اسپین کی امیگریشن قوانین سخت کرنے کی تیاری؛ ویزا اور امیگریشن کا نیا طریقہ کیا ہوگا؟

مراکش سے تقریباً 72 ہزار افراد کے سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش میں متعدد ہلاکتوں کے بعد نئی پالیسی لائی گئی

اسپین کی ویزا پالیسی میں کیا تبدیلی ہوئی ہے

اسپین نے ملک کے امیگریشن اور پناہ گزینوں کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری شروع کردی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہسپانوی حکومت نے امیگریشن قانون میں ترمیم اور نئی پناہ گزین قانون سازی کے مسودے کی منظوری دیدی ہے۔

جس کا بنیادی مقصد ملکی قوانین کو یورپی یونین کے نئے پیکٹ برائے ہجرت و پناہ سے ہم آہنگ کرنا، پناہ کی درخواستوں کا عمل تیز کرنا اور سرحدوں پر آنے والے افراد کی جانچ پڑتال کو زیادہ منظم بنانا ہے۔

ہسپانوی حکام نے بتایا کہ مجوزہ قانون کا مقصد صرف سرحدوں پر سختی کرنا نہیں بلکہ امیگریشن اور پناہ کے پورے نظام کو یورپی قوانین سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

اس نئے نظام کے تحت یورپی یونین کی بیرونی سرحد عبور کرنے والے ایسے غیر ملکیوں کی ابتدائی اسکریننگ یا ٹرائیج کی جائے گی جو داخلے کی شرائط پوری نہیں کرتے۔

اس مرحلے میں طبی معائنہ، کمزور یا خصوصی تحفظ کے محتاج افراد کی شناخت، شناختی معلومات اور بائیومیٹرک ڈیٹا کا اندراج، سکیورٹی چیک اور متعلقہ طریقہ کار کی طرف منتقلی شامل ہوگی۔

اگر کسی شخص کی بین الاقوامی تحفظ یا پناہ کی درخواست مسترد ہوجاتی ہے تو نئے نظام میں اسے فیصلے کے ساتھ ہی ملک چھوڑنے کی ذمہ داری سے آگاہ کیا جاسکے گا۔

حکام نے مزید بتایا کہ اس سے مختلف اداروں کے درمیان کارروائی کو زیادہ مربوط بنانے میں مدد ملے گی۔ 

پناہ اور مائیگریشن کیلیے نئی درخواست کا طریقہ کار 

اسپین نئی پناہ گزین قانون کے ذریعے درخواستوں کے طریقہ کار کو بھی زیادہ تیز اور مؤثر بنانا چاہتا ہے۔

مجوزہ قانون میں پناہ کے متلاشی افراد کے قانونی تحفظات کو برقرار رکھنے کے ساتھ درخواستوں کی جانچ اور فیصلوں کے عمل کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

نئے مسودے میں پناہ گزین، پناہ گزین کا درجہ اور ذیلی تحفظ کی تعریفوں کو بھی زیادہ واضح کیا گیا ہے۔

جنس، صنفی شناخت، معذوری اور مسلح تنازعات کے دوران شہریوں کو لاحق سنگین خطرات جیسے معاملات کو بھی قانونی فریم ورک میں زیادہ واضح طور پر شامل کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق پناہ کے درخواست گزاروں کے لیے بنیادی سہولیات، طبی امداد، بچوں کی تعلیم، کام کرنے کی اجازت اور خصوصی ضروریات رکھنے والے افراد کی دیکھ بھال سے متعلق ضمانتیں بھی نظام کا حصہ رہیں گی۔

اسپین جانے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم بات

جو پاکستانی یا دیگر غیر ملکی قانونی طور پر اسپین جانا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نئی قانون سازی کا مطلب اسپین میں قانونی ہجرت کے تمام راستے بند ہونا نہیں ہے۔

اسپین میں کام، تعلیم، خاندانی بنیادوں اور دیگر مخصوص مقاصد کے لیے مختلف اقسام کے ویزے اور رہائشی اجازت نامے موجود ہیں۔ تاہم ہر اجازت نامے کے لیے الگ شرائط، دستاویزات اور درخواست کا طریقہ کار ہوتا ہے۔

اسی طرح غیر قانونی طور پر اسپین میں داخل ہونا یا ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کرنا قانونی مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ اسپین جانے کے خواہشمند افراد کو سفر سے پہلے متعلقہ ویزا اور رہائشی اجازت نامے کی تازہ شرائط ضرور دیکھنی چاہئیں۔

مثال کے طور پر اسپین کی وزارتِ شمولیت، سوشل سکیورٹی اور ہجرت کے مطابق بعض غیر معمولی حالات میں رہائش کی اجازت کے لیے مخصوص شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔

ایک مخصوص ’’سوشل روٹنگ‘‘ کے راستے میں اسپین میں کم از کم دو سال مسلسل موجودگی، بعض خاندانی یا سماجی انضمام کی شرائط اور دیگر تقاضے شامل ہیں۔

سیوٹا بحران نے حکومت پر دباؤ بڑھایا

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی افریقا میں واقع اسپین کے علاقے سیوٹا کو حالیہ ہفتوں میں غیر معمولی تارکین وطن بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یاد رہے کہ 30 جولائی کو تقریباً 72 ہزار افراد نے مراکش سے سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد ہزاروں افراد کے واپس جانے کے باوجود بڑی تعداد اب بھی سیوٹا میں موجود ہے۔ اس بحران نے اسپین کے امیگریشن نظام پر دباؤ مزید نمایاں کردیا ہے۔

ہزاروں افراد کی اچانک آمد کے بعد سیوٹا میں رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات پر بوجھ بڑھ گیا۔ ہزاروں افراد اب بھی عارضی مقامات یا کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔

حکومت نے بحران سے نمٹنے کے لیے عارضی انتظامات کیے ہیں جبکہ غیر ہمراہ نابالغوں کی صورتحال بھی ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں اسپین نے سیوٹا میں موجود بعض نابالغ تارکین وطن کو سرزمین اسپین منتقل کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ 

یورپی یونین کا نیا نظام بھی نافذ

اسپین کی اصلاحات کو صرف حالیہ سیوٹا بحران کا ردعمل سمجھنا مکمل تصویر نہیں ہوگی۔ یورپی یونین کا مائیگریشن اور پناہ گزین کا نیا نظام 12 جون 2026 سے لاگو ہوچکا ہے جس کے تحت رکن ممالک کو سرحدی جانچ، پناہ کی درخواستوں، ذمہ داری کی تقسیم اور واپسی کے نظام میں نئی مشترکہ قواعد اپنانے ہیں

کیا یہ قانون فوری طور پر نافذ ہوگیا ہے؟

ابھی فی الحال حکومت نے قانونی مسودوں کی منظوری دی ہے لیکن انہیں پارلیمانی عمل سے گزرنا ہوگا۔ اس لیے اسپین جانے کے خواہشمند افراد کو اس مرحلے پر یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر مجوزہ تبدیلی فوری طور پر نافذ شدہ قانون نہیں ہے۔

البتہ یورپی یونین کا نیا ہجرت و پناہ کا فریم ورک پہلے ہی نافذ ہوچکا ہے اور اسپین اسی کے مطابق اپنے قوانین اور طریقہ کار کو اپ ڈیٹ کررہا ہے۔

Load Next Story