائن کر رہے ہیں، ایک تجویز ہے 10 روپے کے نوٹ کو ختم کریں کیونکہ اس کی لاگت زیادہ پڑتی ہے۔

رکن کمیٹی انوشہ رحمان نے کہا کہ  اسٹیٹ بینک اے آئی کا استعمال کیوں نہیں کرتا، اسٹیٹ بینک نے کابینہ کی ایک ذیلی کمیٹی سے ڈیزائن منظور کرایا ہے جس طرح آپ کام کر رہے لگتا ہے پھر اور ٹائم لگے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ اتنے مہینے لگا کر ایک ڈیزائن ذیلی کمیٹی سے منظور کرائیں گے، کابینہ کمیٹی نے کوئی تبدیلی کی تو پھر آپ کو ذیلی کمیٹی میں جانا پڑے گا۔

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ جس طرح لگے ہیں ہماری ٹرم ختم ہو جائے گی مگر نوٹ نہیں بنیں گے۔

اسٹیٹ بینک حکام نے بتایا کہ کابینہ کمیٹی نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن فائنل کر رہی ہے اور 10 روپے کا نوٹ مرحلہ وار ختم کر رہے ہیں، نئے کرنسی نوٹوں میں سیکیورٹی فیچر ڈال رہے ہیں، 5 ہزار اور ایک ہزار روپے کے نوٹ کی تیاری پر 14 روپے لاگت آتی ہے۔

چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ جس رفتار سےنیا نوٹ ڈیزائن ہو رہا ہے خدشہ ہے ہماری مدت ختم ہو جائےگی اور نیا نوٹ نہیں بن پائےگا۔

Load Next Story