ایران پر نیا امریکی حملہ رک گیا؟ مارکو روبیو نے اتحادیوں کو بڑا پیغام دے دیا

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی حال ہی میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر اقتصادی کارروائی کا اعلان کیا تھا

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کئی اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ کو بتایا ہے کہ فی الحال امریکا کی جانب سے ایران پر مزید فوجی حملے کیے جانے کا امکان نہیں ہے اور واشنگٹن آنے والے عرصے میں تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے دیگر ذرائع استعمال کرے گا۔

رائٹرز کے مطابق امریکی عہدیداروں کے حوالے سے ایکسس نے رپورٹ کیا ہے کہ مارکو روبیو نے حالیہ دنوں میں متعدد اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطوں کے دوران موجودہ امریکی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق روبیو نے واضح کیا کہ فی الوقت امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف نئے حملے متوقع نہیں ہیں۔ اس کے بجائے واشنگٹن ایران پر دباؤ برقرار رکھنے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اقتصادی، سفارتی اور دیگر ذرائع استعمال کرنے پر توجہ دے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ اور کشیدگی کے بعد واشنگٹن نے تہران کے خلاف اقتصادی دباؤ میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ ایران کی مالی سرگرمیوں، تیل کی تجارت اور دیگر معاشی ذرائع پر پابندیاں سخت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی حال ہی میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر اقتصادی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کی جنگی اور مالی صلاحیتوں کو محدود کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے واضح کیا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے امکان کو مکمل طور پر خارج نہیں کررہا۔ ان کے مطابق اگر ضرورت محسوس ہوئی تو امریکی فوج دوبارہ حملے کرسکتی ہے۔

مارکو روبیو کا اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ کو تازہ پیغام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا نے کم از کم موجودہ مرحلے میں فوجی حملوں کے بجائے دیگر ذرائع سے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کو ترجیح دی ہے۔

تاہم امریکی حکمت عملی میں تبدیلی کو مستقل جنگ بندی یا فوجی کارروائی کے خاتمے کا اعلان قرار نہیں دیا گیا۔ امریکی حکام کی جانب سے پہلے ہی یہ مؤقف سامنے آچکا ہے کہ ضرورت پڑنے پر واشنگٹن ایران کے خلاف دوبارہ فوجی طاقت استعمال کرسکتا ہے۔

ایران کے لیے اقتصادی دباؤ بھی ایک بڑا چیلنج ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک کو تیل کی برآمدات، کرنسی کی قدر میں کمی اور بین الاقوامی مالیاتی لین دین سے متعلق مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکی پالیسی میں یہ عارضی تبدیلی خطے میں سفارتی کوششوں کے لیے بھی اہم ہوسکتی ہے، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں۔ آئندہ دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ واشنگٹن کا اقتصادی اور سفارتی دباؤ تہران کے رویے پر کس حد تک اثرانداز ہوتا ہے۔

Load Next Story