وزیراعظم اپنا گھر ہاؤسنگ اسکیم کے درخواست گزاروں کی تعداد میں 52 فیصد اضافہ

ہاؤسنگ فنانس جون کے اختتام پر 294 ارب روپے سے بڑھ کر اگست کے وسط تک 307 ارب روپے ہوگیا

وزارت خزانہ کے مطابق وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے لیے درخواست گزاروں کی تعداد میں 52 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق فنانس تک رسائی کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس منگل کو یہاں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت  منعقد ہوااجلاس میں ہاؤسنگ، زراعت، ایس ایم ایز، برآمدات، آئی ٹی اور قابلِ تجدید توانائی سمیت ترجیحی شعبوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ہاؤسنگ فنانس جون کے اختتام پر 294 ارب روپے سے بڑھ کر اگست کے وسط تک 307 ارب روپے ہوگیا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت جون سے درخواستوں میں 52 فیصد اضافہ ہوا اور درخواستیں تقریباً ایک لاکھ انتالیس ہزار تک پہنچ گئیں۔ وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ اپنا گھر پروگرام کے تحت منظور شدہ درخواستوں میں 84 فیصد اضافہ ہوا اور تعداد 46,000 سے تجاوز کرگئی ہے۔

اس کے علاوہ اجلاس میں وفاقی حکومت نے زراعت اور ایس ایم ای فنانسنگ کو جون 2027 تک 1.5 ٹریلین روپے اور جون 2028 تک 2 ٹریلین روپے تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا اور  فنانس تک رسائی کمیٹی نے حکومت کے برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے ایجنڈے سے منسلک کرنے پر خصوصی زور دیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالیاتی شعبے کی استعداد کو پیداواری سرمایہ کاری، کاروبار کے فروغ، گھر کی ملکیت، زرعی پیداوار اور برآمدات کی جانب منتقل کرنے پر زور دیا۔

بتایا کہ ہاؤسنگ فنانس جون کے اختتام پر 294 ارب روپے سے بڑھ کر اگست کے وسط تک 307 ارب روپے ہوگیا ہے۔ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت جون سے درخواستوں میں 52 فیصد اضافہ ہوا اور درخواستیں تقریباً ایک لاکھ انتالیس ہزار تک پہنچ گئیں اپنا گھر پروگرام کے تحت منظور شدہ درخواستوں میں 84 فیصد اضافہ ہوا اور تعداد 46,000 سے تجاوز کرگئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے تحت منظور شدہ فنانسنگ 144 ارب روپے سے تقریباً دوگنا ہوکر 279 ارب روپے تک پہنچ گئی ،اپنا گھر پروگرام کے تحت جاری کیے گئے قرضوں کی تعداد میں 59 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 7,600 سے تجاوز کرگئی جبکہ مجموعی رقم 38 ارب روپے سے زائد ہوگئی۔

اجلاس میں ہاؤسنگ فنانس کے فروغ کے لیے اسٹیٹ بینک کے نظرثانی شدہ پروڈینشل ریگولیشنز سمیت اہم قانونی و ریگولیٹری اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ہاؤسنگ فنانس میں 90:10 قرض تا قدرِ جائیداد تناسب، 65 فیصد قرض بوجھ تناسب اور غیر رسمی آمدن کی جانچ کے نئے طریقہ کار شامل کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ جائیداد کی قدر کے تعین اور دستاویزات کو آسان بنانے، ڈیجیٹل عمل اور طویل مدتی فنانسنگ کی سہولت پر بھی پیش رفت ہوئی فنانشل انسٹی ٹیوشنز (ریکوری آف فنانسز) ترمیمی ایکٹ 2026 کی منظوری کو رہن پر مبنی قرضوں کی وصولی اور نفاذ کے قانونی نظام میں اہم اصلاح قرار دیا گیا۔

Load Next Story