ایران عمان مذاکرات سے تیل کی قیمتیں 2 ڈالر سے زیادہ گر گئیں، آبنائے ہرمز کھلنے کی امید
لندن: ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات کی بحالی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آگئی ہے۔ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی پابندیاں کم ہوسکتی ہیں اور عالمی توانائی کی سپلائی میں بہتری آسکتی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز ابتدائی کاروبار میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2 ڈالر 30 سینٹ، یعنی تقریباً 2.6 فیصد کمی ہوئی اور یہ 86.28 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ اس سے قبل برینٹ کی قیمت 13 اگست کے بعد اپنی کم ترین سطح تک بھی پہنچ گئی تھی۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی 2 ڈالر 8 سینٹ، یعنی 2.53 فیصد کم ہوکر 80.29 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت اس سے قبل 10 اگست کے بعد کی کم ترین سطح تک گر گئی تھی۔
تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ ایک روز قبل بھی جاری رہا تھا۔ منگل کو برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں عالمی بینچ مارکس کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
مارکیٹ میں حالیہ کمی کی بڑی وجہ ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی بات چیت کو قرار دیا جارہا ہے۔ مذاکرات سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ آبنائے ہرمز میں موجود بحری اور تجارتی رکاوٹیں کم ہوسکتی ہیں اور تیل کی ترسیل معمول پر آسکتی ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اس لیے آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا بحری آمدورفت میں رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈی پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
حالیہ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھے تھے۔ ان خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی، تاہم ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کی بحالی نے سرمایہ کاروں کو کچھ اطمینان فراہم کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو مکمل یا جزوی طور پر دوبارہ کھولنے میں پیش رفت ہوتی ہے تو تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات مزید کم ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آنے کا امکان ہے۔
تاہم مارکیٹ اب بھی ایران اور عمان کے مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اگر مذاکرات میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے یا خطے میں فوجی کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی آسکتی ہے۔
ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کی پیش رفت نہ صرف مشرق وسطیٰ کی صورتحال بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے بھی اہم سمجھی جارہی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا عالمی سطح پر تیل کی مسلسل ترسیل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔