اسوۃ حسنہ: دنیا و آخرت میں انسانیت کی نجات کا ذریعہ

کائنات کی تخلیق کا مقصد اگر کسی ایک وجود میں سمٹ آیا ہو تو وہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے

اسلام نے اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے اور آپس میں تفرقہ ڈالنے سے سختی سے منع فرمایا ہے فوٹو : فائل

چھٹی صدی عیسوی کا عرب، جہالت، ظلم اور تاریکی کی گہری دلدل میں دھنسا ہوا تھا۔ بیٹیاں زندہ دفن کی جاتی تھیں، غلاموں کی کوئی حیثیت نہ تھی، طاقتور کمزور کو نگل جاتا تھا، خانہ کعبہ میں بتوں کی پوجا ہوتی تھی ، دلوں میں بسنے والا مدینہ دکھوں اور مصیبتوں پر مشتمل یثرب تھا۔

ایسے میں ماہ ربیع الاول میں مکہ مکرمہ کی فضاؤں میں ایک ایسی روشنی پھوٹی جس نے صدیوں کی تاریکی کو پل بھر میں مٹا دیا۔

سید البشر، امام الانبیا، سرور کائنات جناب حضرت محمد مصطفیﷺ کی ذات مبارکہ کی آمد کی چاندنی، جس نے تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو وہ نور بخشا جو رہتی دنیا تک بجھنے والا نہیں۔

کائنات کی تخلیق کا مقصد اگر کسی ایک وجود میں سمٹ آیا ہو تو وہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔ یہ وہ ہستی ہیں جن کے لیے کہا گیا ’اگر آپﷺ نہ ہوتے تو یہ کائنات ہی تخلیق نہ کی جاتی‘۔

سیرتِ نبیﷺ محض ایک تاریخی سوانح حیات نہیں، بلکہ یہ عشق کی وہ کتاب ہے جس کا ہر ورق روشنی سے منور ہے، ہر سطر رحمت سے لبریز ہے اور ہر لفظ محبت کی وہ زبان بولتا ہے جو انسانیت کے دل کی گہرائیوں تک اترتی ہے۔

آپﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ چکا تھا۔ اس کے بعد بچپن ہی میں والدہ کا دامنِ شفقت بھی چھن گیا۔ یتیمی، غربت اور بے سروسامانی ، مگر ان حالات میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی پرورش کو اپنی خاص نگہداشت میں رکھا۔ یہ گویا اس بات کا اعلان تھا کہ جو ہستی دنیا کے یتیموں، بے کسوں اور مظلوموں کی سرپرست بننے والی ہے، وہ خود بھی ان تجربات سے گزرے گی ۔

نبوت سے پہلے ہی مکہ کے کوچوں میں آپﷺ کا نام ’الصادق‘ اور ’الامین‘ کے طور پر گونجتا تھا۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں جھوٹ، دھوکا اور فریب عام تھا، وہاں ایک نوجوان کی سچائی اتنی نمایاں ہو جائے کہ دشمن بھی اپنی امانت ان کے پاس رکھوانے پر مجبور ہو جائیں ۔

یہی وہ بنیاد تھی جس پر بعد میں پوری امت کی عمارت تعمیر ہوئی۔ یہ ہمارے لیے گہرا سبق ہے کہ کردار کی تعمیر تبلیغ سے پہلے ہوتی ہے، زبان سے پہلے عمل بولتا ہے اور عمل کی خوشبو الفاظ سے زیادہ دور تک پہنچتی ہے۔

غارِ حرا کی وہ تنہا راتیں، جہاں آپﷺ کائنات کے اسرار میں غور و فکر کیا کرتے تھے، ایک ایسی روحانی ریاضت کی داستان ہیں جو ہر متلاشیِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ تنہائی فرار نہیں تھی، بلکہ یہ اس عظیم ذمہ داری کی تیاری تھی جو عنقریب آپﷺ کو سونپی جانے والی تھی۔

جب جبرائیل امین ’اقراء‘ کی صدا لے کر آئے، تو وہ لمحہ کائنات کی روح میں ایک نئی دھڑکن کا آغاز تھا۔ علم کا وہ پہلا حرف، جس سے قرآن کا نزول شروع ہوا، آج بھی ہر انسان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ روشنی کی تلاش، غور و فکر اور علم کی طلب ایمان کی بنیاد ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: ’ بے شک آپ عظیم اخلاق پر ہیں‘۔یہی وہ سند ہے جو خود خالقِ کائنات نے اپنے محبوبﷺ کو عطا کی اور انہیں رحمۃ للعالمین قرار دیا۔ طائف کی وادی میں عفودرگزر، فتح مکہ کی معافی، یتیموں اور غریبوں سے شفقت، جانوروں پر رحم اور ایسے بے شمار واقعات ہیں جو بتاتے ہیں کہ آپﷺ کی رحمت کسی ایک قوم، ایک زمانے یا ایک طبقے تک محدود نہیں، بلکہ آپﷺ کی ذات انسانیت کے لیے رحمت کا وہ دریا ہے جس کا فیض قیامت تک جاری ہے۔

عشقِ رسول محض نعت خوانی یا میلاد کی محفلوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس بات کا نام ہے کہ ہم اپنے کردار، اپنے معاملات، اپنی گفتگو اور اپنے رویوں میں آپﷺ کے نقشِ قدم کو زندہ کریں۔

آپ ﷺ کی تعلیمات کسی ایک شعبۂ زندگی تک محدود نہیں بلکہ عبادت گزار بھی، مجاہد بھی، منصف بھی، شوہر بھی، باپ بھی، دوست بھی، رہنما بھی، تاجر بھی گویا ایک مکمل ضابطۂ حیات ہیں ۔

عبادات میں اعتدال ، معاشرت انصاف، علم کی اہمیت، حقوق نسواں اور معاشرتی دیانتداری وغیرہ رسول اللہﷺ کی وہ تعلیمات ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام محض روحانیت نہیں بلکہ عملی زندگی کا مکمل نظام ہے۔

آج کا انسان جو نفسا نفسی، مادیت پرستی اور روحانی خلا کا شکار ہے، اسے سیرتِ نبیﷺ میں وہ سکون مل سکتا ہے جس کی تلاش میں وہ بھٹک رہا ہے۔ آپﷺ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

• کامیابی کا معیار دولت نہیں بلکہ کردار ہے۔

• طاقت کا اصل استعمال معافی اور رحمت میں ہے، انتقام میں نہیں۔

• محبت کسی نسل، رنگ یا قوم کی محتاج نہیں۔

• عاجزی، بلندیِ مقام کے باوجود، انسان کا حقیقی زیور ہے۔

جب ہم سیرتِ نبیﷺ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ صرف واقعات کی ترتیب نہیں بلکہ ایک روحانی سفر ہے جو دل کو جھنجھوڑتا ہے، آنکھوں کو نم کرتا ہے اور روح کو جِلا بخشتا ہے۔

جب کوئی محبت سے درود پڑھتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ گویا وہ حضور ﷺ کے دربار میں حاضر ہے۔

یہ عشق اور اسوۃ ہی وہ سرمایہ ہے جو دنیا و آخرت میں انسان کی نجات کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دل آپﷺ کی محبت سے بھر دے اور آپﷺ سیرت کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔


نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story