نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب کی وجہ زلزلہ نہیں بلکہ کچھ اور تھا: امریکی ادارے نے بتادیا
نیپال میں بدھ کی صبح محسوس کیے جانے والے شدید جھٹکے کے بارے میں امریکی جیولوجیکل سروے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ زلزلہ نہیں تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صبح 8 بج کر 37 منٹ پر نیپال اور چین کی سرحد کے قریب، دارالحکومت کھٹمنڈو کے شمال میں، زمین میں شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔
امریکی جیولوجیکل سروے USGS نے ابتدائی طور پر ان جھٹکوں کو 4.4 شدت کے زلزلے کے طور پر رپورٹ کیا تھا۔ تاہم اب وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ زلزلے کے بجائے ایک غیر معمولی طور پر طاقتور لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تھی جس کی وجہ سے زمین لرزنے کے جھٹکے پیدا ہوئے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کی رپورٹ کے مطابق برف اور چٹانوں کا ایک بڑا تودہ پہاڑی ڈھلوان سے نیچے گرا اور لھینڈے کھولا دریا میں جا گرا۔ یہ دریا آگے چل کر بھوٹے کوشی دریا سے ملتا ہے جو چین سے نیپال کی جانب بہتا ہے اور کئی مقامات پر گہری وادیوں سے گزرتا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق اس لینڈ سلائیڈنگ سے پیدا ہونے والی لرزش اتنی شدید تھی کہ اسے 5.2 شدت کے زلزلے کے برابر ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ بعض اوقات اتنی توانائی خارج کر سکتی ہے کہ اس کے نتیجے میں زلزلے جیسی زمین کی لرزش محسوس ہوتی ہے تاہم اس کی وجہ زیرِ زمین ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت نہیں بلکہ زمین، چٹانوں اور برف کے بڑے پیمانے کا اچانک حرکت کرنا ہوتا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب نیپال کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب کے باعث بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ حکام کو پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب اور دیگر قدرتی خطرات کے باعث اضافی احتیاط کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔